30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)ان اینٹوں کا دوسری مسجدمیں دینا حرام ہے اسی مسجد کی تعمیر میں صرف کی جائیں،اور اگر اس مسجد کی تعمیر میں ان کی حاجت نہ ہو مثلًادیوار شکستہ بن چکی یا اور مضبوط اینٹوں یا پتھروں سے بنانے کا ارادہ ہے تو انہیں متولی یا متدین جماعت محلہ بکمال امانت ودیانت بیچ کر اسی مسجد کی تعمیر ہی میں صرف کریں مسجد کے دوسرے کام میں اس قیمت کا خرچ کرنا حرام ہوگا والتفصیل الکامل فی فتاوٰنا(تفصیل کامل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)
(۲)ان انقاض کا دوسری مسجد میں دے دینا حرام ہے کسی کی اجازت سے نہیں دے سکتے ہاں جب کہ یہ مسجدان سے مستغنی ہے تو بیع کئے جائیں اور دوسری مسجد کے ہاتھ بیع کرنا اولٰی ہے کہ بدستور معظم رہیں گے وہ قیمت اسی مسجد کی تعمیر میں صرف ہو اور اس وقت تعمیر کی حاجت نہ ہو تو متولی امین متدین کے پاس اسی مسجد کی حاجت تعمیر کےلئے امانت رہے اور کام میں صرف کرنا ہر گز جائز نہیں۔بیع متولی کرے اگر وہ نہ ہو تو امین متدین جماعت محلہ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۳۲۹: ازسر شتہ اسلام کمیٹی آگرہ جامع مسجد مسئولہ عبدالرشید سرشتہ دار کمیٹی ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س بارے میں کہ نماز یان مسجد کی رائے ہے کہ صحن مسجد کی توسیع کےلئے دکانات متعلقہ مسجد کی چھت پرایك کمرہ تعمیر کیا جائے تا کہ اوپر کی چھت پر مسجد کا صحن ہوجائے اور نیچے اس کے ایك کمرہ ہوجائے مسجد بہت اونچی ہے جب دکانوں پر کمرہ بنے گا تو کمرہ کی چھت صحن مسجد سے برابر ملے گی،اس طرح توسیع صحن کرنا جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
جائز ہے،اس میں کوئی حرج نہیں،اور مسجد جب بھرجائے تو اس کمرے کی چھت پر پڑھنے والوں کو بھی مسجد ہی کا ثواب ملے گا اگرچہ وہ کمرہ صرف وقف علی المسجد رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۳۳۰: ازدو کوہہ ڈاك خانہ چھاؤنی جالندھری مسئولہ سید حاجی منور شاہ ۲۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں میں ایك مسجد تقریبًا پچاس برس سے موجود ہے جس کو اس گاؤں کے اہل سنت نے مل کر تعمیر کیا تھا جب سے اب تك ہر نماز اس میں ادا کرتے ہیں چند سال سے اس گاؤں میں چند لوگ رافضی ہوجانے کے سبب اہلسنت سے ہمیشہ چھیڑ چھاڑ رکھتے ہیں کچھ عرصہ سے ان لوگوں نے اس بناپر کہ اس مسجد کی تعمیر میں ہمارے آباواجداد بھی شامل تھے اس لئے ہمیں بھی اذان و نماز کا حق حاصل ہے،قرائن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مسجد پر قبضہ کرلینا چاہتے ہیں اور سنیوں کو بے تعلق کرنا منظور ہے،جھگڑے فساد کا یقین کامل ہے،استفتاء یہ ہے کہ مسجد مذکور میں اہلسنت وروافض اذان ونماز اداکرسکتے ہیں یانہیں اور روافض کے سنی آبا واجداد کے تعمیر مسجد میں شریك ہونے سے انہیں مسجدپر دخل وتصرف کا حق حاصل ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
روافض زمانہ علی العموم کفار مرتدین ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ بما لامزید علیہ(جیسا کہ ہم اس کی تحقیق اپنے رسالہ"ردالرفضہ"میں اس انداز سے کرچکے ہیں جس پر کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ت)فتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
الرافضی اذاکان یسب الشیخین اویلعنھما والعیاذ باﷲ فھو کافر[1]۔
رافضی جب شیخین کریمین(صدیق وعمر)رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو گالیاں بکے یاان پرلعنت بھیجے تو وہ کافر ہے(ت)
قال اﷲ تعالٰی ” اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ "[2]۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا:اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں۔(ت)
نہ ان کی اذان اذان،نہ ان کی نماز نماز۔
قال اﷲ تعالٰی ” وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا(۲۳)"[3]
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:جو کچھ انہوں نے کام کئے تھےہم نے قصد فرماکر انہیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔ (ت)
اور ان کے باپ دادا جبکہ اہلسنت تھے ا ورانہوں نے مذہب رفض اختیار کیا تو نہ وہ ان کے باپ رہے نہ یہ ان کی اولاد،نہ ان کے ذریعہ سے انہیں کوئی دعوٰی پہنچتا ہے،
قال اﷲ تعالٰی " اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ-اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﲦ "[4]۔واﷲتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اے نوح ! وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بیشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۳۱: ۱۶محرم الحرام۱۳۳۴ھ
عبدالکریم خاں نے جو وارث چھوڑے وہ حسب تفصیل ہیں:عبدالشکورخاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران ومسماۃ مندھو زوجہ اپنے کو چھوڑا۔ایك منزل مکان عبدالکریم خان نے اپنے زوجہ کو بعوض دین مہر کے دیا اور اس کا بیعنامہ مسماۃ مندھو کے نام تحریر کردیا۔مسماۃ مندھو نے اس مکان کو بدست فدا حسین خاں ولد کالے خاں کے بیع کردیا جس کا لا دعوی مسماۃ مشہدی سے لکھوایاگیا۔مسماۃ مندھونے جو وارث چھوڑے حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالشکور خاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران عبدالنبی خان فوت ہوئے انکے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالنبی خان وعلی محمد خاں وولی محمد خاں پسران۔عبدالنبی خاں ومسماۃ کناومسماۃ اولیا بیگم زوجہ عبدالنبی خاں اور دختران عمراؤ واقبال کو چھوڑا۔عبدالحکیم خان فوت ہوئے اس کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:حاجی عبدالرحمٰن وعبدالرحیم خان ننھے خان پسران عبدالحکیم خان ولایتی بیگم وچھوٹی بیگم دختران عبدالحکیم خان وزوجہ معلوم کو چھوڑا۔کالے خان فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:فدا حسین خاں پسر کالے خان کو اپنا وارث چھوڑا۔فدا حسین خاں فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:زوجہ اولٰی کا انتقال فدا حسین خان کے سامنے ہوگیا تھا،یہ نہیں معلوم کہ دین مہر ادا ہوایا معاف ہوا اور زوجہ اولٰی کے فوت ہونے کے بعد زوجہ ثانی کے ساتھ عقد ہوا جس کانام مشہدی بیگم ہے۔مسماۃ مشہدی بیگم نے مہر معاف نہیں کیا ہے۔زوجہ مشہدی بیگم لاولد اور زوجہ اولٰی بھی لاولد اور ایك چچاحقیقی عبدالشکور خان وعبدالمجید خاں وعبدالوحید خاں وعبدالعزیز خان پسران عبدالشکور خان اور چچازاد بھائی عبدالغنی خان وعلی محمد خان وولی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع