دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۴)اگرخالد وقف بھی کرنا چاہے تو وقف مانا جائے یا کوئی صورت عارض ہوگی حالانکہ خالد نے چندہ شہر اور باہر سے خدا واسطے مانگ کر لایا اور لگایا اور اپنا وقت سفر اور حضر بلا معاوضہ صرف کیا خالد جو کہ اول سے بانی اور متولی مدرسہ ہے بلاوجہ شرعیہ گروہ جہال جنہوں نے چندہ دیایانہ دیا ہو الگ کرسکتے ہیں ذاتی عداوت سے۔

(۵)سواد اعظم میں گروہ جہال مانے جائیں گے یا پڑھے لکھے پابند اسلام؟

نقل بیعنامہ

تحریر از طرف پٹھان حسن خاں وحاجی محمدخان پسران خواجو خاں سکنہ شہر بنام جملہ انجمن والان مسمی رحیم بخش جی چڑوہ رنگریز،مولوی سید شمس الدین جی،مہاوت موتی خاں جی،الہ بخش جی،رسالدار حسن خاں جی،قاضی احمد علی،حاجی محمد فاضل جی شہر والوں کے روپیہ(ال سالہ للعہ ۱۶۴۱)اودے پوری دینا جس کے بدلہ میرے باپونیکی جگہ نیم سیم سمیت مع چبوترہ وجملہ حقوق بخشش کردئے اور قابض ومتصرف بھی کرادیا روپیہ اس طرح پر لئے(۱ل معہ معہ۱۰۷۷)تو پٹھان عمر خاں نیاز محمد خان کو رہن کے آپ نے چکائے وتحریرات رہن آپ نے لے لی اور مبلغ(مال مہ معہ ۲۷۵)چوڑی گر محمد علی کو بابت دعوٰی دیوانی کے آپ چکا ناکم دو یا زیادہ اور مبلغ(مال لعہ لہ ۲۸۹)ہم نے نقد آپ سے وصول کرلئے غرضکہ(ال سال للعہ ۱۶۴۱)کل بھر پائے فیس نقشہ ورجسٹری وغیرہ سب آپ کے ذمہ ہے اس جگہ بابت ہمارے بھائی گرایہ وغیرہ کوئی دعوٰی جھگڑا کریں گے نہیں،اگر کریں گے تو ان کا من میں مناؤں گا لہذایہ تحریر بیعنامہ سندًا لکھ دی کہ وقت ضرورت کام دے۔    دستخط حسن خاں وحاجی محمد خاں مع گواہان مکرر یہ کہ زمین زیادہ قیمت کی تھی مگر مسطورہ بالاروپیہ میں آپ کو فروخت کرکے بخشش کردی کہ پھر کوئی دعویدار نہ ہوسکے (سمہ ۱۹۶۳)بکرمی کے بیساکھ بدی۷

الجواب:

ہبہ بالعوض بیع ہے بیع جتنے اشخاص کے نام ہوئی سب مالك ہوئے اگرچہ روپیہ ایك ہی دیتا وہ اوروں کے حصے کا زرثمن ادا کردینے میں متبرع ہے جبکہ ان سے واپسی قرار نہ پائی ہو جیسا یہاں ہے ہم نے اپنے فتاوٰی کتاب الوقف میں ثابت کیا ہے کہ زر چندہ چندہ دہندوں کی ملك پر رہتا ہے اور محصل کا ان کے اذن عرفی سے غلط کرلینا اسے مالك نہ کردے گا اور جبکہ انہوں نے مدرسہ بنانے کے لئے خالد کو چندہ دیا تو اسے شراء زمین وتعمیر کا ماذون کیا اور ان کا روپیہ ان کے اذن سے اس نے شراء وتعمیر میں صرف کیا تو وہ زمین و عمارت تمام مشتریوں اور چندہ دہندوں کی ہوئی جس کا ایك پیسہ چندہ ہو اور جس کا ہزار روپے سب شریك ہیں،اور جبکہ دینی مدرسہ نفع عام مسلمین کے لئے بنانا مقصود تھا اس میں کسی کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ میں کسی جز کا مالك رہوں اور اس سے انتفاع ایك مدت محدود تك ہو پھر میری ملك میں واپس آئے جبکہ اپنی ملك سے خارج کرکے ہمیشہ کے لئے نفع مسلمین کے واسطے کردینا مقصود ہوتا ہے اور یہی حاصل وقف ہے تو اگرچہ نصًا وہ سب لفظ وقف نہیں کہتے عرفًا دلالۃً وقف کرتے اور وقف ہی سمجھتے ہیں،ذخیرہ وخانیہ وعالمگیریہ میں ہے:

رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امرقوماان یصلوا فیہا بجماعۃ فان امرھم بالصلٰوۃ فیہا ابدا نصًابان قال صلوا فیہا ابدا اوامرھم بالصلٰوۃ مطلقًا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا وان وقت بالشھراوالسنۃ لا تصیر مسجدا۔[1]

ایك شخص نے اپنے خالی میدا ن میں لوگوں کوباجماعت نما ز پڑھنے کی صراحۃً ابدی اجازت دی یا مطلقًا کہہ دیا کہ اس میں نماز پڑھو اور نیت ابدی کرلی تو وہ میدان مسجد قرار پائے گا اور اگرمہینے یا سال کے لئے نمازپڑھنے کو کہا تو وہ مسجد نہ قرار پائے گا۔(ت)

تو وہ ایك مکان ہے جس کی زمین وعمارت سب ان سب کی ملك مشترك ہو کر ان سب کی طرف سے وقف ہوئی اور حق کہ واقف کو وقف پر ہوتا ہے سب کو بروجہ کمال یکساں حاصل ہو ااس میں کمی بیشی چندہ پر لحاظ نہ ہوگا کہ یہ حق متجزی نہیں اور حق غیر متجزی ہر شریك کے لئے کاملًا حاصل ہوتا ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:

ماثبت بجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الافی مسائل،الاولی ولایۃ الانکاح للصغیروالصغیرۃ ثابتۃ للاولیاء علی سبیل الکمال لکل(الی ان قال) والضابط ان الحق اذاکان ممالایتجزی فانہ یثبت لکل علی الکمال فالاستخدام فی المملوك ممالا یتجزی[2]۔

جو چیز پوری جماعت کے نام ہوتو وہ ان سب میں مشترك ہوگی ماسوائے چند مسائل کے،جن میں سے ایك نکاح دینے کی ولایت جو تمام اولیاء کو نابالغ لڑکے اورلڑکی پر حاصل ہے اور یہ ہر ایك کو مستقل حاصل ہے(آگے یہاں تك فرمایا)اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر حق غیر متجزی ہوتو یہ ہر ایك کو مستقل ہوگا،تو مشترکہ غلام سے خدمت لینا ہر ایك کو مستقل حق ہے کیونکہ یہ بھی غیر متجزی ہے(ت)

خالد بشرط حسن نیت وقبول حضرت عزت الدال الخیر کفاعلہ[3]  (نیکی بتانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔ت)کافائدہ روز جزائے پائے گا خالد اب اسے جدید وقف کرکے واقف کل نہیں بن سکتا وقف دوبارہ وقف نہیں ہوسکتا نہ خالد مالك کل ہے اور وقف کی شرط ملك ہے،خالد کومدرسہ سے جدا کرنے کی اگر کوئی وجہ شرعی نہ ہوتو جہال ہوں یا علماء بلاوجہ محض نفسانیت سے جو کریں مسموع نہیں ہوسکتا جبکہ خود حاکم قاضی کو کسی صاحب وظیفہ تك کا بے گناہ معزول کرنا نہیں پہنچتا۔ بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:

استفید من عدم صحۃ عزل الناظر بلا جنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ[4]۔

بغیر جرم نگر ان کی معزولی کی عدم صحت سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وقف کا کوئی نگران باوظیفہ ہوتو بھی بغیرجرم اور نااہلیت کے بغیر معزول نہیں کیا جاسکتا(ت)

اور اگر وجہ شرعی ہوتو بلاشبہہ معزول کیا جائے گا اگرچہ خاص اپنی تنہا ملك سے وقف کیا ہوتا۔ درمختار میں ہے:

ینزع وجوبا،بزازیۃ،لو الواقف،درر،فغیرہ بالاولٰی غیرما مون اوعاجز اوظہربہ فسق کشرب الخمر و نحوہ،فتح[5]۔

لازمی طور پر معزول کیا جائے،بزازیہ۔اگرچہ واقف ہی کیوں نہ ہو،درر۔توغیر بطریقِ اولٰی جب وہ ناقابل اعتماد نااہل،یا اس کا فسق ظاہر ہوچکا ہو مثلاشرابی ہونا وغیرہ فتح۔(ت)

 



   [1] الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۵

[2]    الاشباہ والنظائر کتاب النکاح ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۴۵۔۲۴۴

[3]    جامع الترمذی باب ماجاء ان الدال علی الخیر کفاعلہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۹۱

[4]    بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۷

[5]    درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن