دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

نہیں،مسجد میں لگانے کو روپیہ اگراس طور پردیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب مسجد میں اس کی کوئی مداخلت رہے گی تو لینا جائز نہیں اور اگر نیاز مندانہ طور پر پیش کرتا ہے تو حرج نہیں جب کہ اس کے عوض کوئی چیز کافر کی طرف سے خرید کر مسجد میں نہ لگائی جائے بلکہ مسلمان بطور خود خریدیں یاراجوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اور اس میں بھی اسلم وہی طریقہ ہے کہ کافر مسلمان کو ہبہ کردے مسلمان اپنی طرف سے لگائے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۲۳تا۳۲۴:                               ازبریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ مولوی رمضان علی بنگالی         ۲۰صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱)ایك محلہ میں دو مسجد ہیں اور دونوں مسجد کے متولی ایك ہی آدمی ہیں فی الحال محلہ کے سب آدمی بالاتفاق دونوں مسجد کے اسباب سے ایك مسجد تیار کرنی چاہتے ہیں،شرعًا دونوں مسجد کو ایك مسجد بنانا جائزہے یانہیں؟

(۲)کسی مسجد میں کڑی،چونا،اینٹ وغیرہ زائد ہے کسی کام میں صرف نہیں ہوتا اگر بہ رائے سب مصلی کے اس اسباب کو دوسری مسجد میں بھیجنے یا کوئی شخص اپنے کام کےلئے خرید کرلے جائے یامحلہ کے آدمی تقسیم کرکے لے جائیں تو جائزہے یانہیں؟

الجواب:

(۱)اگر یہ چاہتے ہیں کہ دونوں مسجدوں کو معدوم کرکے تیسری جگہ مسجد بنائیں تو یہ حرام حرام سخت حرام اشد ظلم ہے،

قال اﷲ تعالٰی " وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-"[1]۔

اﷲ تعالٰی  نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ  کی مسجدوں کو ان میں اللہ  کا نام لئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کے لئے دنیامیں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب۔

اور اگر دونوں مسجدیں متصل ہیں یہ چاہتے ہیں کہ بیچ کی دیوار ہٹاکر دونوں کو ایك کرلیں تو یہ جائز ہے۔ اشباہ ودرمختار میں ہے:

لاھل المحلۃ جعل المسجدین واحدا[2]۔

اہل محلہ کو اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایك کرلیں۔(ت)

(۲)اہل محلہ یا کوئی اسے اپنے تصرف میں کرلے یہ حرام،اسے دوسری مسجد میں دے دیں یہ حرام۔اسے بیچ کر اس کی قیمت اسی مسجد کی تعمیر و مرمت کےلئے محفوظ رکھیں یہ جائز۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۲۵:            از ریاست گوالیار محلہ حویلی پچھواڑہ مسئولہ نورمحمد خاں                              ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافر ماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں،کیاکسی مجبوری کی حالت میں بموجب شریعت یہ جائز ہے کہ عمارت مسجد پختہ یا خام دوسری جگہ منتقل کردی جائے اور زمین مسجد پر مکان یا راستہ وغیرہ بنالیا جائے اور اس کے عوض میں دوہری جگہ مناسب زمین لے کر اس پر مسجد بنوادی جائے اور اس کا ملبہ وغیرہ سب اسی میں لگادیا جائے اور خوبصورت بنوادی جائے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا اور اس کی زمین پر راستہ یا مکان بنانا سب اشد حرام قطعی ہے اگرچہ اس کے عوض دوسری جگہ سونے کی مسجد بنوادی جائے،مجبوری کی تفصیل لکھی جائے کہ اس پر جواب ہو۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۲۶:             ازبیلپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی عرفان علی صاحب رضوی سلمہ          ۱/شوال۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندؤوں کو مسجد کے کنویں سے پانی بھرنے کی اجازت دینے کا کیاحکم ہے اور کیا شرعًا وہ مسجدکے کنویں سے پانی بھرسکتے ہیں؟ یہاں خلافت کمیٹی والوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بناء پر کچہری کلکٹری کی مسجد کے کنویں سے ہندوؤں کو پانی بھرنے کی اجازت دی ہے،کنواں مسجد میں ہے تین طرف عین مسجد یعنی فرش مسجد ہے اور ایك جانب فصیل اور وضو کے پانی کی نالی ہے۔خلافت کمیٹی والے کہتے ہیں کہ فناء مسجد یعنی نالی اور فصیل کی جانب سے داخل ہوکر ہندو پانی بھرسکتےہیں اگرچہ آنکھوں سے دیکھا گیا کہ اہل ہنود برابر عین مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور پانی بھرتے ہیں،کیامسلمانان شہر پر فرض ہے کہ حتی الامکان مسجد کو اہل ہنود کی دسترس سے بچائیں۔

الجواب:

بلاشبہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجد کو مشرکین کی بے حرمتی سے محفوظ کریں اورخلافت کمیٹی کی ہندوپرستی پر لحاط نہ کریں۔ان لوگوں نے مسجدمیں جاکر پانی بھر نادر کنار بارہا مساجد میں ہندؤوں کولے جاکر مسلمانوں کا واعظ بنایا ہے،فصیل مسجد بھی حکم مسجد میں ہے۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذا فی محیط السرخسی[3]۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

فناء مسجد مسجد کے تابع ہوتا ہے لہذااس کاحکم وہی ہے جو مسجد کا ہوتا ہے جیساکہ محیط سرخسی میں ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۳۲۷تا۳۲۸:               ازمحمد پور وڈہرہ والا تحصیل احمد پور ڈاکخانہ خاص مسئولہ مولوی غلام فرید       ۷شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:

(۱)ایك مسجد کہنہ مسقف جس کے یمین شمال مشرق میں میدان پڑا ہے جس کے جوانب محدود بدیوار ہائے پختہ ہیں گنبد ہائے مسجد گر گئے ہیں اور دیوار جنوبی بھی گرگئی ہے جس کی خشتہائے پختہ بہت عرصہ سے خراب ہورہی ہیں،کیا بموجب شرع شریف یہ خشتہا کسی دوسری مسجد پریا ان کو بیچ کراسی مسجد کہنہ کی تعمیر پر رقم صرف کرنا جائز ہے ورنہ مسجد میں بھی یوں ہی منہدم رہے گی اور خشتہا بھی ضائع ہوجائینگی۔

(۲)سامان مسجد شریف مثل خشتہائے پختہ وکڑی ہائے کہنہ وغیرہ آوارہ پڑی ہیں اور مسجدشریف بھی اس سامان سے مستغنی ہے تو کیا وہ سامان مسجد کا دوسری مسجد پر لگایا جائے یا نہیں؟اگر لگایا جائے تو کسی کی اجازت سے قیمت لی جائے یا خیراتی؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

 



[1]      القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[2]      درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴

[3]      فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن