30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی المسجد والوقف علی قیاسہ[1]۔
فرمایا کہ ہمارے اصحاب کا یہ قول مسجد کے بارے میں ہے اور وقف کو اسی پر قیاس کیا جائیگا(ت)
فتاوٰی قاضیخاں نیز ہندیہ اوائل الوقف میں ہے:
لواشتری رجل داراشراء فاسداوقبضہا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت وعلیہ قیمتھا[2]۔
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ گھر خریدا اور اس نے قبضہ کرلیا پھر اس کو فقراء ومساکین پر وقف کردیا تو جائز ہے اور وہ ان پر وقف ہوجائیگا جن پر اس نے وقف کیا اور اس کی قیمت اسی مشتری پر لاز م ہوگی۔(ت)
تنویر الابصار احکام البیع الفاسد میں ہے:
فان وقفہ وقفا صحیحا نفذ[3]۔
اگر اس کو وقف صحیح کے ساتھ وقف کیا تو نافذ ہوجائے گا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
لانہ استھبلکہ حین وقفہ واخرجہ عن مبلکہ ومافی جامع الفصولین علی خلاف ھذاغیر صحیح کما بسطہ المصنف[4]۔
اس لئے کہ اس نے وقف کرکے اس کو ہلاك کر ڈالا اور اس کو اپنی ملك سے خارج کردیا،اور وہ جو جامع الفصولین میں اس کے خلاف آیا ہے وہ صحیح نہیں جیساکہ مصنف نے اس کو تفصیل سے بیان کیا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی جامع الفصولین لو وقفہ او جعلہ مسجدا لایبطل حق الفسخ مالم یبن اھ ای فالمانع من الفسخ ھو البناء حملہ فی
جامع الفصولین میں ہے کہ اگر مشتری نے اس کو وقف کیا یا مسجد بنایا تو جب تك عمارت نہ بنادے حق فسخ باطل نہیں ہوتااھ یعنی مانع فسخ،عمارت ہے،
النھر علی احدی روایتین وھو اولی من التغلیط وحملہ فی البحر علی مااذا لم یقض بہ،قلت لکن المسجد یلزم بدون القضاء اتفاقا[5]۔
صاحب نہر نے اس کودو روایتوں میں سے ایك پرمحمول کیا اور یہ اس کی تغلیط سے اولٰی ہے اور بحر میں اس کو اس پر محمول کیا کہ جب تك اس کے ساتھ قضاء واقع نہ ہو۔میں کہتا ہوں لیکن مسجد توبغیر قضاء قاضی کے لازم وثابت ہوجاتی ہے بالاتفاق۔(ت)
اسی کے اوائل وقف میں ہے:
صح وقف ماشراہ فاسدا بعد القبض[6]۔
قبضہ کے بعد اس چیز کا وقف صحیح ہے جس کو شرا فاسد کے ساتھ خریدا ہو۔(ت)
نظر بحالت مذکورہ سوال انہیں پر فتوٰی واجب ہوتا اذلایفتی فی الوقف الابما ھو انفع لہ (وقف میں صرف اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے جو اس کے حق میں زیادہ نافع ہو اس کے غیر پر فتوٰی نہیں دیا جاتا۔ت)نہ کہ ان مباحث عظیمہ کے ساتھ جوہم نے ابتداءً ذکر کیں جن کے بعد شبہ کو اصلًا گنجائش نہیں،وﷲ الحمد،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲۰: ازلکھنؤجھوائی ٹولہ بادشاہ محل کی ڈیوڑھی مسئولہ منشی انور علی ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص موذن مسجد ہے اور اس شخص مؤذن نے حجرہ مسجد جو وقف تھا اس میں اپنا دخل اور تصرف مالکانہ کرکے ایك مکان اوپر اس حجرہ کے بنایا اور حجرہ وقف کو اپنے مالکانہ تصرف اور ماتحت میں لاتا اور اس میں خانہ داری وسکونت کرتا ہے،آیا عندالشرع الشریف یہ جائز ہے یانہ اور اہل محلہ اس کو خارج کرسکتے ہیں یانہ؟بینواتوجروا۔
الجواب:
حجرہ اگر سکونت مؤذن کےلئے واقف نے وقف کیا تھا اور اس نے اس کے اوپر کوئی عمارت اپنے روپے سے وقف کے لئے بناکر اس میں سکونت کی تواس پر الزام نہیں،نہ یہ کوئی تصرف مالکانہ ہے بلکہ مطابق شرط واقف ہے اور اگر حجرہ مسجد کے دیگر مصارف کےلئے وقف ہوا تھا جن میں سکونت مؤذن داخل نہیں،تو بیشك ناجائز ہے اور مہتممان مسجد اسے خارج کرسکتے ہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲۱: ازگرواڑہ ریاست بڑودہ مسئولہ یوسف علی خاں بہادر ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے عرصہ دس سال سے اپنی کتابیں جامع مسجد بڑودہ میں فی سبیل اللہ وقف کردی ہیں،عرصہ دس سال سےا نجمن اصلاح اہلسنت وجماعت کے قبضے میں ہیں اب وہ شخص رافضی کی طرفداری میں ہوکر کتب خانہ موقوف کو واپس اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ انجمن اہل سنت وجماعت کا قبضہ چھڑ ا کر اپنا قبضہ کرے یا کتابوں کو دوسری مسجد یا مدرسہ کی طرف منتقل کردے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس نے کتابیں مسجد جامع پر وقف کیں تو جائز نہیں کہ وہ کسی مدرسہ یا دوسری مسجد کی طرف منتقل کی جائیں۔ردالمحتا رمیں ہے:
[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فے المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۸۵۔۴۸۴
[2] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول فی تعریفہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۴
[3] درمختار شرح تنویر ابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹
[4] درمختار شرح تنویر ابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹
[5] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۶
[6] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع