دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

پانچویں رتن بائی کی مسجد لنگھاواڑ میں نئے سرے سے بنائی گئی ہے،قبل ازیں یہاں کوئی مسجد نہ تھی۔

چھٹی ہنس بائی کی مسجد جو ملك لوگوں کی مسجد تھی اس کو شہید کرکے وسیع پیمانے پر بنائی گئی ہے۔

ساتویں چھوٹی دھن بائی کی مسجد جو گجراتی واڑ میں کہنہ خورد مسجد کو شہید کرکے اسی پر بنائی گئی ہے۔

یہ عورتیں مسلمان صوم وصلوٰۃ کی پابند تھیں اور کافر راجاؤں کے جبر سے مرتے دم تك ان کے مکان میں رہیں،اور راجاؤں سے ان عورتوں نے مال حاصل کرکے اپنے نوکر مسلمان ناظر کو مال حوالہ کردیا اور ان ناظروں نے مسجدیں بنواکر مسلمانوں کے قبضہ میں کردیں اور تا ایں دم مسلمان کے قبضہ میں ہیں۔یہ عورتیں مرچکی ہیں ان کی ہر ایك کی قبر ہر مسجد کے فنا میں بنی ہوئی ہے،اور ان میں سے جو مسجدیں سابق پرانی مسجدوں کو شہیدکرکے تعمیر کی گئی ہیں،ان کے فنا میں اولیاء کے مزاربھی ہیں،ان مسجدوں کے ان بائیوں کے نام سے موسوم ہونے پر کافر کاروپیہ لگنے کے باعث اگرچہ ان عورتوں میں سے ہر ایك نے اپنے نوکر ناظر مسلمان کو حوالہ کرکے مسجد کی تعمیر کرائی ہے اور مسلمانوں کے قبضہ میں کردی گئی ہیں باوجود اس کے مسلمانوں کے دو گروہ ازاں دم تا ایں دم چلے آتے ہیں،ایك گروہ ان مسجدوں میں نماز پڑھنا جائز سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ بوجوہ بالاناجائز سمجھ کر ان میں نماز نہیں پڑھتا اور پڑھنے والے کو روکتا ہے،معترض گروہ نے اپنے استدلال میں ایك عربی رسالہ بھی لکھا ہے جو منسلك استفتاء ہذا ہے۔قائلین جواز اکثر فتاوٰی کی عبارت پیش کرتے ہیں۔یہ مسجدیں اپنے مصارف کےلئے قطعًا کسی کی محتاج نہیں ہیں کیونکہ ہر مسجد اپنے تعلق میں دکانیں رکھتی ہے۔موجودہ کافر راجہ کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ان مسجدوں میں بحکم شرع شریف نماز ناجائز ہے تو وہ ان کے انہدام میں ایك لمحہ دیر نہ لگائے اور مسجدیں دکانیں جن کی عمارت تقریبًا ۵لاکھ بلکہ زائد ہوگی مسلمانوں کے قبضہ وتصرف سے نکل جائینگی اور مزارات اولیاء کرام جوان مسجدوں کی فناء میں واقع ہیں مسمار کردئے جائینگے،آپ نہایت تفصیل سے عام فہم زبان میں ارشاد فرمائیں کہ حکم شرع شریف کیا ہے تاکہ مسلمانوں میں فساد مذکورہ بالاکی بیخ کنی ہوجائے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

وہ مسجدیں شرعًا مساجد ہیں اور ان میں نماز قطعًا جائز،اور ان کا ہدم ظلم شدید،اور ان نماز پڑھنے سے روکنا،ان کی ویرانی میں کوشش کرنا حرام۔

قال اﷲ تعالٰی " وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-"[1]۔

اﷲ تعالٰی  نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ  کی مسجدوں کو ان میں نام الٰہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کی۔

عربی رسالے میں اجرت زنا کی حرمت کا بیا ن ہے اس میں کسے کلام ہے مگر اسے یہاں سے کیا علاقہ،اور ان مسجدوں کی ابطال مسجدیت سے تو اسے اصلًا مس نہیں،یہاں نہ اجارہ ہو انہ وہ مال کہ ان عورتوں نے پایا اجرت تھا،نہ ان کے لئے حکم حرمت تھا،اور بالفرض ہوتا تو ان مسجدوں کو مسجد نہ ماننا جہالت تھا،اولًا: اجارہ کہ بیع منافع ہے مثل بیع محتاج ایجاب وقبول وتراضی طرفین ہے،اور سوال میں زبردستی کرکے رکھا،کافر راجاؤں کے جبر سے رہیں تو نہ کوئی اجارہ تھا نہ ایجاب و قبول،خود رسالہ عربیہ میں اقرار کیا ہے کہ صورت مبحوث عنھا میں عقد اجارہ نہیں تو مسئلہ اجرت زنا کی بحث بیکار تھی۔رہا رسالہ کا یہ گمان کہ جب بے عقد ہے تو بدرجہ اولی حرام ہے کہ اب اس کی حرمت پر اتفاق ہے،ذخیرۃ العقبٰی میں ہے:

مااخذتہ الزانیۃ ان کان بعقد الاجارۃ فحرام عندھما وان کان بغیر عقد فحرام اتفاقا لانھا اخذتہ بغیر حق کذا فی المحیط[2]۔

جو کچھ زانیہ نے لیا اگر عقد اجارہ کے طور پر ہے صاحبین کے نزدیك حرام ہے اور اگر بلا عقد ہے تو بالاتفاق حرام ہے کیونکہ زانیہ نے اس کو ناحق لیا ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)

اقول: یہ ہی وہ نافہمی ہے جس نے غلطی میں ڈالا،بلاوجہ کسی کا مال لے لینا کہ بالاتفاق حرام ہے مال معصوم میں ہے جو کہ مسلمان یا ذمی یا مستأمن کا مال ہے ان کے غیر کامال کہ بلاعذر ملے خصوصًا جو خود اس کی رضا سے ہو اس کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں اگرچہ بلاوجہ محض بلکہ بنام وجہ فاسد وناجائز مثل ربا وقمار وغیرہما ہو۔ہدایہ وفتح القدیر میں ہے:

(مالھم مباح)واطلاق النصوص فی مال محظورو انما یحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر(فاذالم یاخذ غدرا فبای طریق یاخذہ حل) بعد  کونہ برضا [3]۔

 (ان کا مال مباح ہے)اور نصوص کا اطلاق مال ممنوع پر ہوتا ہے اور بیشك وہ(کافر حربی کا مال)مسلمان پر اسی صورت میں حرام ہوتا ہے جب بطور غدر لیا جائے،اور اگر غدر ودھوکے سے نہ لے تو جس طرح بھی حاصل کرے حلال ہے بشرطیکہ اس کا فر کی رضامندی سے ہو۔(ت)

مبسوط میں صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا کفار مکہ سے نصرت مسلمین پر شرط باندھ کر مال لینا اور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اسے جائز رکھنا بلکہ خود بحکم حضور شرط میں اضافہ کرنا مذکور۔محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں:

وھو القمار بعینہ بین ابی بکر ومشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک[4]۔

اور وہ سید صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور مشرکین کے درمیان بعینہ جواتھا اور مکہ دار شرك تھا۔(ت)

ثانیًا: جب ان کا رہنا بجبر واکراہ تھا تو عقد درکنار شرط زنا پر لینا بھی نہ ہوا تو رسالہ عربیہ کا کہنا کہ:

ماتاخذہ الزانیۃ علی الزنا بغیر عقد الاجارۃ حرام اتفاقا وھو المبحوث عنہ۔

جو کچھ زانیہ زنا پر بغیر عقد اجارہ کے لے وہ بالاتفاق حرام ہے اور یہ زیر بحث ہے(ت)

یوں بھی صحیح نہیں اور اب مال کافر کی بھی قید نہ رہی،

ففی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی ابراہیم عن محمد امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل او مزماراکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی اصحابہ لانہ اذا کان الاخذ علی الشرط کان المال بمقابلۃ المعصیۃ فکان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھااما اذا لم یکن الاخذ علی الشرط لم یکن الاخذ معصیۃ والدفع حصل من المالك برضاہ فیکون لہ ویکون حلالالہ[5]۔

 



[1]     القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[2]     ذخیرۃ العقبٰی کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدہ نولکشور کانپور ۳/ ۵۱۲

[3]     فتح القدیر کتاب البیوع باب الرباء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸

[4]     فتح القدیر کتاب البیوع باب الرباء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸

[5]      فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن