30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجھے چنگاری پر پاؤں رکھنا یہاں تك کہ وہ جوتا توڑ کر کھال تك پہنچ جائے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
لان امشی علی سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم[1]۔اوکما قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔
مجھے تلوار پر چلنا مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے (جیساکہ نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا۔ت)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
یکرہ القعود علی القبر لان سقف القبر حق المیت[2]۔
قبر پر بیٹھنا مکروہ ہے کیونکہ قبر کی چھت میت کاحق ہے۔ (ت)
فتح القدیر ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
المرور فی سکۃ حادثۃ فی المقابر حرام[3]۔
قبر ستان میں جو نیاراستہ بنایا جائے اس میں چلنا حرام ہے۔ (ت)
اور مسلمان کی قبر کو ہموار کردینا اور بھی سخت حرام۔حاضرین کے لئے جگہ تنگ کرنا جنکی اصل وضع خانقاہ ہے وقف میں تصرف بے جا اور مخالفت غرض واقف ہے کہ شرعًا ناجائز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۶تا۳۱۸: ازضلع بردوانمقام رانی گنج مسئولہ میر ضامن سیکریٹری مدرسہ دارالعلوم ۹شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین:
(۱)مسجد کی موقوفہ جائداد کا متولی مسجدیا مسجد کے متعلق مکان میں تنہا اپنی رائے سے کسی قسم کی ترمیم کرسکتا ہے یانہیں ایسی صورت میں کہ مصلیان مسجد اس ترمیم کے سخت مخالف ہوں۔
(۲)مسجد کی کوٹھری یا حجرہ یا مسجد کا مدرسہ آیا متولی موصوف کی ملکیت ہے یاان کا نظم ونسق وغیرہ۔امام ومؤذن کی تقرری وبرخاستگی عام مصلیان مسجد کے اتفاق پر موقوف ہے مصلیان مسجد کو اس کے متعلق کوئی باز پرس کرنے کااور جمع خرچ کے سمجھنے کااختیار ہے یانہیں؟
(۳)مصلیان مسجد کے خلاف میں اگر کسی مسجد کا متولی دوسری مسجد کے نمازیوں کو اپنے ساتھ ملاکر مخالفت سے اس مسجد میں کوئی ناپسندیدہ کام کرنا چاہے اور اس کی قابل مرمت چیزیں خراب ہورہی ہوں تو مصلیان مسجد کو اس پر رکاوٹ کا مجاز اور متولی کو ان کا متفق الرائے کرنا ضروری ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اگر اس ترمیم کااختیار اسے واقف نے دیا تھا تو کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔یہ بات ملاحظہ شرائط وقف سے ظاہر ہوسکتی ہے۔
(۲)مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملك ہے نہ مصلیوں کی،نہ کسی غیر خدا کی،وہ سب خالص ملك الٰہی ہے،اوقاف مسجد کا انتظام متولی کے سپرد ہے اور امام ومؤذن کا نصب وعزل بانی مسجد یا اس کی اولاد پھر مصلیوں کے متعلق ہے متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے باز پرس کرسکتے ہیں۔متولی امین ہے جب تك اس کی خیانت کا صحیح مظنہ نہ پیدا ہو وہ جمع خرچ سمجھانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔درمختار میں ہے:
سئل قارئ الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لایلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولی۔نھر[4]۔
قارئ الہدایہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنے شریك سے محاسبہ کا سوال کرے تو قارئ ہدایہ نے جواب دیا کہ شریك پر مفصل جواب دینا لازم نہیں،اس کی مثل ہے مضارب،وصی اور متولی،نہر۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:یحمل اطلاقہ علی غیر المتھم[5] (اس کا اطلاق اس شخص پر محمول کیا جائیگا جس پر تہمت نہ لگائی جاتی ہو۔ت)
(۳)سائل نے ناپسندیدہ کام کی تفصیل نہ کی،ان کو ناپسندیدہ ہے یا شرعًا،جو شرعًا ناپسندیدہ ہے اس کا اختیار کسی کو نہیں،نہ وہ کسی کے متفق الرائے سے ہونے سے ہوسکتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۹: مولوی غلام محی الدین صاحب راندیری ۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ جام نگر(علاقہ کاٹھیاوار)میں دو مسجدیں ایسی مسلمان بائیوں(عورتوں)کے نام سے بنی ہوئی ہیں کافر راجہ نے ان کو باوجود اسلام پر قائم رہنے کے اپنی ہی مجامعت میں ہمیشہ کےلئے قائم و دائم زبردستی کرکے رکھا ایك فاطمہ بائی کی مسجد راجہ سے مال کثیر لے کر اصل پرانی مسجد پر اپنے مسلمان ناظر نوکر کے مال حوالہ کرکے مسجد بنائی ہے۔اسی طرح دوسری امرت بائی کی مسجد نو تعمیر ہوکر امرت بائی کے نام سے مشہور ہے۔دوسرے راجہ کے وقت میں قصبہ ہذا میں سات مسجدیں سات بائیوں کے نام سے پچاس سال ہوئے ہیں بنائی ہیں:
ایك دھن بائی کی مسجد جو جامع مسجد دھن بائی کی مشہور ہے پرانی مسجد پر اس کی تعمیر ہوئی۔
دوسری ناتھی بائی کی مسجد رافضی پورہ محلہ میں پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی بنائی گئی ہے۔
تیسری جان بائی کی ٹاور کی مسجد،یہ بھی ایك پرانی مسجد شہیدکرکے نئی بنائی گئی ہے۔
چوتھی دالبائی کی مسجد جو پرانی جیل کے قریب بالکل نئی تعمیر کی گئی ہے۔
[1] سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۳
[2] فتاوٰی ہندیۃ کتاب ا لکراہیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱
[3] ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۲۹
[5] ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع