30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محلہ قاضی ٹولہ پرانا شہر میں ایك مسجد قاضی زادوں کی تعمیر کردہ ہے اس دروازہ پہاڑ رخ قدیمی ہے اور اس میں کچھ قبریں پختہ قاضی زادوں کے آباواجداد کی تھیں،اور ایك کنواں بنجاروں کا بنایا ہوا مسجد سے پہلے کا ہے جس سے سوائے نمازیاں اور کئی محلوں کو اس کے پانی سے نفع پہنچتا ہے،اس مسجد میں کئی قوم کے لوگ نماز پڑھتے ہیں قصائی،نداف۔ان کے مکان بھی وہیں ہیں،قصابوں نے مسجد میں جو قبریں تھیں انہیں کھود کر بالکل نیست ونابود کردیا،درخت موسری کا جس کے سایہ سے نمازیوں کو آرام ملتا تھا کاٹ ڈالا،گول درشمال کی جانب جس سے نمازیوں کو بارش سے آرام ملتا تھا بند کر دیا،کنواں جس سے مخلوق کو نفع تھا اس کی ایك سیڑھی کا راستہ بندکردیا گیا گویا ایك رخ بالکل بند کردیا جس سے بہشتیوں کو ازحد تکلیف ہے انہوں نے پانی بھر نابندکردیا۔دو دیواریں بناکر اس میں گھری لگادی ہے جس سے کچھ نفع نہیں۔یہ لوگ کس سزا کے مستحق ہیں؟یہ کام اچھے کئے یا برے کئے۔ندافوں میں سے ایك شخص نے کسی سے پوچھا یہ کنویں پر در ودیوار کیاہیں،اس نے اپنی جہالت سے کہا کہ یہ میرا۔۔۔۔۔۔بنایا ہے لوگوں کے تکلیف دینے کو،تو کیا یہ شخص کافر ہوگیا؟حالانکہ ان دیواروں کو وہ مسجد نہیں سمجھتا ہے بلکہ یہ شرارت کی دیواریں سمجھتاہے کس سزا کامستحق ہے؟
الجواب:
اگر یہ بیانات واقعی ہیں تو مسلمان کی قبروں کا کھودڈالنا ہرگز جائز نہ تھا اس سے وہ توہین مسلمین کی سزا کے مستحق ہیں،سزا یہاں کون دے سکتا ہے،اور اگر یہ قبریں اس لئے کھودیں کہ اس جگہ پر نماز پڑھی جائے تویہ نماز کو بھی خرابی میں ڈالناہے،قبور کی جگہ نماز جائز نہیں جب تك اندر تك کھود کر میت کے سب اجزاء نکال نہ دئے جائیں،اور مسلمان میت کے ساتھ ایسا کرنا حرام حرام سخت حرام۔درخت جو قدیم سے تھا اس کے کاٹنے کی کوئی وجہ نہ تھی،بلاوجہ شرعی نمازیوں کو تکلیف دینا سخت بدہے۔شمالی دروازہ کہ قدیم سے تھا اور اس سے نمازیوں کو آرام ملتا تھا،اس کے بند کرنے کا بھی کوئی اختیا ر نہ تھا۔کنوئیں کی ایسی روك جس سے پانی بھرنے والوں کو تکلیف ہو اور وہ بھرنا چھوڑدیں ہر گز جائز نہیں،یہ سب برے کام ہوئے۔اس نداف نے بیہودہ کہا بر اکیا اس کے سبب کافر نہیں ہوسکتا کہ اس میں مسجد کی کوئی توہین نہیں،نہ وہ دیواریں مسجد کی ہیں۔اس کے لئے اتنی سزاکافی ہے کہ تونے بیہودہ بکا۔آئندہ احتیاط کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹: مسئولہ عظمت اللہ کوتوالی شہر بریلی شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك مسجد شریف قدیم ٹھوس تھی اہل اسلام نے اس کو منہدم کراکر مغرب کی جانب میں مسجد بنوائی اور قدیم کو اس کا صحن قرار دیا اور مسجد جدید اور صحن یعنی مسجد قدیم ہر دو کی کرسی بلند کی اور نیچے تہہ خانے بنائے اور مسجد قدیم کے تہہ خانے کے حصے کو مسجد کی دکانوں میں شریك کرنا جائز ہے یانہیں؟اور اس صحن میں نماز پڑھنے والوں کوثواب مسجد کا ملے گا یانہیں؟اور اگر یہ جائز ہے تو اس طرح مسجد جدید کے تہہ خانے کو بھی کرایہ پر دے سکتے ہیں یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
مسجد مسجد ہوجانے کے بعد دوسرے کام کےلئے کرنا حرام حرام سخت حرام ہے ان پر فرض ہے کہ مسجد قدیم کا تہہ خانہ بدستور سابق بندکردیں اور اب کہ مسجد جدید کرچکے اس کے تہ خانے کو بھی کرایہ پر دینا حرام ہے ہاں مسجد کردینے سے پہلے دکانیں وقف مسجد کےلئے بناتے اور اس کے بعد ان کی چھت کو مسجد کرتے تو جائز تھا،اب ہر گز حلال نہیں مسجد قدیم کو جدید کاصحن کرلیا اس میں حرج نہیں وہ بدستور مسجد ہے اور اس میں نماز مسجد میں نماز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۰: از شہرکہنہ محلہ کوٹ مسئولہ شیخ انعام اللہ ۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ امام باڑہ متصل زیارت شاہ صاحب کے ایك گوشہ میں واقع ہے اور گزشتہ زمانے کے شیعہ مذہب کے لوگ جو لکھنؤ کے پیروتھے ان کی تعمیر کردہ ہے۔لیکن اب مسجد مذکور اہلسنت کے قبضہ میں ہے اور کنویں مذکور سے ۳۳/۳۴گز کے فاصلہ پر ہے،کنویں اور مسجد کے درمیان بوجہ کوڑے اور گھاس کیڑے وغیرہ کا احتمال رہتا ہے،اسی لئے مسجد مذکور آباد نہیں ہوتی،اہل محلہ چاہتے ہیں کہ مسجد مذکور کا ملبہ لب سڑك متصل کنواں اٹھالائیں اور یہاں مسجد تعمیر کرائیں تو جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
اگر اس مسجد کا بانی رافضی تبرائی روافض حال کا ہم عقیدہ تھا اور اسی مذہب پر مرا تو مسلمانوں کو جائزہے کہ اس کا عملہ دوسری مسجد لے جائیں،نیز جائزہے کہ اس مسجد کی زمین کو بیچ کر جدید مسجد میں لگائیں۔
فی الدرالمختار لو وقف المرتد فقتل اومات اوارتد المسلم بطل وقفہ[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر مرتد نے وقف کیا پھر قتل کردیا گیا یامر گیا یا مسلمان مرتد ہوگیا تو اس کا وقف باطل ہوگیا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۱۱: مسئولہ حافظ عبدالمجید از ضلع مراد آباد قصبہ بچھرایوں محلہ چودھریاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے باپ جناب قبلہ وکعبہ حاجی عبدالرحمٰن صاحب نے ۲جولائی ۱۸۹۹ء کو اپنی حقیت موضع کھادگوجر پرگنہ سانپور ضلع مرادآباد تعدادی مواضع چار بسوہ کو اور میرے بھائی حاجی عبد اللطیف خان صاحب اور مجھ حافظ عبدالمجید خاں نے اپنی حقیت سواسوابسوہ موضع کافور پور وچك کافور پور پر گنہ بانسٹہ ضلع بجنور کو بنا بر صرف مسجد و چاہ وپیاؤوقف کردیا مگر وہ جگہ جہاں مسجد وکنواں تیار کرانے کا خیال تھا وہ جگہ آبادی قصبہ بچھرایوں سے ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر جنگل میں جانب مشرق اور مسجد لب سڑك سے جو آبادی میں بنی ہوئی ہے دو سو گز کے فاصلہ پر ہے بعد وقف ہوجانے کے جو میری غیبت میں تکمیل ہوا تھا یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جگہ مسجد کا بنانا کار آمد نہیں ہے کیونکہ اس موقع پر بوجہ نہ ہونے آبادی کے آباد نہیں رہ سکتی مگر یہ خیال جناب والد بزرگوں صاحب سےظاہر نہ کرسکا تھا کہ میرٹھ اپنی ملازمت پر تشریف لے گئے وہاں سے ان کا والا نامہ صادر ہوا کہ فورًا مسجد کی تعمیر کرو میں نے بخوف ان کی ناراضی کے اپنا خیال تو ظاہر نہ کیا مگر بموجب ارشاد تعمیل یہ کردیا کہ دیہات سے چار ہیگاری جمع کرکے مسجد کی نیو معین بنیاد کندہ کرائی اور زمین برابر نیو چنوادی چونکہ موسم برسات آنے والا تھا والد بزرگوار قبلہ کو بطور عریضہ یہ عرض کیا کہ بنیاد بھروادی گئی اور تعمیر مسجد بعد برسات شروع کی جائے گی،ا سکے بعد میں خود جناب والد صاحب قبلہ کے پاس پہنچا اور ان سے اپنا خیال ظاہر کیا کہ مسجد تو بموجب ارشاد عالی بنادی جائے گی مگر اس کی آبادی کی کون سی صورت ہے،اول جناب والا وہاں پر اس کا زنانہ ومردانہ بنادیں اور میں وہاں محلہ آباد کرلوں تب مسجد تیار ہونی چاہئے،انہوں نے اس بات کو بخوبی منظور فرمالیا،اس عرصہ میں ان کا انتقال ہوگیا مگر کنواں وپیاؤ تیار ہوگیا تھا اور بدستور جاری ہے نہ مکان تھا نہ وہ آباد ہوا۔ہم دونوں بھائی آپس میں جدا ہوگئے اور اس وقف کا بعد جناب قبلہ کے میں متولی رہا۔ایك مسجد درمیان آبادی منہدم ہوگئی تھی،میں نے اس روپیہ سے وہ مسجد از سر نو بنوائی،اور وہ بنیاد مسجد جو جنگل میں بیگاروں سے بھروادی تھی اکھڑ واکر اس کی اینٹیں بھی اس میں لگواکر تیار کروادی،اب اس وقف کی رقم جمع ہے اور ایك مسجد محلہ جو میرے مردانہ مکان کے پیش دروازہ ہے از حد مرمت طلب ہورہی ہے اور کوئی صاحب اس کی طرف توجہ نہیں کرتے،میرا خیال ہے کہ اگر شرع شریف اجازت دے تو میں اس مسجد کی اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع