30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعمال کا دار ومدارنیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
دکانات مسجد پر اقامت مدرسہ کے بارے میں بھی سوال آیا اور مفصل جواب جا چکا ہے مگر فریق ثانی کے سوال میں یہ تھا کہ مسجد میں ایك مدرسہ ہے جس میں تعلیم کلام مجید وتفسیر وفقہ وحدیث کی ہوتی ہے،بعض منتظمین نے چاہا کہ تعلیم مسجد سے اٹھادی جائے،اوران شرائط پر اس کے قیام کا فیصلہ ہوا،اس تحریر تازہ میں یہ ہے کہ بلا استحقاق وبلا معاوضہ سقف وقف پر مدرسہ کرلیا ہے،ایسا ہے تو بلا شبہ حرام ہے اور منتظمین مسجد کی اس پر رضامندی مردود،اور اب تك کا کرایہ مدرسہ قائم کرنیوالوں پر بحق مسجد لازم،کما ھو منصوص علیہ فی عامۃ الکتب(جیسا کہ عام کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۶:ازبمبئی نشان پاڑاکر اس روڈ بوساطت سید غوث پیران صاحب مرسلہ میمن آدم عبدالرحمٰن صاحب ۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین،ایك حنفی المذہب عورت نے انتقال کیاجس نے اپنی جائداد کے ساتھ ایك شوہر،دو بیٹیاں،ایك حقیقی بھائی اور ایك عم زاد بہن کا بیٹا چھوڑا اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا۔قبل از تقسیم ترکہ مرحومہ کی وفات کے دو سال بعد اس کے شوہر نے جائداد مذکورہ سے زمین کا ایك قطعہ مسجد بنانے کے لئے وقف کردیا جس پر بتوسل جماعت مسجد تعمیر کی گئی اور پنجوقتہ نماز بھی قائم ہوگئی،لیکن بعض لوگ اس میں عدم جوازنماز کے قائل ہیں کہ وقف صحیح نہ ہوا۔مرحومہ کا شوہر یہ کہتا ہے کہ مجھ سے مرحومہ نے یہ وصیت کی تھی کہ مسجد کی عمارت کےلئے ایك قطعہ زمین وقف کرے اگر شرعًا یہ وقف صحیح نہ ہوگاتو میں اپنے حصہ رسدی سے اس وقف کو برقرار رکھوں گا۔صورت مذکورہ میں وقف اول صحیح ہوکر نماز پڑھنا اس میں درست ہے یانہیں؟برصورت عدم جواز اپنے حصہ میراث سے وقف کا برقرار رکھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
ترکہ متوفی حسب شرائط فرائض بارہ سہام ہوکر تین سہم شوہر،چار چار ہر دختر،ایك برادر کو ملے گا۔عم زاد بہن کا بیٹا محروم ہے۔ اگر صحیح ہے کہ مورثہ نے یہ وصیت کی تھی اور یہ قطعہ(بعد ادائے دین اگر ذمہ موروثہ ہو)ثلث متروکہ سے زائد نہیں تو وقف صحیح ونافذ ہوگیا اور وہ قطعہ مسجد اور اس میں نماز مسجد میں نماز۔یوہیں اگر ثلث متروکہ سے زائد ہو اور باقی ورثہ یعنی بیٹیاں اور بھائی سب عاقل بالغ اور سب اس وصیت کو قبول کیا اور جائز رکھا،جب بھی یہی حکم ہے۔یونہی اگر وصیت ثابت نہ ہو اور شوہر نے ایك قطعہ معینہ جس میں باقی ورثہ کے بھی حصے تھے تعمیر مسجد کے لئے وقف کردیا اور باقی سب ورثہ نے بشرط عقل وبلوغ اسے جائز رکھا جب بھی یہی حکم ہے۔ان سب صورتوں میں وہ مسجد ہوگیا،
وذٰلك لانہ فی الاخیر فضولی فی حصصھم وقد صدر منہ مالہ مجیزحین صدورہ وقد اجازوا فنفذ ولم یمنع الشیوع لعدمہ عند اجتماعھم علی تجویزہ قال فی ردالمحتار لوبینھما ارض وقفاھاودفعاھا معا الٰی قیم واحد جاز اتفاقا لان المانع من الجواز عند محمد ھو الشیوع وقت القبض لاوقت العقد ولم یوجد ھٰھنا[1]۔
اور یہ اس لئے ہے کہ صورت اخیرہ میں وہ(شوہر)دیگر ورثاء کے حصص کو مسجد بنانے میں فضولی ہے اور یہ فعل اس سے اس حال میں صادر ہوا کہ صدور کے وقت اسکو جائز کرنے والا موجود ہے اور انہوں نے اس کی اجازت دے کر جائز کردیا اور شیوع یہاں مانع نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ تمام اس کے جائز رکھنے پر مجتمع ہوگئے تو شیوع رہا ہی نہیں،ردالمحتار میں ہے دو شخصوں کی اگر مشترکہ زمین ہو اور دونوں نے معًااس زمین کو وقف کرکے ایك ہی متولی کے حوالے کردیا تو بالاتفاق جائز ہے،اس لئے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیك مانع جواز شیوع ہے جو وقت قبض ہو نہ کہ وقت عقد،اور یہاں وقت قبض شیوع نہیں پایا گیا(ت)
ہاں اگر کوئی وارث غیر عاقل یانابالغ ہے یا ان بعض نے اس تصرف کو جائز نہ رکھا بے وصیت مطلقًا اور بحال وصیت جبکہ ثلث سے زائد ہوتو البتہ وہ مسجد مسجد نہیں اور اس سبب سے کہ اس میں ایسے کی ملك ہے جس کی اجازت نہیں یاجس کی اجازت شرعًا اجازت نہیں اس میں نماز ناجائز۔یہ حکم بھی متفق علیہ ہے کہ مسجد میں شیوع بالاجماع ممنوع،
لان بقاء الشرکۃ یمنع الخلوص ﷲتعالٰی ش عن النھر والفتح[2]۔
کیونکہ بقاء شرکت اﷲ تعالٰی کے لئے شے کے خالص ہونے سے مانع ہے،ش نے نہر اور فتح سے واضح کیا۔(ت)
ہاں اگر شوہر تقسیم صحیح شرعی کرائے اور یہ قطعہ اس کے حصہ میں آئے اس کے بعد اسے یہ مسجد کرے تو اب مسجد ہوجائے گا لزوال المانع(مانع ختم ہوجانے کی وجہ سے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۷:مسئولہ سید مصباح القیوم صاحب ساکن شہر رائے پور بیجناتھ پارہ مدرسہ اصلاح المسلمین صوبہ سی پی۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کے متعلق طہارت خانہ وغیرہ بنانے کی غرض سے مسجد کے روپیہ سے ایك قطعہ زمین کا مسجد سے علیحدہ مگر قریب میں خریدا کیونکہ زمین بہت ہے مسجد کی ضرورت کی چیزیں بن جانے پر بھی باقی رہ گئی اور مسجد کی کوئی منفعت مقصود نہیں اور اہلسنت نے ایك مدرسہ قائم کیا ہے اس کےلئے مکان کی ضرورت ہے تو کچھ مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ زمین مذکور پر مدرسہ تعمیر کرادیں اور قیمت زمین کی مدرسہ کی آمدنی سے لے کر مسجد میں داخل کیا جائے تو شرعًا یہ جائز ہے کہ نہیں اور در صورت عدم جواز کوئی حیلہ اس کے جواز کا ہوسکتا ہے یانہیں؟
الجواب:
جائز ہے کہ وہ باقیماندہ حاجت مسجد سے زیادہ زمین(کہ سابق سے وقف نہ تھی بلکہ مسجد کے روپیہ سے مسجد کےلئے خرید ی تھی)مدرسہ کےلئے بیع بقیمت مناسب کرکے ر ثمن داخل مسجد کیا جائے جبکہ احتیاط و امانت کاملہ سے کام لیاجائے۔عالمگیری میں ہے:
متولی المسجد اذااشتری بمال المسجد حانوتا اودارا ثم باعھا جاز اذاکانت لہ ولایۃ الشراء بناء علی ان ھذہ الداروالحانوت ھل تلتحق بالحوانیت الموقوفۃ علی المسجد معناہ ھل تصیر وقفا،المختار انہ لاکذا فی المضمرات[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایك مسجد کے متولی نے مسجدکے مال سے دکان یا گھر خریدا پھر بیچ دیا تو جائزہے جبکہ اس کو خرید نے کی ولایت حاصل ہو،یہ مبنی ہے اس بات پر کہ کیا یہ دکان اور گھر مسجد پر وقف شدہ دکانوں سے ملحق ہوگا،اس کا معنٰی یہ ہے کہ کیایہ وقف ہو جائیگا،مختاریہ ہے کہ نہیں ہوگا۔مضمرات میں ایسا ہی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۸: ۱۴شوال۱۳۳۸ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع