دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

واضح رہے کہ مسجد کا کوئی پشتہ نہیں اور نہ پشتہ اس جگہ ہے جہاں مسجد کے دو پر نالوں کا پانی گرتا ہے،اس صورت میں کیاحکم شرع ہے؟نشست گاہ یا ڈیوڑھی وغیرہ بننے سے مسجد کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور پانی مسجد کا کسی صورت میں روکا نہیں جاتا۔

الجواب:

مسجد کا پشتہ نہ ہو آبچك کے لئے زمین مسجد نے چھوڑی ہوگی،اسے اپنے تصرف میں لانا حرام ہے،ہاں اگر ثابت ہو کہ مسجد کی کوئی زمین نہ چھوٹی تھی صرف پانی بہانے کا اس کی زمین میں حق تھا تویہ اس میں عمارت بناسکتا ہے جبکہ مسجد کا پانی نہ روکے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۰۵:            ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب آوردہ مولٰنا مولوی سید نذیر احمد صاحب      ۱۸جمادی اولٰی ۱۳۳۸ھ

سوال بعینہ مثل سوال ثانی ۲۹/شوال ۱۳۳۷ھ مذکور باب احکام المسجد۔

الجواب:

اس سوال کا جواب جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ پھر رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ پھر شوال ۱۳۳۷ھ میں تین بار یہاں سے جاچکا،اس بار اس کے ساتھ ایك اور تحریر طویل بایں خلاصہ ہے کہ اس سوال میں زید مستفتی نے اخفائے حق کیا،حقیقت امریہ ہے کہ ان لوگوں نے دکانات مسجد کی چھت پر ایك مدرسہ بلا معاوضہ قائم کرلیا اور کمیٹی سے اس کی بقا کا اقرار نامہ لکھا لیا ہے،یہ حالت دیکھ کر تحفظ آئندہ کے لئے یہ پتھر لگایا گیا جس میں دکانات وحمام کے وقف علی المسجد ہونے کا تذکرہ ہے کہ آئندہ کوئی متولی سابق کی طرح ان دکانوں پر دعوٰی نہ کر بیٹھے۔اعلان میں معلن کا نام ضرورہے،گمنام اعلان ایسا نہیں ہوتا،لہذا بکر نے اپنا نام لکھا نہ بقصدریاء نہ طلب دعا۔یہ پتھر سجدہ کی جگہ سے دس فٹ بلند ہے تو نمازی کا سامنا

 

نہیں ہوگا اور اندر کے محراب پرنہیں بلکہ بیرونی محرابی دروں پر،وہی لوگ جن سے اندیشہ ہے اس پتھر کا انعدام چاہتے ہیں کہ اس کی بقاء میں تحفظ واستحکام وقف ہے انتہی ملخصًا۔

فریق ثانی کی طرف سے بھی سوال مع جواب آیا تھا کہ اس پتھر کا نصب جائز نہیں بلکہ غیبت میں داخل ہے اور اس کا جواب بھی رمضان مبارك عــــــہ ۱۳۳۶ھ میں گیا کہ اگر وہ افعال متولی سابق سے صادر ہوئے اور اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں تو ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتا،خصوصًا منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہو،ہاں اس کا نصب کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہو تو بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:لاتذکر وا امواتکم الابخیر[1] (اپنے مردوں کا تذکرہ سوائے بھلائی کے مت کرو۔ت)اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:

لاتسبو الاموات فانھم قد افضوا الٰی ماقدموا[2]۔

اپنے مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)

بایں ہمہ جبکہ بلا مصلحت شرعیہ عبث ہے عبث سے ویسے ہی بچنا چاہئے نہ کہ وہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہواگر وقف میں خیانت واضرار کا اندیشہ ہے اور اس پتھر کا نصب کرنا مانع ہوگایا اسی طرح اور کوئی مصلحت مہمہ شرعیہ ہے تو نصب میں حرج نہیں بلکہ حاجت ہوتو اجر ہے،یہ اس جواب کا خلاصہ ہے جو فریق ثانی کو یہاں سے گیا،اب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ محض بلامصلحت ہوتو جدا کردیں اور مصلحت شرعیہ ہے تو قائم رکھیں،پھر اگر موضع نظر سے اتنا بلند ہو کہ جب تك نظر اوپر کو اٹھاکر نہ دیکھیں نظر نہ آئے کسی طرح نقش دیوار قبلہ کی کراہت میں نہیں آتا،یہ خود اس نمازی کا قصور ہے،اسے نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا کب جائز تھا،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

عــــــہ:مندرجہ صفحہ ۴۷۲۔

لینتھین اقوام یرفعون ابصارھم الی السماء فی الصلوٰۃ اولتخطفن ابصارھم[3]۔رواہ مسلم۔

وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو وہ اپنی اس حرکت سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچك لی جائے گی(اسے مسلم نے روایت کیا۔ت)

اور اگر اتنا بلند نہیں تو ضرورموقع کراہت میں ہے اور اس میں اندرونی وبیرونی محراب کا تفرقہ نہیں مسجد کا درجہ مسقفہ وصحن دونوں مسجد ہیں اس حالت میں چاہئے کہ اس تحریر پر نمازوں کے اوقات میں غلاف ڈال دیں،ہم نے فتوٰی سابقہ میں سنن ابی داؤد کی حدیث نقل کی کہ دیوار غربی کعبہ معظمہ میں(اس)مینڈھے کے(جو سیدنا اسمٰعیل عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا فدیہ ہوا)سینگ نصب تھے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:

خمرھما فانہ لاینبغی ان یکون فی قبلۃ البیت شیئ یلھی المصلی[4]۔

انہیں(سینگوں کو)ڈھانك دو کہ نمازی کے سامنے کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جسے سے دل بٹے۔

نام کا جواب بھی فتوٰی سابقہ میں تھا کہ ریاء کو حرام مگر بلاوجہ شرعی مسلمان پر قصد ریا کی بدگمانی بھی حرام،اور بنظر دعا ہے تو حرج نہیں،نہ کفایت اجمال منافی طلب خصوص۔اور یہ مصلحت کہ اس تحریر میں بتائی ضرور قابل لحاظ ہے جبکہ اس کا نام وجہ اعتبار اعلان یا زیادت اعتبار ہو،

وانما الاعمال بالنیات وانمالکل امرئ مانوی[5]۔

 



[1]                                 اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ اللعن دارالفکر بیروت ۷/ ۹۱۔۴۹۰

[2]                                 صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،سنن النسائی کتاب النہی باب ماینہی عن سب الاموات نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴

[3]                        صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النہی عن رفع البصر الی السماء فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱

[4]                       سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب الصلوٰۃ فی الکعبہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۷۷،مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ من بنی سلیم دارالفکر بیر وت ۴/ ۶۸

[5]                صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ پشاور کراچی ۱/ ۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن