دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

جبکہ وہ روپیہ انہوں نے متولیان مسجد کو ابھی سپرد نہ کیا تو ان کی ملك ہے،اس میں تصرف جائز کا انہیں اختیار ہے قرضوں بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا،یہ باہمی تراضی بائع ومشتری پر ہے،

 

قال تعالٰی " اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[1]۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔

اﷲ تعالٰی  نے فرمایا:مگر یہ کہ تمہارے درمیان باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۳۰۰:                     ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی فاروقی                  ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں درخت بہی بیلا،گلاب وغیرہ ہو اور بوجہ تعمیر ہونے حجرہ وغسل خانہ کے ان درختوں کو کاٹا جائے تو کوئی شخص ان درختوں کو کھود کر اپنے مکان میں لگا سکتا ہے یانہیں؟ دوسرے یہ کہ پیال یا لرسی موسم سرما میں جو مسجدوں میں ڈالی جائے اور بعد گزرجانے موسم سرما کے اس کو نکال کر پھینك دیتے ہیں تو جو شخص اس پیال یا لرسی یا چٹائی کہنہ قابل پھینك دینے کے ہواس کو اپنے صرف میں مثل پانی گرم کرنے کے لاسکتا ہے یانہیں؟ یہ کہ منڈیر یا فصیل مسجد جس پر وضو کرتے ہیں یا اذان دیتے ہیں وہ مسجد کے حکم میں داخل ہے،کیا مثل مسجد کے بات وغیرہ کرنے کی وہاں بھی ممانعت ہوگی؟ بینواتوجروا۔

الجواب:

ان درختوں کو مسجد سے واجبی ومناسب قیمت پر مول لے کر لگا سکتاہے۔پیال یا چٹائی بیکار شدہ کہ پھینك دی جائے لے کر صرف کرسکتاہے۔فصیل مسجد بعض باتوں میں حکم مسجد میں ہے معتکف بلا ضرورت اس پر جاسکتا ہے اس پر تھوکنے یا ناك صاف کرنے یا نجاست ڈالنے کی اجازت نہیں،بیہودہ باتیں،قہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اوربعض باتوں میں حکم مسجد نہیں اس پر اذان دیں گے اس پر بیٹھ وضوکر سکتے ہیں جب تك مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیں،دنیا کی جائز قلیل بات جس میں چپقلش ہو نہ کسی نمازی یا ذاکر کی ایذا اس میں حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۰۱:                      ۲۶صفر۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد نیاریاں شکستہ ہے چھت اس کی بالکل خارج ہے اور کڑیاں ٹوٹ گئی ہیں اور بعض بعض خمیدہ ہوگئی ہیں،منارے جھری دے گئے ہیں،لہذا ہم اہل محلہ یہ بات چاہتے ہیں کہ از سرنو تعمیر کریں۔اراضی مسجد کی افتادہ اتر وپچھم کی بڑھانا منظور ہے۔چنانچہ کچھ روپیہ جمع ہے اور باقی جو روپیہ زائد صرف ہوگا چندہ جمع کرکے انجام دیں گے اس واسطے کہ موسم بارش میں نمازیوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے موجودہ بنیاد کو نکال کر دوسری بنیاد قائم کریں۔

الجواب

مسجد کی مرمت واجب ہے،بارش کی تکلیف کہ چھت ٹپکنے سے سائل نے بتائی اس سے دفع ہوجائے گی،اس قدر کےلئے اگر موجودہ روپیہ کافی نہ ہو چندہ کریں باقی اصل مسجد کی بنیادیں نکال کر شما ل ومغرب کی زمین متعلق مسجد میں مسجد بڑھانے کے لیے جدید بنیادیں قائم کرنا اگر ا س توسیع کی مسجد کو صحیح ضرورت ہے کریں ورنہ بے ضرورت بڑھانا اور مسلمانوں پر چندہ کاباربلاوجہ بہت بڑھادینا کس لئے!ہر مسجد میں جمعہ وعیدین قائم کرنا کوئی شرعی ضرورت نہیں!فتح القدیر میں ہے:

انما امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری[2]۔

بیشك ہمیں حکم دیا گیاہے کہ ہم وقف کو بغیر کسی زیادتی کے حال سابق پر قائم رکھیں(ت)

مسئلہ۳۰۲:             ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کبیر محلہ میں بوجہ ضعف اسلام وتسامح الناس قدرے گر پھوٹ گئی ہے اور بعد کو بعون خدا تعالٰی  مرمت کا ملہ کرادی گئی ہے اور پیش امام وغیرہ نیز بدستور مقرر کئے گئے ہیں اور صلوٰۃ خمسہ،جمعہ،اذان اس میں پڑھی جاتی ہے۔پس بوقت غیر آبادی وشکستگی مسجد مذکور بالا کے ایك مرد مسلم نے ایك مسجد صغیر عنقریب ومتصل اس کے چار گز کے فاصلہ پر بنائی تھی جو کہ اب تك آباد ہے اور اس میں بھی اذان صلوٰۃ بالفعل ہورہے ہیں،کیا اس شخص کو مسجد جدید بنانی عندالشرع جائز تھی یانہ؟اور اب اس کا گرانا جائز ہے یانہ؟

الجواب:

حاشا اس کا گرانا بھی جائز نہیں،دونوں کا آباد رکھنا واجب ہے،اسے مناسب یہ تھا کہ مسجد قدیم ہی کی تعمیر کرتا اور اتنے قریب دوسری مسجد نہ بناتا اب کہ بن گئی ہدم حلال نہیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۰۳:            ازموضع سرولی ڈاکخانہ کچا ضلع نینی تال مرسلہ محمد حسین خورد       ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی صف دوسری مسجد میں لاکر نماز فرض یا واجب پڑھی جائے تو ہوسکتی ہے یانہیں؟جیسے کہ نماز الوداع میں اکثر صفو ں کی ضرورت ہوتی ہے،تو جس جگہ موضع میں دو مسجدیں ہوتی ہیں تو مسجد جامع میں دوسری مسجد کی صفیں لاکر نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز پڑھی جائے تو ازروئے شرع شریف نماز دوسری مسجد کی صفوں پر ہوسکتی ہے یانہیں؟بینوا توجروا۔

الجواب:

ایك مسجد کی صفیں دوسری مسجدمیں لےجانا ممنوع وناجائز ہے،نماز مکروہ وناقص ہوگی۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۰۴:            ازبریلی مسئولہ مولوی میراحمد صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ منظر اسلام      ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا پاخانہ پشت مسجد سے ملحق تھا اس کو بوجہ مسجد منہدم کرادیا اور کوئی عرصہ دو ماہ سے کچھ لوگ وہاں پر کوڑاوغیرہ ڈالنے لگے اب زید یہ چاہتا ہے کہ اس ملحق پشت مسجد زمین کی اپنی نشست گاہ بنوا دے اور مسجد کے دو پرنالوں کا پانی اپنی چھت پر لے یا اس اراضی کو اپنی ڈیوڑھی بنالے اس صورت میں ایك پر نالہ اپنی ڈیوڑھی پر لے اور دوسرے پر نالے کا پانی باہر نکال دے،اور ساتھ ہی اس کے یہ



[1]                               القرآن الکریم ۴/ ۲۹

[2]                                فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن