دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

ماتن کے قول" کل عقد"سے بظاہر مراد عقد مبادلہ ہے اور قول ماتن"بشرطہ"میں شرط سے مراد یہ ہے کہ معتکف کا عقد بیع و شراء بغرض تجارت نہ ہو(ت)

خود بانی نے کہ جامع مسجد بناکر اس مسجد کے ایك حصہ زمین میں اس کا زینہ بنایا یہ بھی ناجائز ہے کہ مسجد بعد تمامی مسجدیت کسی تبدیل کی متحمل نہیں۔واجب ہے کہ اسے بھی زائل کرکے اسے خاص مسجد ہی رکھیں۔درمختار میں ہے:

امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذٰلك لایصدق تاتارخانیۃ،فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد[1]۔

لیکن مسجدیت تام ہوگئی اب واقف اس پر(حجرہ امام)تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو روکا جائیگا،اگر وہ کہے کہ شروع سے میری نیت ایسا کرنے کی تھی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی تاتارخانیہ،جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو ا سکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجدپر ہو۔(ت)

مسلمانوں پر اسے باقی رکھنا اور تاحد قدرت ہر جائز طریقہ سے اسے مسجد رہنے میں پوری کوشش کرنا فرض قطعی ہے جو اس میں کوتاہی کرے گا سخت عذاب الٰہی کا مستحق ہوگا۔

قال اﷲ تعالٰی  "وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴)"[2]

اﷲ تعالٰی  نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ  کی مسجدوں کو روکے ان میں ذکر الٰہی ہونے سے،اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے،انہیں روانہ تھا کہ ان میں جاتے مگر ڈرتے ہوئے،ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔والعیاذ باﷲتعالٰی (اﷲ تعالٰی  کی پناہ) واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۲۹۸:             ازشہر الہ آباد زیر مسجد جامع چوك مرسلہ مرزا واحدعلی خوشبو ساز                              ۲۹شوال۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد شاہی زمانہ کی بنی ہوئی تھی اس کے متعلق خام دکانیں بھی تھیں جن کے کرایہ کی آمدنی تیس چالیس روپے ماہوار تھی وہ آمدنی متولی سابق جو کہ اس مسجدمیں امامت بھی کرتے تھے ان کے خرچ میں اور موذن وتیل بتی وپانی وختم تراویح کی مٹھائی وغیرہ مصالح مسجد میں صرف ہوتی تھی چونکہ مسجد اور اس کی دکانیں بہت بوسیدہ ہوگئی تھیں،لہذا ایك صاحب نے بمشورہ اہالیان مسجد اپنے ذاتی روپے سے دکانیں پختہ کرائیں جس سے کرایہ قریب ڈیڑھ سوکے ہوگیا،اسی کرایہ سے وہ صاحب قسط واراپنا روپیہ بھی وصول کرتے رہے اور مسجد بھی چندہ سے از سرنو تعمیر کرائی گئی اور انتظام مسجد کےلئے ایك کمیٹی قائم کی گئی اورمتولی سابق علیحدہ کئے گئے جن لوگوں کی کوشش سے دکانیں پختہ کرائی گئیں ان لوگوں میں نمازی مسجد اور اہل محلہ بھی شریك ہیں ان سب کے اور ممبران کمیٹی کے مشورہ سے یہ بات طے پائی کہ وہ اخراجات جو سابق میں مسجد کی آمدنی سے ہوتے تھے بدستور قائم رہیں،اس کے علاوہ کچھ افطاری رمضان شریف میں نمازیوں کے واسطے بھی دی جائے،دس بارہ برس ہوئے کہ اس پہ عملدرآمد چلاآرہاہے،زید کہتا ہے کہ جو اخراجات مصالح مسجد میں شامل ہیں وہ قائم رہنا چاہئے اور جو اخراجات مصالح مسجد میں نہیں ہیں،مثلًا شیرینی ختم تراویح افطاری رمضان شریف وہ جائز نہیں ہیں بند ہونا چاہئے۔بکر کہتا ہے کہ جن اوقاف کا وقف نامہ موجود نہ ہو اور وقف کے شرائط معلوم نہ ہوں جیسے صورت مسئولہ میں،تو اس میں عملدرآمد سابق پر کار بند ہونا چاہئے،چونکہ شیرینی ختم قرآن شریف کی ہمیشہ متولیان سابق کے زمانے میں برابر آتی رہی لہذااب بھی ویسا ہی آنا چاہئے اور بے تکلف جائز ہے،باقی رہا افطاری جو دس بارہ برس سے ممبر ان کمیٹی جو تمام مسلمانوں کی طرف سے قائم ہے ان کی تجویز سے آنے لگی ہے گو کہ یہ ایك امر جدید ہے لیکن اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں ہوتا کیونکہ جیسے بانی اول کو اوقاف کے اخراجات کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی بانیان ثانی کہ جس میں نمازی مسجد واہل محلہ روپیہ خرچ کرنے والے سب شریك ہیں اور انہوں نے کوشش کرکے آمدنی بڑھائی اور مسجد از سر نوبنوائی تو ا س کو بھی اپنی بڑھائی ہوئی آمدنی میں ضرور اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ہوناچاہئے کیونکہ اہل محلہ ونمازیوں کے تصرفات بہت وسیع ہیں اور کمیٹی انہیں کی طرف سے قائم ہے تو کمیٹی کا فعل عین ان کا فعل ہے غرض اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ثانی کو بھی ہونا چاہئے بالخصوص ایسے موقع میں کہ باوجود ان سب اخراجات بالا کے پھر بھی آمدنی مسجد میں بچت ہوتی ہے،پس دریافت طلب امریہ ہے کہ زید کا قول صحیح ہے یا بکرکا ؟

الجواب:جہاں شرط واقف معلوم نہ ہو عملدرآمد قدیم کا اعتبار ہے۔خیریہ میں ہے:

ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان ان قوامہ کیف کانوایعملون[3]۔

دیکھا جائے گا کہ قدیم سے متولیوں کا عملدرآمد اس وقف کے بارے میں کیا چلاآرہا ہے(ت)

"قدیم"کے یہ معنی"جس کا حادث ہونا معلوم نہ ہو"۔دس بارہ برس یا سود و سو برس سے جو بات بعد واقف بے شرط واقف حادث ہوئی حادث ہی ہے،اس پر عمل ناجائز ہے۔ فتح القدیر میں ہے:

الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری[4]۔

وقف کو بغیر کسی زیادتی کے سابقہ حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔(ت)

شیرینی قدیم اگر اسی معنی پر قدیم ہے کہ اس کا حادث ہونا معلوم نہیں،وہ اب بھی دی جائے گی اور افطاری کہ دس بارہ برس سے نوایجاد ہے نہ ہوسکے گی۔مسجد از سر نوبنوانے والوں کو تو دکانات وقف سے کچھ تعلق نہیں کہ ان کو اس میں اختیار ہو،اور دکانیں پختہ کرنا اسی وقف کی پختگی ہے نہ کہ وقف جدید خصوصًا جبکہ وہ اپنا لگایا ہوا روپیہ وصول بھی کررہا ہے تو قرض دینے والا ہے نہ کہ واقف۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۲۹۹:                              از احمد آباد مرسلہ حکیم مولوی عبدالرحیم صاحب                         ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم نے چندہ کرکے ہزار دو ہزار روپیہ جمع کئے ہیں اب اس کے بعد تدبیر یہ کی کہ اس مال سے کپڑا سفید خریدتے ہیں اور اس کو ادھار نفع چڑھا کربیچتے ہیں اور اس سے جو نفع پیدا ہوتا ہے اس کو بھی جمع کرتے جاتے ہیں اور مقصدان حضرات کا یہ ہے کہ یہ رقم چار پانچ ہزار روپیہ کی جمع ہوجائے اس سے مکان قریب مسجد کے خریدنا ہے اور مسجد کو بڑھانا ہے،اب اس مسجد کے چندہ سے اس قسم کی تجارت شرعًا جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

 



[1]                       درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹

[2]                      القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[3]                       فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۰۶

[4]                       فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن