دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

 

مسجد ہیں۔

اولًا: پچیس تیس شہادتوں سے ثابت کہ وہ مسجد مشہور تھی اور وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے۔درمختار میں ہے:

تقبل فیہ (ای فی الوقف) الشہادۃ بالشھرۃ لاثبات اصلہ[1]۔

اصل وقف کے اثبات کےلئے شہرت کی بنیاد پر دی گئی شہادت مقبول ہے(ت)

عامہ مساجد واوقاف کو مسجد ووقف ماننے کا ذریعہ یہی شہرت ہے اگر یہ کافی نہ ہو وہ سب باطل ہوجائیں، جامع الفصولین میں ہے:

تقبل فی الوقف الشھادۃ بسماع ولو صرحا بہ اذ الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ[2]۔

وقف میں سمعی شہادت مقبول ہے اگرچہ دونوں گواہوں نے اس کی صراحت کردی ہو(کہ وہ شہادت بالسمع دے رہے ہیں)بسااوقات گواہ بیس سال کا ہوتا ہے اور تاریخ وقف سو سال پرانی ہوتی ہے۔(ت)

سات آٹھ شہادتیں واقف کے اقرار وقف کی ہیں اور دربارہ وقف یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اسے وقف کیا اور یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اس کے وقف کا اقرارکیا دونوں یکساں ہیں۔جامع الفصولین میں ہے:

شھدا انہ اقر انہ وقف جمیع حصتہ وقفا یصیر جمیع حـصتہ وقفا[3]۔

گواہی دی گئی کہ واقف نے اپنا تمام حصہ وقف کرنے کا اقرار کیا ہے تو اس کا تمام حصہ وقف ہوجائے گا۔(ت)

اسی طرح ذخیرہ وظہیریہ وہندیہ وغیرہا میں ہے،اور سالہاسال تك اس میں منبر ومؤذن وامام وجماعت پنجگانہ جہت وقف یعنی مسجدیت کی تعیین کرتی ہے،بحرالرائق میں ہے:

بنی فی فنائہ فی الرستاق دکانا لاجل الصلٰوۃ یصلون فیہ بجماعۃ

متولی مسجد نے فنا ئے مسجد کی جانب میں نماز کیلئے ایك دکان بنائی لوگ اس میں ہمیشہ باجماعت

 

 

کل وقت فلہ حکم المسجد[4]۔

نمازپڑھتے ہیں تو وہ دکان حکم مسجد میں ہوگی(ت)

ثانیًا راج کے سمجھنے کو اس کے کاغذات میں مسجد درج ہونا ہی بس ہے۔شرح الاشباہ محقق ہبۃ اللہ  البعلی میں ہے:

لو وجد فی الدفاتران المکان الفلانی وقف علی المدرسۃ الفلانیۃ مثلا یعمل بہ من غیر بینۃ و بذٰلك یفتی مشایخ الاسلامی کما ھو مصرح بہ فی بھجۃ عبداﷲ افندی وغیرہا فلیحفظ[5]۔

اگر رجسٹروں میں مندرج ہے کہ فلاں مکان فلاں مدرسہ پر وقف ہے تو گواہوں کے بغیر اس پر عمل کیا جائے گا،اسی پر مشائخ اسلام نے فتوٰی دیا جیسا کہ عبداللہ  آفندی کی بہجہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے،اس کو محفوظ کرلینا چاہئے۔(ت)

اس پر وارثان زید خواہ کسی کو کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا اور اسے دوبارہ دکان تجارت کردینا حرام حرام سخت حرام،اور مذہب اسلام میں دست اندازی ہے جسے راج وغیرہ کوئی روانہ رکھے گا۔اس میں کسی کاردنیا کےلئے بیٹھنا یا اس کا کرایہ لینا دینا یا اس میں کوئی چیز بیچنا خریدنا یا بیچنے خریدنے کےلئے اس میں جانا سب حرام قطعی ہے۔درمختار میں ہے:

لایجوز اخذ الاجرۃ منہ ولاان یجعل شیئا منہ مستغلا ولاسکنی،بزازیۃ[6]۔

اس سے اجرت لینا جائز نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ یا رہائش کےلئے مقرر کیا جائے،بزازیہ(ت)

اسی میں ہے:

یحرم فیہ السوال ویکرہ کل عقد الالمعتکف بشرطہ والکلام المباح وقیدہ فی الظہیریۃ بان یجلس لاجلہ[7]۔

حرام ہے مسجدمیں سوال کرنا،اور مکروہ ہے مسجد میں ہر عقد، مگر معتکف کو ا س کی مشروط اجازت ہے۔مسجد میں مباح کلام مکروہ ہے،اور ظہیریہ میں یہ قید لگائی کہ مسجد میں بیٹھا ہی کلام مباح کیلئے ہو تب مکروہ ہے۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

قولہ کل عقد الظاھر ان المرادبہ عقد مبادلۃ،قولہ بشرطہ وھوان لایکون للتجارۃ[8]۔

 



[1]        درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸

[2]        جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹

[3]        جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰

[4]        بحر الرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۰

[5]        شرح الاشباہ للمحقق ہبۃا ﷲالبعلی

[6]        درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹

[7]        درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳و۹۴

[8]                       ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن