دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

مثل شکست وریخت وتنخواہ پیش امام نیز بماہ صیام انتظام روزہ کشائی جو ۴/روزانہ کے حساب سے رہا ختم کلام اللہ  پر تقسیم شیرینی وروشنی عرصہ دس بارہ سال سے برابر عمل میں آتی رہی لیکن چند سال سے بعض علماء جو ایك ہی دارالعلم کے سرچشمہ سے سیراب ہیں اور ایك مدرسے سے تعلق رکھنے کے باعث رونق افروز بمقام ہذا ہیں اور اس مسجد سے اس وجہ سے واسطے رکھتے ہیں کہ کچھ رقم پیش امام کے نام سے مدرسہ کےلئے بطور امداد لی جاتی ہے اور فرائض امامت مدرسہ ہی کے کوئی نہ کوئی مولوی صاحب ہی ادا کرتے رہتے ہیں یہ حضرات آمدنی مسجد سے روزہ کشائی کرانا اور ختم قرآن پر تقسیم شیرینی وروشنی وغیرہ کرنا ناجائز بتاتے ہیں چنانچہ گذشتہ چوتھے سال ختم قرآن مجید پر حسب طریق قدیم جب تقسیم شیرینی عمل میں نہ آئی جس کی بندش کی صورت ایسے طریقے پر کی گئی تھی جو شان عالم کے خلاف کیا بلکہ ایك دنیادار کے واسطے بھی موجب شرم تھی تو اہل اسلام میں اختلاف رونما ہو کر ایك فتنہ برپاہونے کااحتمال ہوا،اگر مولوی صاحب علیحدہ نہ کردئے جاتے تو یقینا تباہ کن نتائج مرتب ہوتے امسال دوسرے مولوی صاحب نے آمدنی مسجد سے روزہ کشائی ناجائز قرار دے کر مغرب کے وقت مسجد کی رونق جو بوجہ کثرت نمازیاں ہوجایا کرتی تھی،اس میں اس قدر کمی پیداکردی جو گزشتہ سال کی تعداد چالیس وپچاس کے بجائے آج کل دس بارہ ہوتی ہے کیونکہ ایك دو روز تك پابند صوم نمك کی ڈلی وپانی سے روزہ کشائی کرتے رہے بعدہ دیگر مسجد میں جہاں یہ اہتمام ہوتا ہے مکدر خاطر ہوکر چلے گئے،پس کیا امورات مرقومہ بالاآمدنی مسجد سے تکمیل کو پہنچانے جائزہیں یانہیں؟بینواتوجروا۔

ایضا

مسئلہ۲۹۲:ازفتح گڈھ کمپ ضلع فرخ آباد محلہ منگت مرسلہ محمد ایوب ومحمد یعقوب سودا گران پنجابی ۲۵/رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کا مال موقوفہ یعنی دکانیں جن کی آمدنی مسجد کےاخراجات کو کافی نہیں ہوسکتی تھی لہذااخراجات کے پوراکرنے کے واسطے مسلمان شہر سے چندہ وصول کرکے ایك شخص کی زیرنگرانی عمارت جدید بنائے سابقہ پر تیار ہوئی بفضلہ تعالٰی  ان کی آمدنی اخراجات مسجد کو کافی ہوتے ہوئے قدرے پس انداز ہوتا رہا بایں سبب بعض جاہل اور ناخواندہ مہتمموں نے رمضان المبارك میں ختم قرآن پاك شیرینی اور افطاری کا سامان اسی میں سے کیا اب اس مسجد کی تولیت اور اہتمام کاکام ایسے لوگوں کے سپرد ہوا جوان سے ذی علم ہیں چنانچہ ختم قرآن پاك کی شیرینی اور افطاری کا سامان اپنے پاس سے کیا اور کررہے ہیں،ان کا یہ خیال ہے کہ اس رقم کو جوپس انداز ہوتی رہی ہے اس کو زمین افتادہ موقوفہ زیر مسجد میں ایك مدرسہ تعمیر کرایا جائے اوراس آمدنی کو اس میں صرف کیا جائے چنانچہ آج کل میں تعمیر شروع ہونے والی ہے امسال بوجہ اغوائے شیطانی وہ شخص جس کے زیر نگرانی کچھ عرصہ تك یہ مسجد رہ چکی ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میری نگرانی کے زمانے میں توسیع آمدنی ہوئی ہے،لہذا مجھے حق حاصل ہے کہ ختم قرآن مجید کی شیرینی اور افطاری کا سامان اسی سے کروں،یہاں کی افطاری کی یہ صورت ہے کہ مختلف قسم کی مٹھائی اور مختلف قسم کی اشیا ء نمکین جن کی تعداد دس بارہ سے کم نہیں ہوتی اس میں شرکت کرنے والے نصف روزہ دار اور نصف بے روزہ،روزہ داروں میں فیصدی پچھتر مرفہ الحال تو پچیس غریب اس صورت میں ختم قرآن پاك کی شیرینی اور افطاری کا سامان مال موقوفہ سے اس صورت خاص میں بایں ہیئت کذائی کرسکتے ہیں یانہیں؟اور متولیان اورمہتممان سابق بعد علیحدہ ہوجانے تولیت اوراہتمام کے مال موقوفہ میں مجاز ہوسکتے ہیں یانہیں ؟بینواتوجروا۔

الجواب:

دارالافتاء میں یہ سوال فریقین کی طرف سے آیا فریق اجازت خواہ ان مصارف کا آمدنی اوقاف مسجد سے ہونا ایك جگہ دس بارہ سال سے کہتا ہے دوسری جگہ طریق قدیم اور فریق منع طلب اسے محض احداث جدید اور فعل جہال کہتا ہےاور اس کے بدلے زمین موقوفہ مسجد میں مدرسہ بناکر فاضل آمدنی مسجد اس میں صرف کرنا چاہتا ہے،یہاں حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرط واقف پر ہے یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کےلئے مسجد پر وقف کی ہوں ان میں صرف کیا جائے گا اگرچہ وہ افطاری و شیرینی وروشنی ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ[1](واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی نص۔ت)حتی کہ اگر اس نے  صرف تعمیر مسجد کےلئے وقف کی تو مرمت شکست و ریخت کے سوا مسجد کے لوٹے چٹائی میں بھی صرف نہیں کرسکتے افطاری وغیرہ درکنار،اور اگر مسجد کے مصارف رائجہ فی المساجد کے لئے وقف ہے تو بقدر معہود وشیرینی وروشنی ختم میں صرف جائز افطاری ومدرسہ میں ناجائز۔نہ اسے تنخواہ مدرسین وغیرہ میں صرف کرسکتے ہیں کہ یہ اشیاء مصارف مسجد سے نہیں ولایجوز احداث مرتبۃ فی الواقف فضلا عن الاجنبی البحت(جب خود واقف کےلئے کسی نئی چیز کا احداث وقف میں جائز نہیں تو محض اجنبی شخص کیلئے کیسے ہوسکتا ہے۔ت)اور اگر اس نے ان چیزوں کی بھی صراحۃً اجازت شرائط وقف میں رکھی یا مصارف خیر کی تعمیم کردی یا یوں کہاکہ دیگر مصارف خیر حسب صوابدید متولی،تو ان میں بھی مطلقًا یا حسب صوابدید متولی صرف ہوسکے گا۔غرض ہر طرح اس کے شرائط کا اتباع کیا جائے گا اور اگر شرائط معلوم نہیں تو اس کے متولیوں کا قدیم سے جو عملدرآمد رہا اس پر نظر ہوگی اگر ہمیشہ سے افطاری وشیرینی وروشنی ختم کل یا بعض میں صرف ہوتا رہا اس میں اب بھی ہوگا ورنہ اصلًا نہیں اور احداث مدرسہ بالکل ناجائز۔فتاوٰی خیریہ وغیرہ معتمدات میں ہے:

ان کان للوقف کتاب فی دیوان القضاۃ وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحسانا،والاینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوایعملون[2] (ملخصًا)

اگر خود وقف کےلئے کوئی تحریر دیوان القضاۃ میں موجود ہے تو متولیوں کو اس کے مندرجات کے مطابق عمل کرنا مستحسن ہے ورنہ قدیم سے حال وقف میں متولیوں کا جو عملدرآمد چلا آرہا ہے اس پر نظر ہوگی(ملخصًا)۔(ت)

قدیم سے ہونے کے یہ معنی کہ اس کا حدوث معلوم نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ یہ بلا شرط بعدکو حادث ہوا تو قدیم نہیں اگرچہ سو برس سے ہو اگرچہ نہ معلوم ہو کہ کب سے ہے،یہاں بحال عدم علم شرائط واقف زمین دکانیں اگر صورت حسب بیان فریق دوم ہے کہ چند سال سے بعض بے علموں نے افطار ی و شیرینی وروشنی کا احداث کیا جسے حسب بیان فریق اول دس بارہ برس ہوئے تو ناجائز ہے اور مدرسہ بنانااور اس میں صرف کرنا بھی حرام اور اگر بیان فریق اول کے یہ معنی کہ قدیم سے یہ مصارف ہوتے آئے بیچ میں بوقت قلت آمدنی قطع ہوگئے تھے کہ بعد اضافہ دس بارہ سال سے پھر جاری ہوئے اور واقع اس کے مطابق ہوتو بلاشبہ اس سےافطاری وروشنی وشیرینی ختم جائز ہیں

 

اور افطاری میں غیر روزہ دار اگر روزہ داربن کر شریك ہوتے ہیں متولیوں پر الزام نہیں۔بہتیرے غنی فقیر بن کر بھیك مانگتے اور زکوٰۃ لیتے ہیں دینے والے کی زکوٰہ ادا ہوجائے گی کہ ظاہر پر حکم ہے اورلینے والے کو حرام قطعی ہے یونہی یہاں ان غیر روزہ داروں کو اس کاکھانا حرام ہے۔وقف کا مال مثل مال یتیم ہے جسے ناحق کھانے پر فرمایا:

" اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠(۱۰) "[3]

اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔

 



      [1] درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰

[2]      فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۰۶

[3]        القرآن الکریم۴/ ۱۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن