دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان سرکاری عہدہ ممبری کے ملنے کے لئے جو لوگوں کی کوشش پر موقوف ہے مسلمانوں سے کوشش کرانا چاہتا ہے کہ کوشش کنندگان یہ کہتے ہیں تم تعمیر مسجد میں اس قدر روپیہ دو برتقدیر ممبر ہوجانے کے۔تو ہم لوگ تیار کوشش پر ہیں۔یہ رقم جو حق الاجرت ہے مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یانہیں؟

الجواب:

اسے حق الاجرۃ کہنا صحیح نہیں کہ ممبر کر دینا ان کا کام نہیں اور کوشش مجہول القدر ہے اور وقت معین نہ کیا تو یہ کسی طرح اجارہ جائزہ میں نہیں آسکتا، ہاں اگر یوں کرے کہ وہ ان کو مہینے پندرہ روز کے لئے بتعین تنخواہ وتعین وقت مثلًا تم کو دس دن کے لئے ہر روز صبح کے آٹھ بجے سے شام کے چار بجے تك اتنے معاوضہ پر اگرچہ وہ دس ہزار روپے ہوں نوکر رکھا پھر وقت مقرر میں جو کام چاہے لے ازاں جملہ یہ کوشش تو اس صورت میں اجارہ صحیح ہوجائے گا وقد افادھذہ الحیلۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ وغیرہما (تحقیق اس حیلہ کا افادہ خلاصہ اور خانیہ وغیرہ میں فرمایا ہے۔ت)مگر اس صورت میں وہ بات کہ برتقدیر ممبر ہوجانے کے ہے حاصل نہ ہوگی بلکہ یہ تنخواہ واجب الادا ہوگی اگرچہ ممبری نہ ملے،اور اگر یہ شرط کرلیں کہ ممبری ملنے پر یہ تنخواہ دی جائے گی تو پھر اجارہ فاسد وحرام ہوجائے گا،معہذا جب کہ یہ روپیہ ان کا حق الاجرۃ ہوگا ان کی ملك ہوگا اگر مسجد میں نہ دیں ان پر الزام نہ ہوگا۔ایك صورت یہ ہے کہ مسجد کی کوئی اینٹ یا لوٹا کپڑے میں سی کر مثلًا دو ہزار کو اس کے ہاتھ متولی مسجد بیع کرے اور وہ قیمت اور چیز کسی امین کے پاس رکھ دی جائیں اور یہ لوگ کوشش کریں اگر ممبری ہوجائے امین وہ چیز ممبر کو دے دے اور وہ روپیہ مسجد میں اور اگر ممبری نہ ہو تو یہ طالب ممبری اس چیز کو کھول کر اب دیکھے اور بحکم خیار رویت بیع رد کردے امین وہ چیز مسجد کو دے دے اور قیمت اس شخص کو پھیر دے،اس میں یہ بھی ہوگیا کہ روپیہ برتقدیر ممبری دیا جائے گاورنہ نہیں،اور جب دیا جائے گا تو مسجد ہی کی ملك ہوگا،دوسرا اس میں تصرف نہ کرسکے گا مگر اس میں یہ خامی ہے کہ ممبری ہوجانے پر بھی اسے اختیار ہوگا کہ چیز دیکھ کر بیع رد کردے تو ممبری بھی ہوگئی اور روپیہ بھی دینا نہ آیا۔اور اگر یوں ہو کہ طالب ممبری کہے میں اللہ  کے لئے منت مانتا ہوں کہ اگر ممبر ہوگیا تو دو ہزار روپے فلاں مسجد کی تعمیر میں دوں گا تو یہ بھی اس کے اختیار پر رہے گا کہ تعمیر مسجد کی نذر صحیح ولازم نہیں، بدائع وردالمحتار میں ہے:

من شروطہ ان یکون قربۃ مقصودۃ فلا یصح النذر بالوضوء والاذان وبناء الرباطات والمساجد[1]۔

نذر کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ وہ قربت مقصودہ ہو لہذا وضو،اذان،خانقا ہوں اور مسجدوں کی تعمیر کی نذر صحیح نہیں۔(ت)

اگروہ یوں کہے کہ ممبری ملنے پر اسی دن دو ہزار فلاں مسجد کو دوں گا نہ دوں تو دس ہزار روپے فقرائے مسلمین کو دوں اگرچہ نذر مسجد لازم نہ ہوئی یہ نذر تو یقینا نذر صحیح ہے اس کے خوف سے مسجد کو دو ہزار دے گا تو یہ بھی کافی نہیں کہ یہ نذر معنی میں قسم ہے،اگر مسجد کو روپیہ نہ دے تو اسے اختیار ہوگا کہ صرف قسم کا کفارہ دے دے اور بری الذمہ ہوگیا،درمختار میں ہے:

ان المعلق فیہ تفصیل فان علقہ بشرط یریدہ کان قدم غائبی یوفی وجوبا ان وجد الشرط وان علقہ بمالم یردہ کان زنیت بفلانۃ مثلًا فحنث وفی بنذرہ اوکفر لیمینہ علی المذھب لانہ نذر بظاھر ویمین بمعناہ فیخیر ضرورۃ[2]۔

پھر نذر معلق میں تفصیل ہے اگر اس نے نذر کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جس کا وہ ارادہ رکھتا ہے مثلًایوں کہے کہ اگر میرا غائب شخص آجائے(تو مجھ پر اتنا صدقہ لازم ہے)اس صورت میں اگر شرط پائی جا ئے تو نذر کو وجوبًا پورا کرے گا اور اگر ایسی شرط کے ساتھ نذر کو معلق کیا جس کا وہ ارادہ نہیں رکھتا مثلًا یوں کہے کہ اگرمیں فلاں عورت سے زنا کروں(تو مجھ پر صدقہ لازم ہے)پھر حانث ہوا تو چاہے تو نذر کو پورا کرے چاہے تو قسم کا کفارہ دے دے کیونکہ یہ ظاہرًا نذر اور معنًا یمین ہے لہذا اس کوازراہ ضرورت اختیار دیا جائیگا۔(ت)

اور اس کے بدلے یوں کہلوائیں کہ نہ دوں تو میرا مکان اور جائداد مسجد مذکور پر وقف ہے،تو یہ بھی بیکار ہے کہ وقف کسی شرط پر معلق نہیں ہوسکتا۔ ردالمحتار میں ہے:

الوقف لایحتمل التعلیق بالحظر[3]۔

وقف قریب الہلاك شیئ کے ساتھ معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا(ت)

ہاں باندی غلام ہوتے تویہ بندش پوری تھی کہ بشرط ممبری مثلًا ایك ہفتہ کے اندر اتنا روپیہ اگر فلاں مسجد کو نہ دوں تو میرے سب غلام وکنیز آزاد ہیں مگر یہاں باندی غلام کہاں،اور ایسی قسم طلاق کی نہ کھانی جائز نہ کھلانی جائز، اور حدیث میں ارشاد ہوا:

ماحلف بالطلاق مومن ومااستحلف بہ الامنافق[4]۔

طلاق کی قسم نہیں کھاتا مسلمان،نہ اس کی قسم لے مگر منافق۔

بالجملہ ایسی صورت کہ ممبری نہ ہونے پر روپیہ نہ دینا ہو اور ہونے پر مجبورًا دیناپڑے اور وہ مسجد ہی کاحق ہو کوئی نظر نہیں آتی سوا اس کے کہ طالب ممبری وہ روپیہ کسی امین کو دے دے اور اسے وکیل کردے کہ اگر ممبری ہوجائے تو یہ روپیہ فلاں مسجد میں دے دینا۔اب اگر ممبری نہ ہوتو وکیل اسے روپیہ واپس دے اور ہوجائے تو فورًا وہ روپیہ متولی مسجد کو دے دے قبل اس کے کہ موکل اسے معزول کرسکے اس صورت میں جب وکیل وہ روپیہ مسجد کو دے چکے گا موکل کو اس کی واپسی کا کچھ اختیار نہ رہے گا فان الصدقۃ اذا تمت لزمت(اس لئے کہ صدقہ جب تام ہوجائے تو لازم ہوجاتا ہے۔ت)ہاں بعد ممبری وکیل ابھی روپیہ مسجد کو نہ دینے پایا کہ موکل نے منع کردیا اور اس ممانعت کی اطلاع وکیل کو ہوگئی تو وکالت سے معزول ہوجائے گا اور مسجد میں نہ دے سکے گا اور اگر اس نے منع کیا اور وکیل کو ابھی اطلاع نہ ہوئی اور روپیہ مسجد کو دے دیا تو دینا صحیح ہے اور مؤکل واپس نہیں کرسکتا لان الوکیل لاینعزل بالعزل مالم یعلمہ(کیونکہ وکیل معزول کردینے سے معزول نہیں ہوتا جب تك اسے علم نہ ہوجائے۔ت)لہذا بعد ممبری وکیل فورًا متولی کو دے دے یہ سب صورتیں شرعًا مجبور ہونے کے متعلق تھیں اور اگر اطمینان ہوتو عنداللہ  وہ اتنے وعدہ ہی سے کہ ممبری ہوجائے تو اتنا روپیہ فلاں کو دوں گا دینے پر مجبور ہے کہ اللہ  واحد قہار سے وعدہ کرکے پھرنا بہت سخت ہے اوراس پر شدید وعید،قال تعالٰی :

"فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)"[5]،والعیاذباﷲتعالٰی۔ واﷲتعالٰی  اعلم۔

 



[1]        ردالمحتار کتاب الایمان مطلب فی احکام النذر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۶۷

       [2] درمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۹۴و۲۹۵

       [3] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰

       [4] کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن انس حدیث ۴۶۳۴۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۶۸۹

      [5] القرآن الکریم ۹/ ۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن