دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

سوال اول:ایك مسجد کے متعلق کچھ دکانیں ہیں اور مسجدکے وقف نامہ کا کچھ پتا نہیں ہے البتہ اس کی آمدنی متولی سابق اپنے و مسجد کے ضروری اخراجات میں صرف کرتے تھے ان کے زمانہ میں زیر باری بہت ہوگئی تھی تاہم رمضان المبارك کی تراویح میں قرآن شریف ختم ہونے کے بعد شیرینی منگا کر تقسیم کرتے تھے اور ان سے پیشتر جومتولی تھے وہ علاوہ ان اخراجات کے رمضان شریف میں روزانہ افطاری بھی منگا کر نما ز یوں کو تقسیم کرتے تھے دریافت طلب امریہ ہے کہ اس مسجد کی آمدنی سے اب مٹھائی اور افطاری منگانا درست ہے یانہیں؟

الجواب ھو الموفق و الصواب

صورت مسئولہ میں ختم کی مٹھائی اور رمضان شریف میں افطاری منگانا جائز ہے اس لئے کہ مسجد کی آمدنی کے متعلق پیشتر وقف نامہ کے شرائط کے مطابق عملدرآمد کرنا چاہئے،اور اگر وقف نامہ موجود نہ ہو تو متولیان سابق کے تعامل کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور اگر تعامل کا بھی حال معلوم نہ ہوتو جو مسجد کے ضروری اخراجات شرعًا ثابت ہوں اس میں خرچ کرنا چاہئے،

جیسا کہ شامی کتاب الوقف میں مذکور ہے:

وفی الخیریۃ ان کان للوقف کتاب دیوان القضاۃ المسمی فی عرفنا بالسجل وھو فی ایدیھم اتبع ما فیہ استحسانا اذا تنازع اھلہ فیہ،والا ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوا یعملون وان لم یعلم الحال فیما سبق رجعنا الی المقیاس الشرعی وھوان من اثبت بالبرھان حقا حکم لہ بہ [1] اھ فقط واﷲ تعالٰی  اعلم کتبہ محمد عبدالکافی۔

فتاوی خیریہ میں ہے کہ اگر وقف کے لئے کوئی تحریر دفتر قضاۃ یعنی قاضی کے رجسٹر میں ہے جس کو ہمارے عرف میں سجل کہاجاتا ہے تو متولیان وقف میں اختلاف کی صورت میں استحسانًا اس تحریر کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی ورنہ دیکھا جائے گا کہ زمانہ سابقہ سے اس وقف کاحال معہود و معروف کیا چلا آرہا ہے یعنی متولیان سابق کیسے کرتے تھے اگر یہ بھی معلوم نہ ہوسکے تو پھر ہم اس قیاس شرعی کی طرف رجوع کریں گے کہ جس نے برہان سے حق ثابت کردیا اس کےلئے اس حق کا فیصلہ کردیا جائے گا اھ فقط واﷲتعالٰی  اعلم،اس کو محمد عبدالکافی نے لکھاہے۔(ت)

سوال دوم:ایك مسجد کے سابق متولی سید تھے،وہ بہت نیك وسادہ طبیعت تھے،ان کی سادگی سے کچھ لوگوں نے مسجد کو نقصانات پہنچا دئے،ان وجہوں سے ان کی مسجد سے علیحدگی بھی ہوگئی،ا ب ان کی بے عنوانیوں کو پتھر پر کندہ کراکے مسجد میں نصب کرانا جس سے ان کو صدمہ روحی ہوگا جائز ہے یانہیں؟گوان کا نام مذکورنہیں ہے بلکہ بجائے نام متولی سابق لکھا گیا ہے جن کو اس لقب کے ساتھ شہر کے لوگ جانتے ہیں۔

 

الجواب:

جب کہ سید صاحب کی علیحدگی ہوگئی اور ان کو مسجد سے کوئی تعلق نہ رہا تو ان کی برائیوں کا کندہ کرکے نصب کرنا نہ چاہئے اس لئے کہ جو کچھ ان سے غفلت ہوئی اس کو عوض ان کو مل چکا اب ہمیشہ کےلئے علانیہ پتھر پر ان کے بے عنوانیاں کندہ کراکے نصب کرانا جائز نہیں بلکہ یہ غیبت میں داخل ہے، جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے:

فی کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع وکما تکون الغیبۃ باللسان صریحا تکون ایضا بالفعل و بالتعریض وبالکتابۃ وبا لحرکۃ وبالرمز وبغمز العین والاشارۃ بالید وکل مایفھم منہ المقصود فھو داخل فی الغیبۃ وھو حرام [2] الخ فقط واﷲ تعالٰی  اعلم بالصواب،کتبہ محمد عبدالکافی۔

کتاب الحظر والاباحۃ میں بیع کے متعلق فصل کے تحت مذکور ہے کہ غیبت جس طرح صراحتًا زبان سے ہوتی ہے اسی طرح عمل،تعریض،تحریر،حرکت،رمز،آنکھ اور ہاتھ کے اشارے سے بھی ہوتی ہے اسی طرح ہر وہ شے جس سے یہ مقصدحاصل ہوتا وہ غیبت میں داخل ہے اور غیبت حرام الخ فقط واﷲ اعلم بالصواب،اس کو محمد عبدالکافی نے لکھا ہے(ت)

الجواب:

اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب۔

(۱)ایك دو شخص کے کرنے سے تعامل ثابت نہیں ہوتا،اگریہ معلوم ہوکہ قدیم سے یہ مصارف متولیان مسجد مال مسجد سے کرتے آئے اب بھی کئے جائیں گے ورنہ نہیں جبکہ اور کوئی ذریعہ ثبوت شرعی نہ ہو۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:

اذاوجد شرط الواقف فلا سبیل الی مخالفتہ واذا فقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العادیۃ المستمرۃ من تقادم الزمان و الٰی ھذاالوقت[3]۔

اگر واقف کی طرف سے کوئی شرط موجود ہے تو اس کی مخالفت کی کوئی سبیل نہیں اور اگر یہ مفقود ہے تو پرانے زمانے سے اب تك اس وقف کے بارے میں جو معاملات مشہودہ تسلسل و استمرار سے چلے آرہے ہیں ان پر عمل کیا جائیگا۔(ت)

 

ورنہ تمام مجہول الشرائط اوقاف ہر متولی کے استعمال وتابع افعال ہوجائیں کہ ایك کے فعل سے تعامل ثابت اور سابق سے عدم ثبوت،ثبوت عدم نہیں۔وھذا لایتفوہ بہ من لہ ادنی ترعرع من العامیۃ کما لایخفی(یہ ایسی بات ہے جو ادنٰی سوجھ بوجھ رکھنے والاایك عام آدمی بھی نہیں کہہ سکتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)

(۲)اگر ان باتوں میں ان کا قصور نہ تھا بلکہ اور لوگوں نے نقصان پہنچائے تو ان افعال کی ان کی طرف نسبت بہتان وافترا ہے اور اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ ہے اور وہ حرام ہے۔

قال تعالٰی "  اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ- "[4]۔

اﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا:بیشك وہ لوگ جو مومنوں میں اشاعت فاحشہ چاہتے ہیں ان کیلئے دنیا وآخرت میں درد ناك عذاب ہے(ت)

 



[1]      ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجاررتہ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۴۰۴

[2]      درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰

     [3] فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۳

     [4] القرآن الکریم ۲۴/ ۱۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن