30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقف ہے،اہل محلہ کو جب معلوم ہوا کہ اس میں کا ایك شخص کہ جس کی وقف نامہ پر گواہی نہیں ملا اور اسی نے کہا کہ تو کوشش کرکے عدالت سے اس کی نقولیں حاصل کرینگے تو معلوم ہوگا اور مالك خریدار کا یہ بیان ہے کہ میرا روپیہ بیع وتعمیر کا دلوایا جائے تو میں قبضہ چھوڑ دوں گا،اور اب امر جس نے فروخت کیا ہے وہ کہتا ہے کہ میں مالك تھا فروخت کردیا۔اب ہماری شریعت مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب:
جب وہ دکان وقف ہوچکی تھی تو اس کی نسبت زید کو وصیت کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا،نہ عورت کو مکفول کرنے کا نہ عمرو کو اس کے بیچنے کا،یہ سب باطل محض،مشتری پر فرض ہے کہ اسے فورًا چھوڑدے اپنا روپیہ عمرو سے لے لے،روپے نہ ملنے تك قبضہ رکھنے کا مشتری کو کوئی اختیار نہیں،ایك منٹ کے لئے قابض رہنا اس پر حرام ہے اس نے جدید کرلی ہے تو اسے اکھیڑ لے،اور اگر مسلمان اسے عملے کی قیمت اداکرے،عملہ وقف کے لئے کرلیں تو بہتر۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۹:ازبریلی موضع بلیا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك شخص موضع بلیا میں امام باڑے کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میرامکان ہے،اور اس میں بیل باندھنے لگا،اور زمیندار خود کہتے ہیں کہ تم لوگ اپنا تیو ہار کرو،لیکن ان لوگوں نے زمیندار کو ۷۵روپیہ دے کر اس کو اپنے بس میں کرلیا اور وہ کہتے ہیں کہ ہم دینداری کے شریك نہیں۔ان کا کیا انتظام کیاجائے؟
الجواب:
امام باڑہ وقف نہیں ہوسکتا وہ جس نے بنایا اسی کی ملك ہے اسے اختیار ہے اس میں جو چاہے کرے،وہ نہ رہا تو اس کے وارثوں کی ملك ہے انہیں اختیار ہے،اور تعزیہ داری کو اگر کسی نے دینداری کہا اور اس نے اس کی شرکت سے انکار کیا تو کچھ بیجانہ کیا کہ تعزیہ داری ناجائز ہے اس میں شرکت جائزنہیں۔یہی اس سوال سے ظاہر ہے اور وہ معنی کہ میں اسلام کے شریك نہیں مسلمان ہرگز مراد نہ لے گا،ہاں اگرثابت ہوجائے کہ کسی کلمہ گو نے اسلام کی شرکت سے انکار کیا تو ضرورکافر ہوجائے گا مگر یہ معنی یہاں سے مفہوم نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۰: مسئولہ عزیز الحسن قادری رضوی ازقصبہ پھپھوند ضلع اٹاوہ محلہ اونچا ٹیلہ ۱۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ہندہ سنی حنفی پابند صوم وصلوٰۃ جو پندرہ بیس برس ہوئے کہ اپنے مادری پیشہ کسب سے توبہ کرچکی،اپنی مقبوضہ کل جائداد واملاك جو اس کی ماں اور نانی کی متروکہ اور ان کو ان کے آشناؤں کی ہبہ کی ہوئی ہے مدرسہ دینیہ کی تعلیم میں یا اسکے یتیم ومفلس طلبہ کی خوردونوش کی صرف میں لانے کی غرض سے وقف کرنا چاہتی ہے،پس سوال حضرات مفتیان شرع شریف سے یہ ہے کہ منتظمین مدرسہ کو یہ جائداد اپنے قبضہ میں لاکر اس کے محاصل کو ہندہ کی خواہش کے موافق صرف میں لاناشرعًا جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
جو روپیہ بعوض زنا وغنا حاصل کیا مثل غصب حرام مطلق ہے کہ کسی طرح اس کی ملك نہیں ہوسکتا ہے وہ جائدادیں جو آشناؤں نے زانیات کو ہبہ کیں وہ ہبہ بھی محض باطل ہے وہ اصل دینے والوں کی ملك پر رہیں ان کی ملك میں نہیں آسکتیں،قنیہ ودر مختارمیں ہے:
مایدفعہ المتعاشقان فھو رشوۃ[1]۔
عشق بازی کرنیوالے ایك دوسرے کو جو دیں وہ رشوت ہے(ت)
ہاں جو جائداد زانیہ نے خریدی ہو اور اس کے شراء میں عقدونقد دونوں زرِ حرام پر جمع نہ ہوئے ہوں مثلًا روپیہ پیشگی دے کر کہا کہ اس روپے کے عوض جائداد دے دے بائع نے اس کے عوض بیع کردی یہ تو حرام پر عقد ہوا،اور وہی روپیہ زرِ ثمن میں دیا گیا یہ حرام کا نقد ہوا دونوں جمع ہوگئے اس صورت میں بھی وہ جائداد ان کی ملك نہ ہوگی ہاں اگر زرحرام پر عقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے ہوں مثلًا جائداد خریدی اس وقت ثمن کی تعین خاص مال حرام سے نہ تھی نہ وہ دکھایا گیا نہ پیشگی دیا گیا مطلق روپے کے بدلے خریدی تو یہ جائداد اس خریدنے والے کی ملك صحیح وحلال ہوجائے گی اب زرثمن اس حرام مال سے ادا کیا گیا تو یہ گناہ ہو ااور بائع کو اس کا لینا حرام تھا مگر جائداد اس کی ملك میں آگئی،اسی طرح جو کچھ ان کو اجرت ورشوت کے علاوہ ناچ گانے میں بطور انعام دیا جاتا ہےجسے"بیل"کہتے ہیں وہ ان پر حرام نہیں کما نص علیہ فی الھندیۃ(جیسا کہ فتاوٰی ہندیہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)غرض جن صورتوں میں جائداد اس کی ملك ہے اسے وقف کرسکتی ہے مہتممان مدرسہ اسے لے سکتے ہیں اور جس صورت میں جائداد اس کی ملك نہیں وہ اسے وقف نہیں کرسکتی نہ اس کے وقف کئے وقف ہو،اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جائداد کسی فقیر محتاج مسلمان کو ہبہ کرکے قبضہ کرادے اگرچہ اپنے کسی عزیز قریب مثل ماں بہن وغیرہ کو،اور وہ وقف کردے یا یہ اس سے خرید کر اگرچہ ایك پیسے کو یا اس سے اپنے نام ہبہ کراکے قبضہ میں کرکے خود وقف کردے اب یہ وقف صحیح ہوگا اور مدرسہ میں اس کاصرف حلال۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۱:ازنگینہ ضلع بجنور متصل مسجد کھجور والی،مکان حکیم مبارك حسین صاحب مرسلہ صوفی حاجی محمد ابراہیم صاحب ۴ رمضان المبارک۱۳۳۶ھ
جنازہ کے اوپر جو چادر نئی ڈالی جاتی ہے اگر پرانی ڈالی جائے تو جائز ہے یانہیں؟اگر کل برادری کے مردوں کے اوپر ایك ہی چادر بنا کر ڈالتے رہا کریں تو جائز ہے یانہیں؟ اس کی قیمت مردہ کے گھر سے یعنی قلیل قیمت لے کر مقبرہ قبرستان یا مدرسہ میں لگانی جائز ہے یانہیں؟ اور چادر مذکور اونی یاسوتی بیش قیمت جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
نئی ہو یا پرانی یکساں ہے،ہاں مسکین پر تصدق کی نیت ہو تو نئی اولی،اور اگر ایك ہی چادر معین رکھیں کہ ہر جنازے پر وہی ڈالی جائے پھر رکھ چھوڑی جائے اس میں بھی حرج نہیں بلکہ اس کے لئے کپڑا وقف کرسکتے ہیں،درمختار میں ہے:
صح وقف قدر وجنازۃ وثیابھا [2]۔
ہنڈیا،جنازہ اور اس کے کپڑے کا وقف صحیح ہے۔(ت)
طحطاوی وردالمحتار میں ہے:
جنازۃ بالکسرالنعش وثیابھا مایغطی بہ المیت وھو فی النعش[3]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع