30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
او رحدیثیں جواز واجازت میں بھی ہیں اور توفیق بتوفیق اللہ تعالٰی ہمارے فتوٰی میں ہے،مگر یہاں ضرور وہ خرچ خزانہ سے ملتا ہوگا نہ کہ راجہ کی جیب سے،اور خزانہ والی ملك کی ذاتی ملکیت نہیں ہو تا تو اس کے لینے میں حرج نہیں جبکہ کسی مصلحت شرعیہ کا خلاف نہ ہو،ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۷۸:از پوکھر ایرارائے پور ضلع مظفر پور محلہ نور الحلیم شاہ شریف آباد مرسلہ شریف الرحمٰن صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ
زید سندی عالم ہے،مالدار ہے،پانچ سات ہزار روپے کی مالیت رکھتا ہے،چندہ یعنی مانگ کر مسجد بنواتا ہے۔شرعًا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
جائز ہے،امور خیر کے لئے چندہ کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے،مالدار پر واجب نہیں کہ ساری مسجد اپنے مال سے بنائے،امر خیر میں چندہ کی تحریك دلالت خیر ہے۔
ومن دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ [1]۔
جو کار خیر کی راہنمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کارخیر کرنے والے کو۔(ت)
مسئلہ۲۷۹تا۲۸۰: ازاجمیر شریف درگار مقدس مرسلہ نذیر احمد خان صاحب رامپور ی ۳رمضان ۱۳۳۶ھ
ایك وقفی جاگیر چند منتظمان کے سپرد کی گئی جس میں ایك شاہی مسجد اور اس کی جائداد بھی شامل ہے،منتظمان وقف خاص نے جائداد مسجد کی کافی آمدنی مجموعی سرمایہ وقف میں جمع کیا اور علاوہ اس مسجد کے جس کے لئے یہ جائداد وقف تھی دوسرے ابواب وقف میں صرف کردیا اور اس مسجد کو ویران رکھا۔امام مؤذن نماز اذان پنجگانہ کا انتظام کیا نہ پانی روشنی کا اہتمام،حتی کہ مسجد کی ضروری مرمت و صفائی تك نہیں کرائی جاتی۔
اول: ایك وقف کی آمدنی باوجود اس کی ضروریات موجود ہونے کے غیر آباد رکھ کر دوسرے ابواب میں صرف کردینا جائز ہے یا نہیں؟اگر ناجائز ہے تو صرف شدہ مال مسجد کو ابواب مصروف فیہا(خواہ وقفی ہی ہوں)سے واپس لے کر اس مسجد میں صرف کرانے کا مسلمان کو حق حاصل ہے یانہیں؟
دوم: منتظمان وقف اس صورت میں شرعًاکسی تعزیر وسزا کے مستوجب ہیں اور واجب العزل ہیں یانہیں؟
الجواب:
مسجد کی آمدنی دوسرے اوقاف میں صرف کرنا حرام ہے اگرچہ مسجد کو حاجت بھی نہ ہونہ کہ بحال حاجت کہ حرام حرام اشد حرام ہے۔مال مسجد اگر بعینہ موجود ہو واپس لیا جائے اگرچہ دوسرے وقف یا مسجد دیگر میں ہو اور جو صرف ہو گیا ان کا تا وان منتظمین پر لازم ہے ان سے وصول کیا جائے اور ان کا معزول کرنا واجب ہے کہ وہ غاصب وخائن ہیں اگر صورت مذکورہ واقعیہ ہے۔درمختار میں ہے:
اتحدالواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاخر علیہ وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہمااوقافا لایجوز لہ ذٰلک[2]۔
واقف وجہت وقف متحد ہو اور بعض موقوف علیہ کے مشاہر میں کمی واقع ہوجائےتو حاکم کو جائز ہے کہ دوسرے وقف کی فاضل آمدنی میں سے کچھ اس پر صر ف کرے اور اگر ان دونوں یعنی واقف وجہت میں سے کوئی ایك مختلف ہو جیسے دو شخصوں نے الگ الگ دو مسجدیں بنوائیں یا ایك ہی شخص نے ایك مسجد اور ایك مدرسہ بنوایا اور دونوں کے مصالح کےلئے الگ الگ اوقاف متعین کئے ہوں تو ایك کی آمدنی دوسرے پر خرچ کرنے کا اختیار حاکم کو نہیں۔(ت)
اس میں ہے:
ینزع وجوبا بزازیہ ولوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مأمون[3]۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
متولی سے وجوبًا وقف واپس لیا جائیگا(بزازیہ)اگرچہ خود واقف ہو(درر)لہذا غیر واقف اگر متولی ہوتو بدرجہ اولٰی اس سے وقف واپس لیا جائیگا در انحالیکہ وہ امین نہ ہو(بلکہ خائن ہو)۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۸۱: مسئولہ آفتاب الدین ازمدرسہ منظر اسلام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مسلمان چاہتے ہیں کہ زمین ہندو زمیندار سے مول لے کر مسجد کے لئے وقف کریں مگر وہ زمیندار مسلمانوں کے ہاتھ نہیں بیچتا ہے،تو اس صورت میں مسجد بنانے کے لئے کیا حکم ہے؟آیا کہ موروثی زمین پر مسجد بناکر نماز پڑھیں یا اپنے اپنے گھر نماز پڑھیں اور نماز جمعہ کے بابت کیا حکم ہے جب ہندوزمیندار اپنی زمین نہ بیچے؟
الجواب:
ہندو اگر بیچتا نہیں اس سے کوئی مسلمان اپنے نام ہبہ کرالے پھر یہ مسلمان اسے مسجد کردے،موروثی ہونے سے زمین ملك مزارعاں نہیں ہوجاتی،اور وقف کرنے کے لئے ملك ضرور ہے،اگر وہ ہبہ نہ بھی کرے تو گھروں میں یاجہاں مناسب تر ہو نما ز پڑھیں اور جمعہ بھی اگر وہ جگہ شہر یا فناء شہرہو۔گاؤں میں جمعہ خود ہی جائز نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲:ایك مسجد نہایت تنگ ہے کہ اس میں بیس آدمی سے زائد نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے،یہاں کا زمیندار ہندو ہے وہ عرض وطول میں گھٹانے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا ہے ایسی صورت میں مسجدکو بحیثیت دو منزلہ تعمیر کرکے اور نیچے اس کے دکانیں بناکر اس کو کرایہ پر دے سکتا ہے یانہیں؟اور اس کرایہ کو مسجد کی صرف میں لانے کاخیال ہے اور مسجد کو دکانوں کے اوپر بناسکتا ہے یانہیں؟ایسی صورت میں اس وقت سجدہ گاہ نیچے ہے اور پھر دکانوں کے اوپر ہو اس کے واسطے جو حکم ہو مع حوالہ حدیث قوی و مستند کے دیا جائے۔
الجواب:
مسجد کو دکانیں کردینا حرام قطعی ہے،توسیع کےلئے یہ ہوسکتا ہے کہ دو منزلیں کردی جائیں وقت ضرورت بالاخانہ پر بھی نماز ہو۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳ تا۲۸۴: ازالہ آباد سرائے گڑھا دارالطلبہ مرسلہ محمد نصیر الدین صاحب ۱۹رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع