30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جعلت لی الارض مسجداو طھورا فا ما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل[1]۔
میرے لئے زمین کو جائے نماز اور پاك کرنے والی بنایا گیا ہے لہذا میری امت میں سے کسی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو اس کو وہاں ہی نماز پڑھ لینی چاہئے۔(ت)
اور جب وہ تقریبًا سوبرس سے مسجد کہلاتی،مسجد سمجھی جاتی ہے اس میں جمعہ وجماعت واذان ہوتی ہے اس کے لئے امام ومؤذن مقرر ہیں تو اب اسے مسجد سمجھنے میں شبہ پیداکرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ہندوراجہ کے حکم سے بننا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کی مملوك زمین میں اسی کی ملك پر بنی ہے کہ مسجد نہ ہو سکے بلکہ غالب یہی ہے کہ شہر کی زمین پر جس کا کوئی شخص مالك نہیں ہوتا ہے اور والیان ملك اس میں بطور خودتصرف کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں دیتے ہیں جو چاہتے ہیں بنواتے ہیں ایسی زمین پر باجازت راجہ بنی،ملك کی غیر مملوکہ زمین اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملك ہوتی ہے،بیت المال کی کہلاتی ہے،راجہ ا س کا مالك نہیں ہوتا،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں: عادی الارض ﷲ ولرسولہ[2] (زمین اﷲ تعالٰی اور رسول صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ملك ہوتی ہے۔ت) اور رافضی کے اہتمام سے بننا بھی اس کے مسجد ہونے میں مخل نہیں،اگر اس کا رفض حد کفر تك نہ تھا جب توظاہر،ورنہ غایت یہ کہ اس کے مسجد کرنے سے مسجد نہ ہوئی،مگر جب مسلمانوں نے اسے مسجد قرار دیا اس میں نمازیں مسجد سمجھ کر پڑھیں مسجد ہوگئی،
فان الارض ان کانت لبیت المال فجاز جعلھم ایاھا مسجدا، والبناء ان کان من مال المسلمین فبہا او من مال المرتد فاذا مات علی ارتدادہ فصارفیئا للمسلمین او من خزانۃ الوالی فالخزانۃ لبیت المال علی ان ماکان لکافر غیر ذمی ولا مستأمن وحصل للمسلمین بغیر عذر ونقض عھد صار لھم علی ان بیدنا دلیلا ظاہرا یثبت بہ الوقف شرعا وھی الشھرۃ فدعوی خلافہ یردھا الاحتمال[3] کما بیناہ فی فتاوٰنا بتوفیق اﷲ۔
زمین جبکہ بیت المال کی ہوتو مسلمانوں کے لئے جائز ہے کہ اسے مسجد بنادیں،اور تعمیر اگر مسلمانوں کے مال سے ہو تو فبہا،یا تعمیر مرتد کے مال سے ہوئی اس کے ارتداد پر مرنے کے بعد اس کا مال مسلمانوں کےلئے فے ہوگیا،یا والی کے خزانہ سے تعمیر ہوئی تو خزانہ بیت المال کا ہے،اس بنیاد پر غیر ذمی اور غیر مستامن کافر کا مال اگر بغیر دھوکا اور بدعہدی کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوتو وہ انہیں کا ہو جاتا ہے،علاوہ ازیں ہمارے پاس جو دلیل ہے وہ ظاہر ہے جس سے شرعًا وقف ثابت ہوجاتا ہے اور وہ دلیل شہرت ہے پس اس کے خلاف دعوٰی کے احتمال کو رد کردیتا ہے جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔(ت)
یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ بنا میں کسی شیعی کا چندہ میں زیادہ حصہ لینا اس معنی پر ہے کہ تحصیل چندہ میں زیادہ کوشش کی جب توظاہر،اور اگر اسی معنی پر ہو کہ زیادہ چندہ اس نے خود اپنے مال سے دیا تو مسجدیت ثابت ہوکر قیامت تك زائل نہیں ہوسکتی،
الاتری ان لوانھدم مسجد فاعادبنائہ کافر بمالہ لم یخرج عن المسجدیۃ وان لم یقبل بناء ہ لکونہ غیر اھل للوقف علی المسجد ھذااذالم یکن مرتدا اما ھو فیتوقف الامر علی ان یسلم فیصح کما فی رد المحتارعن البحر اویموت علی ردتہ والعیاذ باﷲ فیعود فیئا للمسلمین۔
کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی مسجد گرجائے اور اس کی عمارت کسی کافر نے دوبارہ اپنے مال سے بنادی تو وہ مسجدیت سے خارج نہ ہوئی اگرچہ کافر کا مسجد کو تعمیر کرنا مقبول نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف کا اہل نہیں،یہ اس صورت میں ہے کہ کافر غیر مرتد ہو،اور اگر مرتد ہوتو یہ معاملہ موقوف رہے گا حتی کہ وہ مسلمان ہوجائے تو صحیح ہوجائے گا جیسا کہ بحر سے ردالمحتار میں ہے، یا وہ حالت ارتداد پر مرجائے،ا ﷲ تعالٰی کی پناہ تو اب یہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بن جائےگا(ت)
نامسلم کا عطیہ کہ اس کے اپنے مال سے ہو خصوصًا اپنے اسلامی کام میں نہ لانا چاہئے۔نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:
انی نھیت عن زبد المشرکین [4] رواہ ابوداؤد و الترمذی عن عیاض بن حمار رضی اﷲتعالٰی عنہ، وھو حدیث حسن صحیح۔
بیشك مجھے مشرکوں کے عطیہ سے منع کردیا گیا ہے۔(اس کو ابوداؤد اور ترمذی نے عیاض بن حمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا،اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
انی لااقبل ھدیۃ مشرک[5]۔رواہ الطبرانی الکبیرعن کعب بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبسند صحیح۔
بیشك میں مشرك کاہدیہ قبول نہیں کرتا۔(اسے طبرانی نے کبیر میں کعب بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔(ت)
اورفرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
انا لانقبل شیئامن المشرکین[6] رواہ احمد والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بے شك ہم مشرکوں کی کوئی شے قبول نہیں کرتے۔(اسے احمد اور حاکم نے حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
انا لانستعین بمشرک[7]۔ رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
بیشك ہم مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔(اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا۔ت)
[1] صحیح البخاری کتاب التیمم ۱/ ۴۸ وکتاب الصلوٰۃ ۱/۶۲ قدیمی کتب خانہ کراچی
[2] السنن الکبرٰی احیاء الموات دارصادر بیروت ۶/ ۱۴۳
[3] ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی وقف المرتد والکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰
[4] جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ہدایا المشرکین امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۱
[5] المعجم الکبیر حدیث ۱۳۸،۱۳۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹/ ۷۰و۷۱
[6] مسند احمد بن حنبل مروی از حکیم بن حزام دارالفکر بیروت ۳/ ۴۰۳
[7] سنن ابوداؤد کتاب الجہا د باب فی المشرک یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب ف الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع