30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متولی نے مال وقف سے جب وقف زمین کے میدان میں عمارت بنادی تو وہ وقف کے لئے ہوگی یونہی اگر اس نے اپنے مال سے وقف کیلئے عمارت بنائی تب بھی وقف کے لئے ہوگی اور اگر اپنی ذات کےلئے بنائی اور اس پر گواہ کرلئے تو یہ عمارت اس کی ذات کے لئے ہوگی،اور اگر عمارت بنائی مگر کسی شے کا ذکر نہ کیا تو عمارت وقف کے لئے ہوگی بخلاف اجنبی شخص کے۔(ت)
عقود الدریہ جلد اول ص۱۶۵:
حیث کان غرس عمر و المذکور لنفسہ بلااذن الناظر فللناظر علی الوقف تکلیفہ قلعہ ان لم یضرفان اضریتمبلکہ الناظر باقل القیمتین للوقف منزوعا وغیر منزوع بمال الوقف[1]۔
اگر عمرو مذکور نے اپنی ذات کےلئے بغیر اذن متولی درخت لگائے تو متولی کو اختیار ہے کہ وہ اسے اکھاڑنے پر مجبور کرے جبکہ وقف کوضرر نہ ہو اور اگر اکھاڑنا وقف کے لیے ضرر رساں ہے تو متولی دو قیمتوں میں سے اقل قیمت کے بدلے مال وقف سے وقف کیلئے ان درختوں کا مالك بن جائے گا،دو قیمتوں سے مراد زمین میں لگے ہوئے درختوں کی قیمت اور اکھاڑے ہوئے درختوں کی قیمت ہے۔(ت)
(۴)حرام ہے،اور جتنے دنوں اس نے اپنے تصرف میں رکھا اتنے دنوں کا کرایہ جو حصہ وقف کا نرخ بازار سے ہوا اتنا تاوان اس پر لازم ہوگا کہ وقف کے لئے ادا کرے اور اپنا روپیہ لگا کر جو کچھ اس نے بنایا اگر وہ کوئی مالیت نہیں رکھتا وہ وقف کا مفت قرار پائے گا۔اور اگر مالیت ہے تو وہی حکم ہے کہ اگر اس کا اکھیڑ نا وقف کو مضر نہیں جتنا اس نے زیادہ کیا اکھیڑ کر پھینك دیا جائے گا وہ اپناعملہ اٹھا کر لے جائے اور اگر اس کے بنانے میں اس نے وقف کی کوئی دیوار منہدم کی تھی تو اس پر لازم ہوگا کہ اپنے صرف سے وہ دیوار ویسی ہی بنادے اور اگر ویسی نہ بن سکتی ہو،بنی ہوئی دیوار کی قیمت ادا کرے اور اگر اکھیڑ نا وقف کو مضر ہے تو نظر کریں گے کہ اگر یہ عملہ اکھیڑ اجاتا تو کس قیمت کا رہ جاتا،اتنی قیمت مال مسجد سے اسے دیں گے،اگر فی الحال اس درخت یا اس عملہ کی قیمت مسجد کے پاس نہیں تو یہ یا اور کوئی زمین متعلق مسجد یا دیگر اسباب مسجد کرایہ پر چلاکر اس کرایہ سے قیمت ادا کرینگے اس کےلئے اگر برس درکار ہوں اسے تقاضے کا اختیار نہیں کہ ظلم اس کی طرف سے ہے،یہ سب اس حال میں ہے کہ وہ عمارت اس شخص کی ٹھہرے یعنی متولی تھا تو بناتے وقت گواہ کرلئے تھے کہ اپنے لئے بناتاہوں یا غیر تھا تو یہ اقرار نہ کیا کہ مسجد کے لئے بناتا ہوں ورنہ وہ عمارت خود ہی ملك وقف ہے اور یہ جو ہم نے قیمت لگانے میں اکھڑے ہوئے عملہ کا لحاظ کرنا کہا اس بنا پر ہے کہ غالبًا بعد انہدام عملہ کی قیمت گھٹ جاتی ہے،اور اگر حالت موجودہ ہی قیمت حالت ہدم سے کم ہوتو یہی کم لازم آئیگی۔عقود الدریہ جلد اول ص۱۵۶:
اذاثبت کونہ وقفا وجبت الاجرۃ لہ فی تلك المدۃ لان منافع الوقف مضمونۃ علی المفتی بہ[2]۔
جب اس کا وقف ہونا ثابت ہوگیا تو اس کی اجرت واجب ہے کیونکہ مفتی بہ قول کے مطابق منافع وقف پر ضمان لازم ہوتا ہے(ت)
اشباہ والنظائر مع الغمز صفحہ۳۰۰:
من ھدم حائط غیرہ یضمن نقصانھا ولایؤمر بعمارتھا الافی حائط المسجد کما فی کراھۃ الخانیۃ[3]۔
جس نے غیر کی دیوار گرادی اس کے نقصان کا ضامن ہوگا مگر اس کی تعمیر کا حکم اس کو نہیں دیاجائے گا سوائے دیوار مسجد(کہ اس کی تعمیر کا حکم دیا جائیگا)جیسا کہ خانیہ میں کتاب الکراہۃ میں ہے(ت)
ردالمحتار جلد پنجم ص۱۷۶:
فی شرح البیری اما الوقف فقد قال فی الذخیرۃ اذاغصب الدار
شرح بیری میں ہے لیکن وقف تو اس کے بارے میں ذخیرہ میں فرمایا کہ اگر کسی نے وقف شدہ گھر
الموقوفۃ فھدم بناء الدار للقیم ان یضمنہ قیمہ البناء اذا لم یقدر الغاصب علی ردھا ویضمن قیمۃ البناء مبنیا،لان الغصب وردھکذااھ ومقتضاہ انہ اذاامکنہ ردالبناء کما کان وجب ولم یفصل فیہ بین المسجد وغیرہ من الوقف،ولذاقال البیری فیما سبق وھذا فی غیرالوقف وفی فتاوی قاری الھدایۃ استاجر دارا وقفا فھدمھا وجعلھا طاحونا،الزم بھدمہ واعادتہ الی الصفۃ الاولٰی اھ فظھران لافرق بین المسجد وغیرہ من الوقف بخلاف الملك اھ مختصرا[4]۔
غصب کیا اور اس کی دیوار گرادی تو ناظر وقف کو اختیار ہے کہ وہ اس کو عمارت کی قیمت کا ضامن ٹھہرائے اگر غاصب اس کی تعمیر پر قادر نہ ہو اور تعمیر شدہ عمارت کی قیمت کاضامن ٹھہرایا جائے گا کیونمکہ غصب اسی پر واقع ہوا اھ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب غاصب سابقہ حالت پر عمارت بنانے پر قادر ہو تو ایسا کرنا واجب ہے اور اس حکم میں مسجد اور دوسرے وقف میں کوئی فرق نہیں اسی واسطے بیری نے ماقبل میں کہا کہ یہ غیر وقف کا حکم ہے،فتاوٰی قاری الہدایہ میں ہے کہ ایك شخص نے وقفی گھر کرایہ پر لیا اور اس کو گراکر آٹا پیسنے کی چکی بنالی تو اس پر لازم قرار دیا جائے گا کہ وہ چکی کو گراکر مکان کو پہلی حالت پر لوٹائے اھ تو ظاہر ہوا کہ اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا چاہے وقف بصورت مسجد ہویا غیر مسجد بخلاف ملك کے اھ اختصارًا(ت)
عقودالدریہ جلد ۱ص۱۵۹:
غصب ارض وقف وزاد فیہا زیادۃ من عند نفسہ وان کانت شیئا لیس بمال ولالہ حکم المال تو خذمنہ بلاشیئ،ان کانت مالا قائما نحوالغراس والبناء امرالقاضی الغاصب برفعہ وقلعہ،الااذاکان یضر بالوقف فانہ یمنع عنہ لوارادان یفعل ویضمن القیم اوالقاضی قیمۃ ذٰلك من غلۃ الواقف ان کانت والا یؤاجر الوقف ویؤتی من اجرتہ عمادیۃ [5]ومثلہ فی الفصولین من ۱۳
کسی نے وقف کا احاطہ غصب کرکے اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کردیا،اگر تو وہ اضافہ مال یا حکم مال کے قبیلہ سے نہیں تو بلاعوض اس سے واپس لیا جائے گا اور اگر وہ اضافہ ایسا مال ہے جو زمین کے ساتھ قائم ہے جیسے درخت اور عمارت تو قاضی غاصب کو حکم دے گا کہ وہ اس کو اکھاڑے جبکہ اکھاڑنے سے وقف کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور اگر نقصان پہنچتا ہے تو پھر اس کوکھاڑنے سے روکا جائیگا اگر وہ اکھاڑنے کا ارادہ کرے،اور متولی یا قاضی اس اضافے کی قیمت کے ضامن ہوں گے اگر وقف کی کوئی آمدنی ہے تو اس سے ضمان دیں گے ورنہ وقف کوکرایہ پردے کر اس کی اجرت سے ضمان ادا کرینگے،عمادیہ۔اور اسی کی مثل فصولین میں ہے(ت)
[1] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۸۹
[2] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۷۹
[3] الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الغصب ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۹۷
[4] ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع