30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بتی کا کرایہ پر دینا تو مطلقًا حرام ہے اگرچہ بتی وقف نہ کی ہو خود اپنی ملك ہو،شرع مطہر نے عقد اجارہ اس لئے رکھاہے کہ شیئ باقی رہے اور مستاجر اس کو برت کر ختم اجارہ پر واپس دے،نہ اس لئے کہ خود اس شیئ کو خرچ و فنا کرے،اور ظاہر ہے کہ بتی جب کام میں لائی جائے گی خود اس کے اجزا فنا ہوں گے،ایسا اجارہ حرام وباطل ہے۔فتاوٰی خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار رحمہمااﷲ تعالٰی جلددوم ص۱۰۷:
الاجارۃ المذکورۃ باطلۃ غیر منتعقدۃ لما صرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولاتفید شیئا من احکام الاجارۃ [1]۔
اجارہ مذکور ہ باطل ہے منعقد نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے تمام علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اجارت جب قصدًا اصل کے اتلاف پر واقع ہو منعقد نہیں ہوتا اور نہ ہی احکام اجارہ میں سے کسی حکم کا فائدہ دیتا ہے(ت)
باقی چیزین مثلًا لیمپ،فرش،دری،چٹائی،اور یونہی بتی بھی،اگر اس سے مرادخالی شمعدان ہواگرچہ اپنی ذات میں قابل اجارہ ہیں،مملوك ہوں تو مالك اجارہ پر دے سکتا ہے کرایہ پر دینے کے لئے وقف ہوں تو متولی دے سکتا ہے مگر وہ جو مسجد پر اس کے استعمال میں آنے کےلئے وقف ہیں انہیں کرایہ پر دینا لینا حرام کہ جو چیز جس غرض کےلئے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائزہے اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے لئے فائدہ کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَواجب الاتباع ہے۔ درمختار کتاب الوقف:
فروع قولھم شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ[2]۔ واقف کی شرط شارع علیہ الصلوٰہ والسلام کی نص کی طرح واجب العمل ہے(ت)
ولہذا خلاصہ میں تحریر فرمایا کہ جو گھوڑا قتال مخالفین کےلئے وقف ہوا ہو ا سے کرایہ پر چلانا ممنوع وناجائز ہے،ہاں اگر مسجد کو حاجت ہو مثلًا مرمت کی ضرورت ہے اور روپیہ نہیں تو بمجبوری اس کا مال اسباب اتنے دنوں کرایہ پر دے سکتے ہیں جس میں وہ ضرورت رفع ہوجائے،جب ضرورت نہ رہے پھرناجائز ہوجائے گا۔خلاصہ جلد ۲ص۵۷۰:
ولا یؤاجر فرس السبیل الا اذا احتیج الی النفقہ فیؤاجر بقدر ماینفق وھذہ المسألۃ دلیل علی ان المسجد اذا احتاج الی النفقۃ توأجر قطعۃ منہ بقدر ما ینفق علیہ[3]۔
فی سبیل اللہ وقف شدہ گھوڑا کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا ہاں اگر اس کے اخراجات کے لئے مجبور ی ہوتو اتنے وقت کےلئے دیا جاسکتا ہے جس سے اخراجات پورے ہوسکیں اور یہ مسئلہ دلیل ہے اس پر کہ اگر اخراجات مسجد کے سلسلہ میں حاجت ہوتو ان اخراجات ضروریہ کی فراہمی کےلئے وقف کا کوئی حصہ کچھ وقت کے لئے کرایہ پر دیا جاسکتا ہے(ت)
(۲)یہ فعل ناجائز وگناہ ہے،ایك مسجد کی چیز دوسری مسجد میں بھی عاریۃ دینا جائز نہیں،نہ کہ عید گاہ میں کہ اتصال صف کے سوا اور احکام میں وہ مسجد ہی نہیں،ولہذا جنب کو اس میں جانا منع نہیں۔فتاوٰی عالمگیریہ جلدپنجم ص۱۲۲:
یجوز للقیم شراء المصلیات للصلاۃ علیھا ولایجوز اعارتھا لمسجد اٰخر[4] (ملخصًا)۔
مسجد کے ناظم کو مسجد کے لئے چٹائیاں خریدنا جائز ہے تاکہ ان پر نماز پڑھی جائے اور انہیں عاریۃً دوسری مسجد کےلئے دینا جائز نہیں(ت)
درمختار علٰی ہامش ردالمحتار مطبع قسطنطنیہ جلد اول ص۶۸۷
المتخذ لصلاۃ جنازۃ او عید مسجد فی حق جواز الاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لافی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ فحل دخولہ لجنب وحائض کفناء مسجد ورباط ومدرسۃ[5]۔
جناز گاہ او ر عید گاہ جواز اقتداء کے حکم میں مسجد ہے اگرچہ صفوں میں فاصلہ ہو یہ حکم لوگوں کی سہولت کےلئے ہے دیگر احکام میں وہ مثل مسجد نہیں،اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے نہایۃ لہذا اس میں جنبی شخص اور حیض ونفاس والی عورتوں کا داخل ہونا حلال ہے جیسا کہ فناء مسجد،خانقاہ اور مدرسہ کا حکم ہے(ت)
(۳)مسجد کی زمین میں اپنے لئے درخت لگانا حرام ہے کہ وقف میں تصرف مالکانہ ہے،والواقف لایملک،پھر اگر یہ مال اس نے مسجد کے مال سے لگایا تو مسجد کا ہے اور اپنے مال سے لگایا اور یہ متولی ہے تو مسجد کا ہے مگر یہ کہ لگاتے وقت لوگوں کو گواہ کرلیا ہو کہ یہ میں اپنے لئے لگاتا ہوں،اور اگر غیر متولی ہے تو خود اس کا ہے مگر یہ کہ اقرار کرے کہ میں نے مسجد کے لئے لگایا،اب جس صورت میں پیڑ لگانے والے کا ٹھہرے اگر اس کےااکھیڑنے میں زمین وقف کا نقصان نہیں جبرًا اکھڑوادیا جائے گا۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق[6] (عرق ظالم کا کوئی حق نہیں۔ت)اور اگر اس میں زمین وقف کا ضرر ہوتو درخت مسجد کی ملك کرلیا جائے گا اور اندازہ کریں گے کہ اس وقت اس درخت کی قیمت زیادہ ہے اکھیڑ کر بیچنے میں کم ہوجائے گی یا جدا کرکے بیچنے میں دام زیادہ اٹھیں گے اس وقت قیمت کم آئیگی دونوں حالتوں میں جس صورت پر کم قیمت اٹھے وہ کم قیمت مسجد کے مال سے لگانے والے کو دی جائے گی۔فتاوٰی خلاصہ جلد ۲ص۵۷۰:
فی الحاوی سئل ابو القاسم عمن غرس الوقف من مالہ ومات قال ان غرس من غلۃ للوقف فھو للوقف وان لم یذکر شیئا فان غرس بمالہ ان ذکر انہ غرس للوقف فھو لہ وان لم یذکر شیئا فھو عنہ میراث[7]۔
حاوی میں ہے کہ ابوالقاسم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنے مال سے وقف زمین میں درخت بوئے اور پھر مرگیا تو ابوالقاسم نے فرمایا کہ اگر وقف کی آمدنی سے بوئے ہیں تب تو وقف کے لئے ہیں اگرچہ کسی شیئ کا ذکر نہ کیا ہو اور اگر اپنے مال سےبوئے اور ذکر کیا کہ یہ وقف کیلئے ہے تو وقف کیلئے ہیں اور اگر کسی شے کا ذکر نہیں کیا تو وہ اس کی میراث ہے۔(ت)
ایضًا جلد مذکور ص۵۷۳:
المتولی اذابنی فی عرصۃ الوقف ان کان من مال الوقف یکون للوقف وکذامن مال نفسہ لکن بنی للوقف فان بنی لنفسہ ان اشھد کان لہ ذٰلك وان بنی ولم یذکر شیئا کان للوقف بخلاف الاجنبی[8]۔
[2] درمختار فصل یراعی شرط الواقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
[3] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۸
[4] فتاوی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲۔
[5] درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳
[6] صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعہ باب من احیا ارضامواتا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب احیاء الموات آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱
[7] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۹
[8] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الرابع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۲۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع