دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

وبنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم اراد البناء منع ولو قال عنیت ذٰلك لم یصدق تاتارخانیۃ،فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد[1]۔

اگر واقف نے مسجد کے اوپرامام کا حجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے،لیکن جب مسجد تام ہوگئی اب وہ حجرہ بنانا چاہے تو اس کو نہیں بنانے دیا جائے گا،اگر وہ کہے کہ شروع سے میرا ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کیجائیگی (تاتارخانیہ)جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے،لہذا اس کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجد پر بنایا گیا ہو۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے:

فی البحر لایوضع الجذع علٰی جدارالمسجد وان کان من اوقافہ اھ قلت وبہ علم حکم مایصنعہ بعض جیران المسجد من وضع جذوع علٰی جدارہ فانہ لایحل ولودفع الاجر[2]۔

بحر میں ہے مسجد کی دیوار پر لکڑی نہیں رکھی جائیگی اگرچہ وہ اوقاف مسجد میں سے ہو اھ میں کہتاہوں اس سے مسجد کے بعض پڑوسیوں کے اس فعل کا حکم معلوم ہوگیا جو وہ دیوار مسجد پرکڑیاں رکھتے ہیں کہ یہ ان کے لئے حلال نہیں اگرچہ وہ اس کی اجرت دیں۔(ت)

مسئلہ۲۶۵:                             از گونڈل کاٹھیاوار مرسلہ عبدالستار اسمٰعیل رضوی      ۸صفر ۱۳۳۶ھ

ایك مسجد میں قریب ایك صدی سے فرش پتھر کا بچھا ہو اتھا جس کو اب لوگوں نےنکال کر دوسرا فرش بچھا یا ہے،اب اس نکلے ہوئے فرش کے پتھر کو کسی اور کام میں لاسکتے ہیں یانہیں؟یا کوئی اور مسجد کے کسی کام میں استعمال کرسکتے ہیں یانہیں؟اگر اس پتھر کی ضرورت کسی اور مسجد میں بھی نہ ہواور ان کو حفاطت سے رکھنے کے لئے جگہ کی بھی تنگی ہو یاان کو سنبھال رکھنے میں اور اخراجات ہوتے ہوں تو ایسی صورت میں ان کو فروخت کرکے ان کی قیمت اس مسجد کے کام میں خرچ کرسکتے ہیں یانہیں؟

الجواب:

انہیں فروخت کرکے وہ قیمت خاص اسی مسجد کے خاص عمارت میں صرف کی جائے،تیل بتی وغیر ہ میں نہیں اور اس وقت مسجد کو عمارت کی حاجت نہ ہو تو اس کی آئندہ ضرورت کے لئے محفوظ رکھی جائے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۲۶۶تا۲۷۱:از رنگون مغل اسٹریٹ پوسٹ بکس ۲۴۲مال کمپنی مرسلہ سید فضل اللہ  ولد سید غلام رسول صاحب ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

(۱)ایك قصبہ میں مثلًا تین مسجد آباد ہیں اور نماز جمعہ وعیدین مسجد جامع میں ادا ہوتی ہیں اور اس جامع مسجد میں تمام ضروری اشیاء مثلًا فرش،دری،چٹائی،جھومر،قنادیل،لیمپ وغیرہ اہل قصبہ چندہ فراہم کرکے خاص مسجد کے لئے خرید کرجمع رکھتے ہیں اور اسی قصبہ کے بعض تجار دوسرے ملك سے مسجد کےلئے بھیجتے رہتے ہیں اور بھیجنے والوں کے حسب منشاء وہ چیز خرید کرکے مسجد میں رکھ دی جاتی ہے یا بعض وقت خاص مال مسجد سے مذکورہ بالاچیزیں خرید کی جاتی ہیں اور یہ کل چیزیں مسجد جامع ہی میں رہتی ہیں اور بوقت ضرورت رمضان المبارك وشب قدر وشبہائے متبرکہ میں استعمال ہوتا ہے اور فرش چٹائی وغیرہ کا عیدین میں اسی مسجد میں کام آتاہے اور جملہ اسباب اسی جگہ پر رہتا ہے،نہ کرایہ پر دینے کے لئے ہے کیونکہ چندہ دینے اور لینے والوں نے خاص اس جامع مسجد ہی میں اشیائے مذکورہ کےلئے چندہ دیا ہے پس جس کو جو میسر آیا بلا قیدوشرط وبلاتصریح دے دیا،اب اہل قصبہ یا اور کوئی جس نے چندہ دیا ہو یا نہ دیا ہو خود اپنے کسی کام یا کسی تقریب میں مثلًا وعظ،مولود یا شادی وغیرہ میں مسجد کی کوئی شے مثل بتی،لیمپ وفرش،دری،چٹائی وغیرہ اپنے کام میں برتنے کےلئے کرایہ سے یا بے کرایہ سے لے جائے تو یہ مسجد کی چیزوں کا دوسری جگہ میں استعمال جائز ہے یانہیں؟

(۲)اس قصبہ میں ۲۵ سال قبل عیداضحٰی عید گاہ میں ہوا کرتی تھی اس وقت تمام فرش ومنبر وغیرہ تمام حاجت کی چیزیں ریاست سچین سے نواب صاحب کی طرف سے آیا کرتی تھیں اور اختتام نماز پر وہ وہ کل چیزیں واپس ہمراہ لے جایا کرتے،امسال جدید عید گاہ قائم ہوجانے سے عید کی نماز عید گاہ میں پڑھی اور جامع مسجد کی چٹائی وغیرہ لاکر بچھائی گئی،بعد نماز ختم جو چیز یہاں کی تھی وہاں بلا نقص پہنچا دی گئی تو یہ فعل جائز ہے یانہیں؟

(۳)مسجد کے متصل مسجد ہی کی زمین ہے اس میں کوئی آدمی خود فائدہ اٹھانے کی غرض سے درخت لگائے اور جب وہ بڑے ہوں اور پھل پھول سے بار آور ہوں تو اس وقت یہ درخت زمین کے اعتبار سے مسجد کی ملکیت میں داخل ہوں گے یا لگانے والے کے،یا مسجد کا،اور مسجد کی زمین میں اس طرح درخت لگادینے کا غیر کو حق حاصل ہے؟

(۴)مسجد کے متصل مسجد کا بوسیدہ مکان یا حجرہ ہے اس پر کوئی شخص کم یا زیادہ اپنا روپیہ لگا کر کوئی تعمیر کرے اور بلا کرایہ اپنے تصرف اور قبضہ میں لائے تو یہ فعل جائز ہے یانہیں؟

(۵)اس مسجد جامع کےلئے امام ہے مگر اوقات کی پابندی سے آکر نماز نہیں پڑھاتے کبھی وقت بے وقت آجاتے ہیں،اور اکثر اور لوگ نماز پڑھادیتے ہیں،اس لئے امام سے مسجد کی آبادی بھی نہیں ہوتی بلکہ ان کے نہ ہونے سے مسجد کی زیادہ آبادی کی امید ہے،چونکہ دانت نہ ہونے کی وجہ سے مخارج صاف اور تلفظ سامع کی سمجھ میں نہیں آتے۔امام صاحب غریب خود عاجز محض ہیں اور دیندار متقی بھی نہیں۔علاوہ اس کے مسجد بھی غریب ہے اور ضروری تعمیر کی محتاج ہے اس لئے مسجد کے مال سے امام صاحب کو تنخواہ دینے پر بھی لوگ راضی نہیں مگر مجبورًا،اور رعایت امام صاحب کے بزرگوں کی قدر کی وجہ سے چون وچرا سے عاجز ہیں،اس صورت میں امام صاحب کو غریب مسجد سے تنخواہ دینا جائز ہے یانہیں؟

(۶)مسجد میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے،تمام بچے ننگے پیر آتے جاتے ہیں،اس صورت میں بچوں کو تعلیم دینی جائز ہے یانہیں؟

الجواب:

استعمال مذکور حرام ہے،چندہ دہندہ کرے یا کوئی،مال وقف خود واقف کو حرام ہے کہ اپنے صرف لائے،یہاں تك کہ اگر نفس وقف غیر اہلی میں اس نے شرط کرلی ہو کہ اپنی حیات تك میں اپنے صرف میں لاسکوں گا،تو شرط باطل ہے اور تصرف حرام،فتاوٰی خلاصہ جلد دوم ص۵۷۰:

رجل جعل فرسہ للسبیل علی ان یمسکہ مادام حیاان امسکہ للجھادلہ ذٰلك لانہ لولم یشترط کان لہ ذلك لان لجاعل السبیل ان یجاھد علیہ وان ارادہ ان ینتفع بہ غیر ذلك لم یکن لہ ذلك وصح جعلہ للسبیل[3]۔

ایك شخص نے اپنا گھوڑا فی سبیل اللہ  وقف کیا اس شرط پر کہ جب تك وہ زندہ ہے گھوڑے کو اپنے پاس روکے رکھے گا،اگر تو اس نے جہاد کےلئے روکا ہے تو جائز ہے کیونکہ اگر وہ یہ شرط نہ بھی کرتا تب بھی اسے یہ حق تھا اس لئے اس گھوڑے کو فی سبیل اللہ  وقف کرنے والابھی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اس پر سوار ہوکر جہاد کرے،اور اگر اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے علاوہ کوئی ا ور نفع حاصل کرے گا تو اس کو یہ اختیار نہیں،تاہم گھوڑے کو فی سبیل اللہ  وقف کرنا صحیح ہوگیا۔(ت)

 



       [1] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹

[2]                      ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۱

[3]        خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث فی صحۃ الوقف مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن