30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت مولانا ومقتدانا مولوی احمد رضا خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایك فتوی تصحیح کے لئے دو سوال جواب کے لئے خدمت والا میں بھیجے تھے ان کا جواب نہیں ملا،معلوم نہیں کہ یہ مرسلہ خطوط جناب تك پہنچے یا نہیں،صاحب تفسیر بیان القرآن نے" وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا"[1] کے تحت میں مسئلہ کرکے یہ لکھا ہے کہ بعض علمائے کہا جو فخر وریاسے مسجد بنائی جائے اس مسجد کو مسجد کہنا نہ چاہئے ان بعض علماء پر مجھ کو کلام ہے،بعض علماء سے مراد کشاف ومدارك واحمدی وغیرہ ہیں،اور اسی بناء پر یہ جواب لکھا گیا ہے جومرسلہ خدمت ولا ہے صاحب بیان کا اعتراض درست ہے یانہیں؟ کیا صاحب کشاف وغیرہ کے قول پر انکے قول کو ترجیح دی جائے گی؟جواب کا منتظر ہوں،مرسلہ سوال وجواب میں حضور کی کیا رائے ہے تحریر فرمائیں:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك محلہ کی مسجد میں عرصہ پندرہ بیس سال سے ایك امام مقررتھا بعض لوگوں نے بعض وجوہ سے اس کو برطرف کیا،بعض لوگوں کو امام قدیم کا برطرف کرنا ناگوار معلوم ہوا،ہر چنداس فریق نے یہ چاہا کہ امام قدیم کو قائم رکھا جائے،لیکن فریق اول نے جنہوں نے امام قدیم کو برطرف کیا تھا نہ مانا،بناء بریں جھگڑے نے ترقی پکڑی یہاں تك کہ فریق اول نے جھگڑے کے اندیشہ کی وجہ سے مسجد کے دروازہ پر پولیس کو لاکے بٹھادیا تاکہ کسی قسم کا فتنہ نہ ہونے پائے۔فریق ثانی نے پولیس کے خوف کے مارے اس وقت نماز وہاں نہ پڑھی،دیگر مساجد میں پڑھی،اور بعد میں بھی وہ کچھ عرصہ تك دیگر مساجد میں پڑھتے رہے اس لئے کہ یہ فریق جدید امام کے پیچھے نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھے،آخر کار ایك قدیم مسجد جو کہ ویران پڑی ہوئی تھی(اس میں کبھی کبھی نماز باجماعت ہوئی ہے)اور یہ مسجد اتنی بڑی تھی کہ جس میں سوسواسوآدمی نماز پڑھ سکیں غرضیکہ مسجد مذکور کو آباد کیااور کچھ دنوں کے بعد اس مسجد کی قدیم بناء کو گراکر او رکچھ زمین گرد سے لے کر کچھ وسعت کے ساتھ تیار کی،اب اول فریق یہ کہتا ہے کہ مسجد مذکور ملك غیر میں بنی ہے اور حسدسے بنی ہے اس وجہ سے یہ مسجد ضرار ہے۔اور فریق ثانی یہ کہتا ہے کہ یہ مسجد وقف ہے،پس کیا یہ مسجد ضرار ہوسکتی ہے؟اور اس کی بناء کو کھود کر پھینك دیا جائے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت سوال ملاحظہ ہوئی،اس مسجد کو ضرار سے علاقہ ہونے کے کیا معنی،انہوں نے مسجد کا احداث بھی تو نہ کیا بلکہ مسجد قدیم کا احیاء کیا ہے اور مسجد قدیم معاذاﷲ ویران ہوجائے حتی الوسع اس کا احیاء فرض ہے،کہاں فرض اور کہاں ضرار،اور اگر بالفرض نئی مسجد بناتے جب بھی اسے ضرار سے کوئی تعلق نہ ہوتا کہ مسجد اللہ ہی کے لئے بنائی اور نماز ہی پڑھنی مقصود ہے نہ کہ دوسری مسجد کونقصان پہنچانا،اور جماعت المسلمین میں تفرقہ ڈالنا،اس کی تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے،جو شخص بنام مسجد کوئی عمارت تیار کرے جس سے تقرب الی اللہ مقصود نہ ہو بلکہ محض ریا وتفاخر کی نیت ہو تو وہ بیشك مسجد نہیں ہوسکتی کہ مسجد وقف ہے اور اس کا قربت مقصودہ کے لئے ہوناضرور،اورریا وتفاخر قربت الی اللہ نہیں بلکہ بعدعن اللہ ہیں،امام نسفی صاحب مدارك نے ایسی ہی مسجد کو حکم ضرار میں فرمایا ہے،اور اگر مسجد بنائی اللہ ہی کےلئے اور وہی مقصود ہے اگرچہ اس کے ساتھ ریا وتفاخر کا خیال آگیا تو وہ ضرور مسجد ہے اگرچہ اس کے ثواب میں کمی ہو یا نہ ملے۔صاحب بیان القرآن کا شبہ اسی صورت پر محمول ہے والتفصیل فی فتاوٰنا(اور تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ آیا مسجد کی دیواریں ہمسایوں کے ساتھ مشترك کرنا شرعًا جائز ہے(الف)نصف لاگت دیواروں کی ہمسائے لگائیں اور نصف لاگت مسجد کا خرچ ہو(ب)کل لاگت مسجد ہو۔مسجد قدیمی کی دیوار وں پر ہمسایہ کی شہتیر رکھی ہوئی تھی اور(الف)اور نشانات اشتراك نہ تھے(ب)اور نشانا ت اشتراك تھے۔کہنہ مسجد کو مسجد کی لاگت پر گرایا گیا اور مسجد کے روپوں کا امین وہی ہمسایہ تھا جس کے شہتیر مسجد کی دیواروں پر تھے۔اس نے مسجد کی لاگت سے کل دیواریں اسی طرح بنوائیں جس سے بداہۃً اشتراك معلوم ہوتا ہے یعنی اپنی طرف جالی اور الماریاں حسب مرضی خود بلارضامندی دیگر مصلیان کے رکھوالئے،کیا یہ فعل لہابیہ کا شرعًا جائز ہے۔بصورت(الف)وبصورت(ب)کیا ان دیواروں پر ہمسایہ مذکور بالاخانہ ہائے تیار کرسکتا ہے اور بطور ملکیت خود ان دیواروں کو استعمال کرسکتا ہے،بصورت(الف)وبصورت(ب)کیا بقول لھابیہ نصف دیوار اس کی ہے نصف دیوار کی تختہ زمین چھوڑ کر ازسر نو دیواریں واحد ملکیت مسجد بلا اشتراك تحریر چڑھانا جائز ہے یا ضروری ہے کیا ایسے مشترك دیوار والی مسجد پر"الوقف لایملک"صادق آتا ہے اور ایسی مسجد میں نماز ادا کرنے سے ثواب جو مسجد میں ادا کرنے پر وارد ہوتا ہے ملتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:" وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ "[2] مسجدیں خاص اللہ کے لئے ہیں۔مسجد ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی شش جہت میں جمیع حقوق عباد سے منزہ ہو اگر اس کے کسی حصہ میں بھی ملك عبد باقی ہے تو مسجد نہ ہوگی۔ہدایہ میں ہے:
من جعل مسجدا تحتہ سرداب،او فوقہ بیت وجعل باب المسجدا الی الطریق وعزلہ عن ملکہ،فلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانھالم یخلص ﷲ تعالٰی لبقاء حق العبد متعلقابہ[3]۔
جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ یا اوپر کوئی مکان ہے اور مسجد کا دروازہ اس نے بڑے راستہ کی طرف کردیا اور اس کو اپنی ملك سے الگ کردیا تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اسے بیچ دے اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی کیونکہ وہ خالص اﷲ تعالٰی کے لئے نہیں ہوئی اس سے حق عبد متعلق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وکذٰلك ان اتخذ وسط دار مسجدا واذن للناس بالدخول فیہ،یعنی لہ ان یبیعہ ویورث عنہ لان المسجد مالایکون لاحدفیہ حق المنع (الی ان قال) فلم یصرمسجدا لانہ ابقی الطریق لنفسہ فلم یخلص ﷲ تعالٰی [4]۔
کسی نے اپنے گھر کے درمیان میں مسجد بنائی اور لوگوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی اگر تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو مذکور ہوایعنی اسے فروخت کرسکتاہے اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث بھی جاری ہوگی کیونکہ مسجد وہ ہوتی ہے جس سے روکنے کاحق کسی کو نہ ہو(یہاں تك کہ فرمایا)پس)چونکہ اس نے راستہ اپنے لئے باقی رکھا ہے لہذا وہ مسجد نہ ہوئی اسلئے کہ وہ خالص اﷲ تعالٰی کے لئے نہ ہوئی۔(ت)
پس اگر اس مسجد کی دیواریں واقع میں مشترك ہیں ان میں کچھ حصہ عبد کا بھی ہے تو وہ مسجد سرے سے مسجد ہی نہیں،نہ اسمیں نماز پڑھنے سے مسجد کاثواب،وہ بانی کی ملك ایك مکان ہے جسے وہ بیچ سکتا ہے اور مرجائے تو ترکہ میں تقسیم ہوگا کما مرعن الھدایۃ(جیسا کہ ہدایہ سے گزرا۔ت)اور اگرواقع میں مشترك نہیں،اس متولی نے غاصبانہ اشتراك کر رکھا ہے تو فرض ہے کہ اسے تولیت سے خارج کردیں اور وہ نشانات جو اس نے اپنے اشتراك کی علامت بنائے ہیں سب مٹادیں اور شہتیر وغیرہ جو کچھ اس کا مسجد کی دیوار پر رکھا ہے سب گرادیں،اور جتنے برسوں رکھا رہا اتنے کا کرایہ دیوار مسجد کا اس سے وصول کریں،اور اب اگر کوئی عمارت دیوار مسجد پر بنانا چاہے نہ بنانے دیں،اور اگر بنالی ہو بجبر حکومت فورًا منہدم کرادیں۔ درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع