30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ اس میں کچھ بونا یا اور کوئی تصرف کسی طرح حلال ہوسکے بلکہ زید پر فرض ہے کہ اسے بدستورپہلی طرح بنادے۔
فان الضمان فی بناء الوقف باعادتہ کما کان بخلاف سائر الابنیۃ [1] کما فی الدر وغیرہ۔
عمارت وقف میں ضمان یہ ہے کہ اس کو پہلے کی طرح دوبارہ بنائے بخلاف دیگر عمارات کے ضمان کے،جیسا کہ دروغیرہ میں ہے(ت)
یہ دوسری مسجد جو اس نے بنائی اگر اپنی زمین میں بنائی اور اسے مسجد کردیا تو یہ بھی مسجد ہوگئی اس کا بھی باقی رکھنا فرض ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۵۹: مرسلہ سعادت خاں نابینا مسجد ندی قصبہ مہد پورریاست اندور ملك مالوہ یکم ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
مسجدکے احاطہ کے اندر درختوں میں سے یا مسجد کی ملك کے درختوں میں سے کسی درخت کا پھل یا پھول بلاادائے قیمت کھانا یا لینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
اگر وہ پیڑ مسجد پر وقف ہیں تو بلاادائے قیمت جائز نہیں ورنہ مالك کی اجازت درکار ہے اگرچہ اسی قدر کہ اس نے اسی غرض سے لگائے ہوں کہ جو مسجد میں ہوں ان سے تمتع کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۶۰: مرسلہ محمد نصیر الحق امام مسجد مالدہ محلہ بی بی گاؤں ۲۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قدیم جامع مسجد نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ میں اضافہ کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی ایك قطعہ زمین اسی مسجد کی ملحق ایك مسلمان زمیندار کا تھا اور اس کو زمیندار نے ایك شخص کے ساتھ مدامی بندوبست کچھ خزانہ معینہ پر کردیا تھا خزانہ باقی رہنے کی وجہ سے زمیندار نے نالش کرکے اس زمین کو نیلام کرایا،اس کو ایك مسلمان نے خریدلیا،اور اس خریدار نے ایك حصہ اس زمین کا وقف کرکے مسجد کے ساتھ ملحق کردیا،کیا وہ حصہ ملحقہ مسجد کے حکم میں ہوایانہیں؟یہاں کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوا حالانکہ خریدار اس زمین پر ہر قسم کے تصرف کرنے کا مجاز ہے،زمیندار کو بجز زر خزانہ معینہ کے نہ تو حق انتزاع رکھاہے نہ اپنی حقیت زمینداری کے باعث اس زمین پر کسی قسم کا تصرف کرسکتا ہے،اگر زمیندار اسی قطعہ زمین میں مسجد یا کنواں یا مسافر خانہ بلامرضی خریدار کے بنانا چاہے تو بالکل نہیں بناسکتا اور خریدار کو یہ سارے حقوق حاصل ہیں،ایسی صورت میں جو حکم شرع شریف ہو بحوالہ کتب وعبارت تحریر کیا جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ وقف صحیح اور وہ قطعہ مسجد ہوگیا۔ردالمحتار میں ہے:
الصحیح الصحۃ ای اذاکانت الارض محتکرۃ کما علمت،وعن ھذا قال فی انفع الوسائل انہ لوبنی فی الارض الموقوفۃ المستاجرۃ مسجد اانہ یجوز،قال واذاجاز فعلی من یکون حکرہ،والظاہر انہ یکون علی المستاجر مادامت المدۃ باقیۃ،فاذاانقضت ینبغی ان یکون من بیت مال الخراج واخواتہ ومصالح المسلمین [2] اھ فاذا کان ھدافی ارض مستاجرۃ وما جعل مسجداغیربناء مجرد فماظنك بارض مشتراۃ وقد جعلت ھی مسجدا فالحکراذا لم یمنع ثم فھھنا بالاولٰی۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
صحیح حکم صحت ہی ہے جبکہ زمین محتکرہ ہو(یعنی وہ زمین موقوف جس کی اجرت بطور ماہانہ یا سالانہ مقرر ہوگئی ہو) جیسا کہ تو جان چکا ہے اسی بنیا د پر انفع الوسائل میں فرمایا کہ اگر اجرت پر لی ہوئی زمین موقوف میں کسی نے مسجد بنادی تو جائز ہے اور جب جائز ہوگئی تو حکر کس پر ہوگی اور ظاہر یہ ہے کہ جب تك مدت اجارہ باقی ہے مستاجر پر ہوگی اور اختتام مدت کے بعد خراج وغیرہ مصالح مسلمین کےلئے بنائے ہوئے بیت المال پر ہوگی اھ توجب یہ حکم مستاجرہ زمین کا ہے اور اس میں بنائی گئی مسجد عمارت کے علاوہ کچھ نہیں تو خریدی ہوئی زمین کے بارے میں تیرا کیاخیال ہے درانحالیکہ اسے مسجد بنادیا گیا ہوتو حکر جب وہاں مانع نہیں تو یہاں بدرجہ اولی مانع نہ ہوگا۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۱تا۲۶۲: مرسلہ حافظ عبدالستارصاحب مچھلی بازار کانپور ۱۲جمادی الاول ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کانپورکی ایك مسجد میں پاخانہ متعلق مسجد واقع ہے اور ایك کمرہ متعلق مسجدہے اس کی نالیان پانی بہنے کی اور پاخانہ کی سنڈ اس کمانے کا راستہ سرکاری گلی میں جانب پچھم ہمیشہ سے جاری تھا،میونسپل بورڈ نے جانب پچھم اور دکھن کے مکانات توسیع سڑك کے لئے لے کر راستہ بطور سڑك بنالیا اور وہ گلی جانب پچھم کی کالعدم کردی اور مسجد کے پچھم کی بقایا زمین بعد نکالے جانے سڑك کے فروخت کردی،اب میونسپل بورڈ متولی مسجد کو حکم دیتا ہے کہ جس قدر جگہ جانب پچھم پاخانہ سنڈ اس کمانے کو اور نالیاں جاری رکھنے کو درکارہے جانب دکھن میونسپل بورڈ دیتا ہے،متولی مسجد سنڈاس کا رخ دوسری طرف پھیرے اور نالیاں بھی اس طرف سے جاری رکھی جائیں،اگر متولی کے پاس روپیہ مسجد کانہ موجود ہو تو صرف رضا مندی دے دی جائے تاکہ میونسپل بورڈ اپنے صرفہ سے نالیاں اور سنڈا س بنادے اور کسی قسم کا حرج مسجد کا نہ ہونے پائے۔
(۱)کیا متولی شرع کے مطابق ایسی رضامندی دے سکتا ہے کہ سرکار کی طرف سے بنائی جائے۔
(۲)کیا پچھم کی طرف سے جو نالیاں یا سنڈ اس کمانے کا دروازہ ہے اس کے بدلے جانب دکھن سرکاری زمین لے کر مسجد کی آمدنی سے متولی اس کو درست کراسکتا ہے اگر مسجد کی آمدنی نہیں صرف کرسکتا ہے تو چندہ کرکے اس کام کو انجام دے سکتا ہے۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے زمین وقف میں کوئی تبدیل نہیں،صرف رخ پھیرنا ہے اور کمانے کاراستہ اور پانی کا نکاس پہلے بھی زمین وقف میں تھا اس تبدیل کا جواز جائے تامل نہیں،مگرمسجد کی آمدنی مصالح مسجدکےلئے ہوتی ہے اور یہ کام مصالح شارع عام کے لئے ہے مصلحت مسجد اس سے متعلق نہیں،لہذا آمدنی مسجد اس میں صرف نہیں ہو سکتی۔چندہ کا اختیار ہے اور اس میں حرج نہیں کہ میونسپلٹی کی سڑکوں کے مصالح اس سے متعلق ہیں اپنے صرف سے بنا دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: مرسلہ منشی ابراہیم صاحب قصبہ گودھرہ ضلع پنج محل مدرسہ فیض عام ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۵ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع