30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متولی نے زر وقف سے جو زمین یا جائداد وقف کے لئے خریدی وہ وقف نہیں ہوجاتی اس کی بیع جائز ہے کتابوں میں جزئیہ کی تصریح ہے ہاں بیع کے لئے ایسا ذریعہ اطمینان ضرور ہے جس میں کسی کے تغلب کا احتمال نہ رہے قاضی شرع تو یہاں کوئی نہیں اہل محلہ وعالم دیندار و مسلمانان متدین کی دینداری سے یہ کام ہو،درمختار میں ہے:
اشتری المتولی بمال الوقف داراللوقف لاتلحق بالمنازل الموقوفۃ و یجوز بیعھا فی الاصح[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
متولی نے وقف مال سے کوئی مکان وقف طور پر خریدا تویہ مکان وقف شدہ جائداد شمار نہ ہوگا اصح قول میں اس کو فروخت کرنا جائز ہوگا،واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶: بحضور عظیم البرکت اعلٰیحضرت مدظلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،آج غریب اللہ صاحب
تشریف لائے ہیں فرماتے ہیں کہ مسماۃ سمی طوائف جس کی عمر اس وقت تخمینًا ۵۰ برس کی ہے ۱۶ برس ہوئے میاں ناصر صاحب کی مرید ہوکر تائب ہوئی،کرایہ دکانات سے گزر کرتی ہے،خواہش اس کی یہ ہے کہ جائداد تیس چالیس روپیہ ماہانہ کے وقف کرنا چاہتی ہے اورحج کو جانا چاہتی ہے،جس جائداد کا تاحیات خود اور بعد کو مدرسہ مالك ہے اس میں حضور کیا فرماتے ہیں؟ کمترین قادرعلی محرر مدرسہ۴جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
الجواب:
وہ جائداد اگر اس کی اس حرام کمائی کی ہے تو اس کا طریقہ صرف یہی ہوسکتا ہے کہ وہ کسی محتاج پر تصدق کرے اور وہ محتاج بعد قبضہ اپنی طرف سے یوں وقف کرے کہ تاحیات سمی اس سے مستفید ہو اس کے بعد مدرسہ اور اس کے لئے دفع اعتراض مخالفین کے واسطے ضرور ہے کہ پہلے وہ ایك ہبہ نامہ اس محتاج کے نام تصدیق کرائے جس کا یہ مضمون ہو کہ یہ جائداد وجہ حرام سے ہے اور اب میں نے توبہ کی ہے اور شرع مطہر اس کے تصدق کا حکم فرماتی ہے لہذا میں نے فلاں کو بطور تصدق اس کا مالك مستقل کیا اور پوراقبضہ اسے دے دیا،اسکے بعد وہ محتاج وقف نامہ تصدیق کرائے کہ ازانجاکہ مسماۃ فلانہ نے امتثال حکم شرع کےلئے یہ جائداد بطور تصدق میری ملك کردی اور میں نے قبضہ کرلیا اور اب یہ مال شرعًا طیب ہوگیا،میں چاہتا ہوں کہ اسے کارخیر میں صرف کرکے ثواب حاصل کروں اور مسماۃ کو بھی فائدہ پہنچاؤں لہذا میں نے اسے تاحیات مسماۃ اس پر اور اس کے بعد مسجد مدرسہ پر وقف صحیح شرعی کی،باقی عبارتیں کاغذ میں حسب دستور ہوں۔
مسئلہ۱۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کو اپنی کل جائداد جس پر بارکفالت بھی تھا باظہار بار کفالت وقف عنداللہ کی اور وقف نامہ تحریر کرکے اس میں متولی اپنی زوجہ کو لکھایا بعدہ ۳۱جنوری۱۹۱۷ء کو ایك تتمہ متعلق وقف نامہ مذکور بخیال اس کے کہ زمینداری جو وقف نامہ میں وقف تھی اس کی نمبرداری کے لئے خواستگار دوسرا شریك ہوکیونکہ عورت بموجب قانون انگریزی بمقابلہ مرد کے نمبر دار نہیں ہوسکتی ہے تتمہ مذکور لکھا اور اس میں عبارت حسب ذیل درج کی:
چونکہ میں نے بذریعہ دستاویز وقف نامہ مورخہ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کو اس کل جائداد منقولہ وغیر منقولہ دس بارہ روپیہ کو وقف کرکے تکمیل دستاویز مذکور کے بذریعہ تحریر ورجسٹری کے کرادی ہے اس دستاویز میں سہو کامل سے کسی سبب یہ بات لکھنے سے باقی رہ گئی ہے کہ تمام جائداد مندرجہ وقف نامہ متذکرہ بالا کی بابت میں شرائط کی پابندی اسمیں درج ہے اس کا عمل درآمد اور پابندی شرائط میرے مرنے کے بعد عمل پذیر ہوگی جب تك میں مقر بقید حیات زندہ ہوں اس وقت تك میں مقرمالکانہ قابض اور متصرف رہوں گا مع تتمہ دستاویز وقف نامہ مورخہ ۲۹جنوری ۱۹۱۷ء کی بابت لکھ دیا کہ سند ہو،بعدہ وہ ۱۸دسمبر۱۹۱۹ء کو ایك تتمہ دوسرا اور لکھا اور اس میں حسب ذیل عبارت تحریر کی کہ تتمہ دستاویز مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۱۷ء جوبابت دستاویز مورخہ ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کے لکھایاتھا اس تتمہ دستاویز کے سطر ج کے آخر میں لفظ مقر کے بعد بوجہ سہوکتابت کے عبارت ذیل تحریر ہونے سے رہ گئی ہے وہ عبارت ذیل مذکور تتمہ مذکور یعنی دستاویز تتمہ مذکور مورخہ ۳۱جنوری ۱۹۱۷ء مذکور کا جزومتصورہوکر پڑھی جاوے:
"واقف منتظم بشرائط مندرجہ وقف نامہ بحیثیت متولی ۲۹جنوری۱۹۱۷ء"
لہذا یہ تتمہ بطور دستاویز تتمہ ۳۱جنوری ۱۹۱۷ء متصورہو،اس کے بعد پسر واقف نے کل جائداد واقف پر ۱۹۱۹ء میں قبضہ متولی سابق کودے دیا۔اب ۱سوال یہ ہے کہ وقف نامہ جائز ہے یانہیں اور وقف اگرجائز ہے تو وہ ۱۹۱۹ء کے تتمہ سے مانا جائے گایا ۱۹۱۷ء کے وقف نامہ سے اورتتموں سے تو کوئی اثر وقف پر نہیں پڑتا۔دوسرا سوال یہ ہےکہ درمیانی امور کے بابت واقف بحیثیت متولی مانا جائے گا یا مالك کی حیثیت اس کی ہو گی تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقف کردے اور متولی کو قبضہ نہ دے اور خود ہی واقف اپنا قبضہ رکھے تو اس حالت میں کیا وقف ناجائز ہے یاجائز؟
الجواب:
وقف صحیح ہوگیا اور پہلا تتمہ جس کا حاصل یہ ہے کہ وقف کا عملدرآمد اس کے مرنے کے بعد ہوگی زندگی بھر وہ مالکانہ قابض رہے مردود ہے وقف صحیح ہوجانے کے بعد اس میں کسی تبدیلی کا اصلًا اختیار نہیں اور دوسرا تتمہ جس کاحاصل یہ ہے کہ وقف نامہ میں جسے متولی کیا تھا اس کی جگہ خود متولی رہنا چاہتا ہے یہ اس کے اختیار کی بات ہے اسے معزول کرکے آپ متولی ہوسکتا ہے۔درمختار میں ہے:
للواقف عزل الناظر مطلقًا بہ یفتی[2]۔
مطلقًا واقف کو یہ جائز ہے کہ وہ نگران کو معزول کردے،اسی پر فتوٰی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای سواء کان بجنحۃ اولا وسواء کان شرط لہ العزل اولا[3]۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
یعنی نگران کا جرم ہو یا نہ ہواور معزولی کی شرط ہویانہ ہوبرابر ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸: ازمقام چند وسی ضلع مراد آباد محلہ سنبھل دروازہ مسئولہ عبداللہ لوہار
کہ میفرمایند علمائے دین دریں مسئلہ،زید نے ایك منزل دکان واقع چندوسی پر گنہ بلاری میں ۱۹۰۴ء میں فی سبیل اللہ وقف کی،اور یہ وقف نامہ رجسٹری شدہ تحریر کردیا ہے،اس کے دو ماہ بعد ایك وصیت نامہ زید نے اور تحریر کردیا کہ میرا ارداہ بیت اللہ شریف جانے کا ہے اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں مالك ہوں اور بعد انتقال میرے کے میری عورت مسماۃ عدیا اور میرا پوتا علی حسین مالك ہے۔زید کا انتقال بیت اللہ شریف جاتے وقت راستہ میں ہوگیا اور اس کے بعد پوتا علی حسین بھی مرگیا تو اس کی بیوی عدی باقی رہی اس نے یہ جائداد کفالت کردی،کفالت کے ایك سال بعد عدی عورت کا بھی انتقال ہوگیا تو اس کے پوتے علی حسین کے والد امر نے یہ جائداد بیع کردی اور اس کا روپیہ اسی نے صرف کرلیا اور چودھری محلہ ہے انہوں نے بیع نامہ پر دستخط کردئے اور اس کے بعدخریدار نے اسکو تعمیر کرلیا،خریدار کو وقت بیع اور وقت تعمیر کے یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ جائداد فی سبیل اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع