30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرات علمائے دین کی خدمت میں مسائل شرعی دریافت طلب پیش ہیں:
مسئلہ اول:قدیمی جامع مسجد کو ترك کرکے دوسری مسجد کو مسجد جامع قرار دے سکتے ہیں یانہیں؟اور قدیمی جامع مسجد ترك کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس کی نسبت یہ اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ میں خود بخود منہدم ہوجائے کیونکہ اس کے دو جانب برساتی نالے فراخ ہوتے جاتے ہیں اور مسلمان اس قدر مقدرت نہیں رکھتے کہ نالوں کو پٹوا کر مسجد کو محفوظ کرسکیں اور اس کے علاوہ ان نالوں کو سوائے سرکار انگریزی کے دوسرے شخص کو بندکرانے کا مجاز بھی نہیں،اور جس مسجد کو مسجد جامع قرار دینا چاہتے ہیں وہ جامع مسجد سے محکم اور فراخ بھی ہے،تو ایسی صورت میں دوسری مسجد کو جامع قرار دینا جائز ہے یانہیں؟
دوسرا مسئلہ:کسی ایسے ہندو یا انگریز حاکم کا روپیہ جو اسلام کی طرف قلبی توجہ رکھتا ہو مسجد میں لگانا جائز ہے یانہیں؟فقط
الجواب:
(۱)جائز ہے،اور اس مسجد اول کی محافظت تاحدقدرت فرض ہے۔
(۲)ایسی ضرورت کی حالت میں جیسی اوپر مذکور ہوئی کہ مسجد شہید ہوجائیگی اور مسلمانوں میں طاقت نہیں جائز ہے لان الضرورات تبیح المحظورات[1] (کیونکہ مجبوریاں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۵۷: ازکالاکاکر ضلع پرتاب گڈھ ۲۲صفر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید مسلمان نے ایك مسجدکی بنا ایسی جگہ ڈالی ہے جہاں کبھی مسجد نہ تھی اور وہاں کے ہنود باشندے مسجد کے بننے کو روکتے،لیکن زید مسلمان نے اپنی خوشامد سے مسجد کی بنیاد قائم کردی لیکن اسی مقام کا عمرو خود اس امر کی کوشش اہلکاروں زمینداروں سے کی اور ملازم زمیندار کو اس موقع پر لاحاضرکیا کہ اس مسجد کی بنیاد میرے گھر کی طرف چھ انگل بڑھی ہوئی ہے،اس مسجدکی دیوار چھ انگل ادھر بنانی چاہئے لیکن باقی مسجد زید نے اپنی خوشی سے اور خوشامد کے باعث اپنی منزل مقصود کو پہنچے اور جب عمرو مسلمان اپنے مقصد کو نہ پہنچا تو ایك ہندو کو ورغلا کر اس امر پر آمادہ کیا کہ مسجد کی دیوار تیرے مکان کی دیوار کی طرف بڑھا کر اٹھائی جارہی ہے تو روك دے ورنہ تجھ کو اس مسجد کی دیوار کی وجہ سے نقصان ہوگا لیکن زید مسلمان نے اپنی چالاکی سے بمقابلہ ہندو اور عمرو مسلمان قائم ہی کردی اور عمرو مسلمان کی کچھ نہ چلی،ایسے شخص کے ساتھ ازروئے حکم خداورسول کیا برتاؤ رکھا جائے اور اس کے یہاں کا کھانا پینا چاہئے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے نہ بتایا کہ واقع زید نے چھ انگل ملك عمرو زمین میں شامل کرکے اسے مسجد کرنا چاہا ہے یاواقع میں ایسا نہیں اور عمرو کا دعوٰی جھوٹا ہے اگر فی الواقع صورت اولٰی ہے تو مسجد مسجد نہیں،اور عمرو نے جو کچھ برتاؤ برتے اس صورت میں اس پر الزام نہیں اور ایسا توبلاشبہ عمرو بدخواہ مسجد اور سخت سے سخت ظالموں میں ہے،
قال اﷲ تعالٰی عَزَّ وَجَلَّ :
'' وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴) "[2]
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں یاد الٰہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے، ایسوں کو نہیں پہنچتا تھاکہ اس میں جاتے مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اورآخرت میں بڑا عذاب۔
اس حالت میں اس کے ساتھ کھانا پینا،میل جول نہ چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۸: مرسلہ محمد حسن فاروقی ضلع پورنیہ ڈاکخانہ اسلام پور بھوجا گاؤں ۲۲صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد زمانہ دراز سے قائم تھی جس کو زید نے توڑ کر جگہ سابق سے دوسری جگہ پر یعنی دس بارہ ہاتھ یا ایك رسی کے فاصلہ پربنادی ہے اور اس مسجد کی جو لکڑی پرانی ہوگئی تھی اسکو اپنا کھانا پکانے میں جلادی ہے تو کیا مسجد ایك جگہ سے توڑ کر دوسری جگہ بنادینا اور اس کی لکڑی کو اپنے تصرف میں لانا درست ہے یانہیں؟
دوسرے یہ کہ جس جگہ پر وہ مسجد پہلی قائم تھی بعد توڑدینے مسجد کے وہ جگہ جہاں پر وہ مسجد تھی ویسا ہی خالی پڑی رہے یا کہ اگر کوئی چیز پیدا ہوتو بوئی جائے۔
الجواب:
یہ فعل کہ زید نے کیاحرام محض ہے،مسجد نہ توڑی جاسکتی ہے نہ بدلی جاسکتی ہے،نہ اس کی لکڑی وغیرہ کوئی چیز اپنے مصرف میں لائی جاسکتی ہے،
قال اﷲ تعالٰی :
'' وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴) "[3]
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں یاد الٰہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے،ایسوں کو نہیں پہنچتا کہ اس میں جاتے مگر ڈرتے ہوئے،ان کےلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑاعذاب۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لایجوز نقلہ ولانقل مالہ الی مسجد اٰخر[4]۔
مسجد اور اس کے مال کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع