دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد شاہی زمانہ کی لب سڑك تھی اس میں ایك درجہ پچھم جانب گنبد دار تھا اور مسجد کے پورب ودکھن جانب دکانات ہیں جن کی چھت مسجد کے فرش صحن سے،اب مسجد ہذا کی از سر نو تعمیر اس طور پر کی گئی کہ پچھم کی جانب بجائے ایك درجے قائم کئے گئے اور دکانات کی بھی چھت پر عمارت بنائی گئی جس کے ہر چہار طرف بڑے بڑے دروازے جواب بنائے گئے اور مسجد کی کرسی بھی اتنی بلند کی گئی کہ دکانوں کی چھت فرش مسجد سے برابر ہوگئی صرف چھ انگشت بمقدار درسہ دکانات کی چھت سے فرش مسجد اونچی ہے مسجد ہی کی طرف سے اس چھت پرآمد ورفت ہے،رمضان المبارك کے جمعوں میں اس قدر لوگوں کی کثرت ہوتی تھی کہ لوگ مسجد میں نہیں سماتے تھے سڑکوں پر صف قائم کرنے کی نوبت آتی تھی۔اس ضرورت سے مسجد دو منزلہ بنائی گئی،مسجد کے اندر کے درجہ چھت پر ایك درجہ گنبدی بنایا گیا اور اس برابر آگے کا درجہ اور تمام صحن مع عمارت بالائے سقف دکانات پاٹ دیا گیا گویا کہ نیچے اوپر دو مسجدیں ہوگئیں نیچے کی مسجد مع صحن و اپنے حوالی کے پٹی ہوئی ہوگئی اور اوپر ایك درجہ پٹا ہواگنبدی اور اس کے ساتھ بہت بڑا صحن کھلا ہوا نکل آیا اور اوپر کے درجہ کے سامنے جو صحن ہے وہ محاذات مسجد سے دکھن جانب بڑھا ہو ا ہے کیونکہ دکانات کی چھت کی عمارت کی سقف بھی شامل کر لی گئی ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہے کہ اوپر کی مسجدکا جو صحن بغرض وسعت دکھن کی طرف بالائے سقف دکانات بڑھا ہواہے وہ مسجد ہے یانہیں؟

۲دوم: یہ کہ دکانات مذکورہ کی چھت پریا اس کے بالائے عمارت کے سقف پر معتکف جاسکتا ہے یانہیں؟

۳سوم: یہ کہ اوپر کے مسجد پر صحن میں جب امام محراب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو دکھن کی جانب صف بڑھ جاتی ہے ایسی حالت میں امام کچھ ہٹ کر دکھن کی جانب کھڑا ہوتا ہے کہ دونوں جانب صف برابر رہے یا خود محراب کے سامنے کھڑا ہو اور مقتدیوں کو زائد حصہ میں دکھن کی جانب کھڑ ے ہونے سے روکے اور اپنے پیچھے دونوں طرف صف برابر قائم کرنے کاحکم دے کیونکہ امام کے پیچھے دورتك بہت جگہ باقی رہتی ہے،فقط

الجواب:

 اگر وہ دکانیں متعلق مسجد اور اس پر وقف ہیں اور مسلمانوں نے ان کی سقف کو داخل کرلیا تو وہ سقف بھی مسجد ہوگئی،

ولایضرکون الحوانیت تحتہ لکونھا وقفا علیہ وجاز اخذ ملك الناس کرھا بالقیمۃ عند ضیق المسجد فکیف بما ھو وقف علیہ [1] کما فی ردالمحتار۔

مسجد کے نیچے دکانوں کا ہونا مضر نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف ہیں،اگر مسجد تنگ ہوتو لوگوں کی مملوکہ جگہ قیمت کے بدلے جبرًا لے کر مسجد میں توسیع کرنا جائز ہے تو جو مسجد پر وقف ہو اس کو شامل مسجد کرنا کیونکر جائز نہ ہوگا،جیساکہ ردالمحتار میں ہے(ت)

ان دکانوں کی چھت پر اور ان کی بالائی عمارت کی سقف پر معتکف جاسکتا ہے،

لانھا کانت من فناء المسجد ولاطریق فاصل بینھما فکیف وقد صارت من المسجد۔

کیونکہ وہ فناء مسجد ہے اور درمیان میں کوئی راستہ جدائی ڈالنے والا نہیں اور کیسے ناجائز ہوگا جبکہ وہ مسجد ہی کا حصہ ہوگیا ہے(ت)

اگر امام محراب کے سامنے کھڑا ہو اور اپنے توسط کے لئے صف پوری نہ کرنے دے تو گناہ وناجائز ہے۔

قال صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمن وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ[2]۔

حضورانور صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:جو صفوں کو ملائے اللہ تعالٰی  اس کو وصل عطا فرماتا ہے اور جو صفوں کو قطع کرے اﷲ تعالٰی  اس کو منقطع فرماتاہے(ت)

اور خود محراب کے سامنے کھڑا ہو اور صف پوری ہوکر ایك جانب بڑھ جائے تو مکروہ اور خلاف سنت ہے

لقولہ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتوسطواالامام[3]۔

نبی اکرم صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اس ارشاد کی وجہ سے کہ امام درمیان میں ہو۔(ت)

بلکہ یہ چاہئے کہ صف پوری کی جائے اور صف کا جہاں وسط ہو امام محراب چھوڑکر وہاں کھڑ اہواس بیرونی حصہ کے لئے یہی جگہ محراب ہے نص علیہ فی ردالمحتار التفصیل فی فتاوٰنا(ردالمحتار میں(علامہ شامی)نے اس پر نص فرمائی اور تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)مگر یہ معلوم رہے کہ مسجد کی چھت پر بلاضرورت جانا منع ہے اگر تنگی کے سبب کہ نیچے کا درجہ بھر گیا اوپر نماز پڑھیں جائز ہے اور بلاضرورت مثلًا گرمی کی وجہ سے پڑھنے کی اجازت نہیں کما نص علیہ فی الفتاوٰی عالمگیریۃ (جیسا کہ فتاوٰی عالمگیریہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۲۵۴:            مسئولہ شمس الدین از نصیر آباد ضلع اجمیر شریف مسجد گودام چرم                دو شنبہ ۱۷ذیقعدہ ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص ایك مسجد میں خلاف تہذیب وناشائستہ حرکات کرتے ہوئے مثلًا کسی وقت اس میں لڑے،گالی گلوچ تك نوبت پہنچی اور بہت شوروشغب کیا،کسی وقت مسخرہ پن کیا،ایك نے دوسرے کا تہبندکھول دیا،بعض وقت کسی کی مقعد میں انگلی کردی،کبھی مؤذن کی آواز پر ہنسے قہقہے اڑائے۔ان سب باتوں کو دیکھ کر ایك شخص نے ناصحانہ حیثیت سے محض نصیحت اور سمجھانے کے طور کہاکہ بھائیو!مسجد خانہ خدا ہے اس کے اندر تم کویہ افعال جائز نہیں ہیں، اور غور کرو کہ مسجد کی حرمت اور تعظیم ہم پر  اور تم پر اور ہر مسلمان پر ہر وقت ضروری اور فرض ہے،تو ان لوگوں نے اس کی بات کو نصیحت اور خیر خواہی نہ سمجھ کر تعصب اور نفسانیت تصور کرکے خلاف منشاء ناصح کے جواب دیا،اس پر ناصح مذکور نے کہا کہمسجد نماز اور ذکر خدا کے لئے گئی ہے بیہودہ باتوں کے لئے نہیں ہے۔مسخرہ پن کرنا چاہتے ہوتو دوسری مسجد تلاش کرو۔اس بات پر اکڑ گئے کہ تم نے مسجد پر مالکانہ دعوی کیا اور ہم کو مسجد سے نکال دیا اور اب دوسری مسجد بنانا چاہتے ہیں اور مسجد اول کی ویرانی اور جماعت کم ہوجانے کا کچھ خیال نہیں کرتے،کیا باوجود تخریب مسجد اول اورتقلیل جماعت ان کو مسجد ثانی بنانا جائز ہے؟یادوسری مسجد ضرار کہلائے گی؟فقط۔

الجواب:

اگر یہ واقعی اسی طرح ہے اور ان کی نیت فاسد ہے تو ضروردوسری مسجد بنانے کی ان کی اجازت نہیں،بوجہ فساد نیت وہ مسجد حکم ضرار میں ہوگی۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۲۵۵ تا ۲۵۶:            مرسلہ عبدالغنی،حاجی کریم بخش صاحب از مقام کمپ ڈیسہ علاقہ ریاست پالن پور        ۸صفر ۱۳۳۵ھ

 



[1]        ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۰ و ۳۸۴

[2]        سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۷

[3]        سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب مقام الامام من الصف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۹،السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب مقام الامام من الصف دارصاردر بیروت ۳/ ۱۰۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن