30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۲۴۶: از شہر مظفر پور محلہ کلیانی حکیم ظہور الحق شنبہ ۱۸شوال المعظم۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك محلہ میں شہر کے ایك مسجد پختہ مدت دراز سے قائم ہے اور کوئی معتبر شخص نہیں کہتا ہے کہ یہ مسجد زرحلال یا حرام سے کس طرح روپیہ سے بنی ہے اور بنانے والا کون ہے۔مگر بعض اشخاص غیر معتبر کہتے ہیں کہ یہ مسجدایك عورت کی بنوائی ہوئی ہے جس نے ایك ملازم سرکاری سے عقدکیا تھا اور بعد عقد کے ظروف گلی کے بیچنے کا پیشہ کرتی تھی اور اپنی ظروف فروشی کے حلال روپیہ سے اس نے یہ مسجد بنوائی ہے چنانچہ قبر اس عورت کی صحن مسجد کے دالان میں موجود ہے اب مرمت وغیرہ مسجد مذکور ہ کی مسلمانان محلہ کے خرچ واہتمام سے ہوتی ہے اور برابرنماز پنجگانہ جماعت سے اس میں ہوتی ہے اور ایك شخص بمشورہ مسلمانا ن محلہ ان دنوں اس کا متولی ہے اور اذان دیتا ہے اور نمازیں پڑھاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ مسجدہماری نانی کی بنوائی ہوئی ہے مگر عندالناس یہ شخص شریف النسب نہیں ہے، پس اس صورت میں ا س مسجد کو مسجدکاحکم دیا جائے گا یانہیں؟اور نمازیں اس میں جائز ہوں گی یانہیں؟بینوا توجروا۔
الجواب:
مسجد ضرور مسجد ہے اور اس میں نمازیں بے شك جائز اور بنانے والے کا شریف النسب نہ ہونااگرثابت بھی ہوتو کوئی حرج نہیں۔بانی کی شرافت نسب کوئی شرط مسجد نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ” اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ"[1] الاٰیۃ۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:مسجدیں تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو اﷲ تعالٰی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
اور جب زر حرام سے ہونا معلوم نہیں تو شبہ ووہم کو دخل دینا بے معنی ہے۔فتاوٰی عالمگیریہ میں فتاوٰی ذخیرہ سے ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہٖ [2] واﷲتعالٰی اعلم۔
ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں جب تك ہمیں کسی معین شیئ کے حرام ہونے کا یقین نہ ہوجائے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۲۴۷ تا ۲۵۰: ازبریلی بازار صندل خاں مسئولہ نواب نثار احمد خاں صاحب یکشنبہ ۱۹شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں کہ:
(۱)دو شخصوں نے ایك چاہ ومسجد بخیال آرام وآسائش ادائے نماز اپنی کے تعمیر کرائی اوروقف نہ کی،نیز دیگر مکانات بھی اس میں پہلے بنانے والے کے ملحق مسجد واقع تھے اور اب بھی ہیں،بنانے والے کے ورثاء ہمیشہ سے یکے بعد دیگرے انتظام مسجد کرتے چلے آنے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں مگر اس میں دیگر اشخاص نماز ادا کرنے لگے،اب چند اہل محلہ ان مکانات وغیرہ کو متعلق مسجد خیال کرکے اس کی آمدنی اپنی رائے سے صرف و خرد برد کرنا چاہتے ہیں اور وارثان ہر دو اشخاص جن کے مورثوں نے مسجد و چاہ تعمیر کراکر وقف نہ کی وہ ان کے خرد برد سے آمدنی کو باز رکھناچاہتے ہیں پس عندالشرع ایسے شخص غیر تعلقدار اپنی رائے سے آمدنی مسجد صرف وخرد برد کرسکتے ہیں یانہیں؟ انتظام کس کی رائے سے ہونا چاہئے اور کس کی رائے سے نہ ہونا مناسب ہے،آیا غیر شخص کی رائے یا ان مورثوں کے ورثاء کے ہاتھ سے جنہوں نے مسجد وچاہ تعمیر کرایا ہے،اور اب بھی حسب ضرورت خرچ مسجد و امام وغیرہ ہی کرتے ہیں،صورت بالا میں مسجد بلاایماء بنوانے والے کے وقف سمجھی جائیگی یا نہیں اور بلاایماء بنوانے والے کے یا اس کے ورثاء کے غیر اشخاص کے ادائے نماز میں کوئی سقم واقع ہوگا یانہیں؟
(۲)اگر کوئی شخص امام مسجد مثلا طالب علم یا دیگر اہل محلہ سے مسجد میں اگر جھگڑا کرے اور تحکمانہ برتاؤ کرے ایسی باتیں کرے جس میں کہ تمام اہل محلہ وامام مسجد نالاں ہوکر مسجد میں آنا ترك کردیں تو ایسے شخص کو مسجد میں آنے دیا جائے یانہیں؟ باوجود مدد کرنے زر نقد وروٹی وغیرہ کے،اس پر اور اس کے ہم خیال وغیرہ پر کیا حکم شرع ہے؟
(۳)کانٹا ولوٹا ورسی وغیرہ سامان مسجد سوائے اپنے یا اپنے میل کے اشخاص کے کسی دوسرے شخص کو دینا پسند نہ کرے،او اگر لیں توجھگڑا کرے تو ایسے شخص پر کیا حکم شرع ہے؟
(۴)عالم پانی بھرنے والوں کو جو چاہ مسجدمیں بھریں برا کہے اور روکے برخلاف اپنے میل کے اشخاص کے،تو ایسے شخص پر کیا حکم شرع ہے؟
الجواب:
(۱)مسجداگر صورت مسجد پر بنائی اور راستہ اس کا شارع عام تك جدا کردیا اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تو بلاشبہ وہ مسجد ہوگئی اوراس کا یہ کہنا کہ بانی نے وقف نہ کی قابل قبول نہیں،یونہی اگر کنواں بناکر متعلق مسجد کردیا اس میں نماز وارثان بانی کی محتاج اجازت نہیں،ہاں اگر بہ ثبوت شرعی ثابت ہوکہ بانی نے کہا تھا یہ مسجد میں اپنے لئے بناتا ہوں وقف نہیں کرتا،یا اس کا راستہ اسی کی ملك میں ہوکر ہو اور اس نے مسجد کے لئے راہ جدانہ کی تو وہ مسجد نہ ہوئی اگرچہ صورت اخیرہ میں اس نے یہ بھی کہہ دیا ہو کہ میں نے اس کو وقف کیا،یوں اس میں نماز مسجد کا ثواب نہیں،نہ بے اجازت مالکان دوسرا پڑھ سکتاہے،رہے دیگر املاك متصل مسجد ثبوت شرعی سے ان کا مسجد پر وقف ہونا درکار ہے بے اس کے کوئی ان میں تصرف نہیں کرسکتا وہ وارثوں کی ملك ہے ان کو اختیار ہے۔
(۲)جو شخص ناحق فتنہ اٹھاتا ہو اور اس کے سبب لوگ مسجد میں آنا ترك کردیں اسے مسجد سے روکنا جائز ہے جبکہ باعث اثارت فتنہ نہ ہو،درمختارمیں ہے:
ویمنع منہ کل موذ ولو بلسانہ[3]۔
مسجد سے ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبانی ایذا پہنچاتا ہو۔ (ت)
اور اگر وہ کسی امر ضروری حق کی طرف بلاتا ہو اور لوگ اپنی جہالت کے سبب سے اس سے ناراض ہوں تو وبال انہیں پر ہے نہ کہ اس پر۔
(۳)مال وقف پر کوئی اپنا قبضہ نہیں کرسکتا،اگر ایسا کرے اور نمازیوں کو مسجد کی اشیاء سے انتفاع نہ کرنے دے تو وہ بھی موذی اور قابل اخراج۔
(۴)کنویں پر سے کسی مسلمان کے روکنے کا کسی کو حق نہیں،جب تك کوئی خاص وجہ شرعی نہ ہو اور جو ایسا فساد کرتا ہو بطرز مناسب اس کا انسداد واجب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ تا ۲۵۳: ازالہ آباد مدرسہ سبحانیہ محمد نصیر الدین محلہ سرائے گڈھا پنجشنبہ ۲۳شوال ۱۳۳۴ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع