30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا جیسا کہ لاہورمیں مسجد وزیر خاں اور سنہری مسجد۔مجوزین کہتے ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ مسجد کے اوپر امام کے لئے بالاخانہ جائز ہے،اور مسجد کا احترام جیسا کہ نیچے کے حصہ کا ویسا ہی اوپر کا،جب بالاخانہ بنانے سے احترام میں فرق نہیں آتا تو دکانیں بنانے میں کیا حرج ہے،حالانکہ فائدہ ہے۔نیز مسجد تنگ ہوتو راہ کا کچھ حصہ اس میں ملالینا اور راہ تنگ ہوتو مسجد کا کچھ حصہ راہ میں ملادینا جائز ہے،جب ضرورت کے وقت بلالحاظ احترام ایسا تغیر وتبدل جائز ہے تو دکانیں بنانے میں بھی چونکہ مسجد کے مصلحت کی ضرورت ہے کیوں جائز نہیں ہے اور عدم جواز کی کیا وجہ ہے؟اور آج کل ضلع گوجرانوالا میں ایك مسجد شہید کراکر نیچے دکانیں بنائی گئی ہیں اکثر علماء نے فتوٰی جواز کا دے دیا ہے حتی کہ فیصلہ عدالت حکام میں بطور نظیر رکھا گیا ہے،اور فتوٰی جواز عندالعلماء مسلم ہوچکا ہے۔غیر مقلدین جواز کے قائل ہیں مگر ہمارا اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ کتابوں میں عدم جواز ہی دیکھا ہوا ہے البتہ تذبذب وتشتت ہوگیا ہے۔لہذا خدمت میں گذارش ہے کہ خدا کے واسطے مطابق کتاب وسنت اس مسئلہ کی تحقیق فرماکر جلد مرحمت فرمائیں تاکہ اس جھگڑے سے ہمیں نجات ملے،جواز یا عدم جواز جو حق ہو دلائل قاطعہ سے مدلل فرماکر جلد روازنہ فرمائیں کیونکہ عمارت رکی ہوئی ہے اور دیر ہونے میں حرج ہوتا ہے۔جزاکم اﷲ فی الدنیا والآخرۃ۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دکانیں قطعی حرام اور وہ بالاخانہ بھی قطعی حرام،ہاں وقت بنائے مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کے لئے دکانیں یا اوپر امام کے لئے بالاخانہ بانی بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجدکی دیوار کا صرف اسارااس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کوڈھادیں گے۔درمختار میں ہے:
لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذا فی الواقف
اگر واقف نے مسجد کے اوپر امام کے لئے حجرہ بنادیا تو حرج نہیں کیونکہ وہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایساکرنا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گا،اگر وہ کہے کہ میرا شروع سے ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی۔ (تاتارخانیہ)
فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ولا یجوز اخذالاجرۃ منہ ولان یجعل شیئا منہ مستغلا ولاسکنی بزازیۃ۔[1]
جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو کسی اور کو یہ اختیار کیسے ہوسکتا ہے لہذا ایسی عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ صرف دیوار مسجد پر وہ استوار کی گئی ہو،اس کی اجرت لینا یا مسجد کا کوئی حصہ کرایہ کے لئے یا رہائش کے لئے مقرر کرنا جائز نہیں(بزازیہ) (ت)
وقت ضرورت راہ کا حصہ مسجد میں ملالینے کے یہ معنی نہیں کہ راہ بدستور راہ ہے اور اسے مسجد کرلیا جائے جس سے مخالف احترام لازم آئے بلکہ اس پارہ راہ کو جب مسجد میں شامل کرلیا جائے گا وہ تمام احکام مسجد میں ہوجائے گا اور اسے گزرگاہ بنانا ناجائز ہوگا اور مسجد کو بایں معنی راہ بنانا کہ وہ مسجدیت سے خارج اور اس کا احترام ساقط اور راہ میں شامل ہوجائے ہرگز جائز نہیں۔مسئلہ کہ بعض کتب میں لکھا ہے اس کے معنٰی اور ہیں جس کی تفصیل وتحقیق دیکھنی ہوتو فقیر کا فتاوٰی یا ردالمحتار کا حاشیہ یارسالہ مطبوعہ"قامع الواہیات لجامع الجزئیات"ملاحظہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۴۵: ازراجبپوتانہ ریاست کوٹہ مدرسہ انجمن اسلامیہ یوسف خاں مہتمم شنبہ ۱۸شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں معاملہ کہ یہاں پر قریب تین سوگز کے آبادی مسلمانوں کی ہے اور یہاں کی جامع مسجد میں علاوہ نماز جمعہ کے پنج وقتی نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوتی ہے اس میں مسافر لوگ باہر کے نمازی وغیر نمازی آکر ٹھہراکرتے ہیں اور دن رات وہاں پر رہتے سوتے ہیں،یہ عمل قریب عرصہ تین چار سال سے جاری ہے،اور یہ بات مسلم ہے کہ حالت خواب میں انسان کو اپنے جسم کا خیال نہیں رہ سکتا،ایسے میں اگر احتلام بھی ہوجاتا ہوتو کیا عجب ہے اس کے دفع کے لئے بہت سے کوشش کی مگر ناکامی ہوئی حتی کہ ایسا عمل کرنے میں ان کے دیکھا دیکھی قصبہ کے مسلمانان بھی پورے طور پر عادی ہوگئے ہیں،ایسی حالت دیکھنے پر منع جو کیا گیا تو جواب ملا کہ بڑے بڑے شہروں میں یہ عمل ہوتا ہے اگر منع ہوتا تو وہاں پر لوگ ایسا نہ کرتے ہم نہیں مان سکتے جب تك کہ ہم کو کسی کتاب سے یا حدیث صحیح سے اس کے عدم جواز کے بارہ میں صاف طور آگاہ نہیں کردیا جائے،علاوہ ازیں ایك حافظ صاحب نابینا ٹونگ کے رہنے والے ہیں ان کی تو یہ حالت ہے کہ صبح سے چار بجے تك حالت خواب میں رہتے ہیں،کبھی پیر قبلہ کی اور کبھی اوتر کی جانب رہتے ہیں۔گاہ بگاہ نماز جمعہ تك کے بھی ہاتھ نہیں آتے اور یہ صاحب طلبہ خورد سالہ کو جن کو اپنے پیروں کے ناپاکی سے بچانے کا خیال تك نہیں رہتا،جامع مسجد ہی میں درس دیتے ہیں،اور طلبہ صبح سے لے کر چار بجے تك وہاں پر ہی حاضر رہتے ہیں ان منع کیا گیا کہ آپ سمجھدارہیں یہاں کا سونا اور بچوں کو اس جگہ تعلیم دینا بند کریں کیونکہ ان کے پیرنا پاکی میں آلود رہتے ہیں اور سونا مدرسہ اسلامیہ یا جس صاحب کے مکان پر رہتے ہیں یاجہاں پر علاوہ مسجد کے آپ پسند فرمائیں اختیار کریں جس سے نہایت غصہ میں آکر جواب دہ ہوئے کہ ہم نہیں مان سکتے تمہارا جو جی چاہے کرو،ایسی شکل میں ہمارے واسطے مسجد میں سونا درست ہے یانہیں؟اب قصبہ میں یہ مرض مسلمانوں میں دیکھا دیکھی زیادہ ترقی پر ہے،مسجد میں بخوبی رہتے ہیں،ایسی صورتہائے مذکورہ بالا میں ہمارے مذہب حنفی میں کیاحکم ہے؟اس کا جواب بحوالہ کتب معتبرہ بحوالہ حدیث صحیح کے نہایت شرح سے دیا جائے،فقط۔
الجواب:
صحیح راجح یہ ہے کہ معتکف کے سوا کسی کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں۔درمختار وغیرہ میں ہے:
کرہ النوم فیہ الالمعتکف[2] الخ واستثنی بعضھم الغریب ولاحاجۃ الیہ لانہ یقدر علی ان ینوی الاعتکاف ویذکراﷲ تعالٰی قدرما تیسرثم یفعل ما یشاء[3]۔
مسجد میں غیر معتکف کے لئے سونا جائز نہیں الخ بعض نے مسافر کو اس حکم سے مستثنٰی کیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اعتکاف کی نیت کرکے حسب استطاعت اﷲ تعالٰی کا ذکرکرے اور پھر جو چاہے کرے(ت)
مسجد میں ناسمجھ بچوں کے لے جانے کی ممانعت ہے،حدیث میں ہے:
جنبوامساجدکم صبیانکم ومجانینکم[4]۔
اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو۔ (ت)
خصوصًا اگرپڑھانے والا اجرت لے کر پڑھاتا ہوتو اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ اب کاردنیا ہوگیا اور دنیا کی بات کے لئے مسجد میں جانا حرام ہے نہ کہ طویل کار کے لئے۔وا ﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع