دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۳)جو شخص حافظ امام مسجد ہو اس حق سے مسجد کے درخت اور گملے جو عرصہ دراز سے مسجد کی زیبائش ورونق کے واسطے لگائے ہوئے ہوں اٹھاکر اور اکھاڑ کر اپنے گھر کو لے جائے اور اپنا قبضہ ہر چیز پر جو مسجد میں ہو اس پر ظاہر کرے اس پر کیا حکم ہے؟

(۴)وہ حافظ جو امام مسجد ہو اورمسجد میں جو بمباپانی کا  نمازیوں کے آرام اور خرچ مسجد کے واسطے لگا ہواہو اس کو اکھڑ وادے اور منع کرنے سے نہ مانے اوردوسرے مسلمان کو جو مسجد میں بمبا لگوانا چاہیں ان کو منع کرے اور نہ لگانے دے اور نمازیوں کی تکلیف پیش نظر رکھے اس پر کیا حکم ہے؟

(۵)مسجد میں مٹی کا تیل ٹین کی ڈبیہ میں جلائے جس سے مسجدمیں بدبو اور سیاہی ہو اور چھت سیاہ ہوجائے اس پر کیاحکم ہے؟

(۶)موسم گرما میں نمازی صحن مسجدمیں نماز پڑھنے کو چٹائی بچھانے کی خواہش کریں اور محافظ مسجد چٹائی حجرہ میں بندکردے بچھانے کونہ دے اور نمازی باہم چندہ کرکے بخیال رفع تکلیف وآسائش نمازیوں کے چٹائی منگا کر بچھانا چاہیں تو ان کو نہ بچھانے دے اور کہے کہ جو کوئی اس مسجدمیں چٹائی رکھے گا تو ہم اس چٹائی کو باہر مسجد کے پھینك دیں گے جس کی خوشی ہو اندر مسجد کے یا صحن مسجد میں بحالت موجودہ خواہ گرداہویا کچھ ہو نماز پڑھے یانہ پڑھے اپنی چٹائی نہیں بچھا سکتا ہے،کیا مسجد میں چٹائی بچھا کر مسجد پر نمازی اپنا قبضہ کرناچاہتے ہیں جن کے بزرگوں کی مسجد بنوائی ہوئی ہے ان کی طرف سے ہم مقرر ہیں ہم چاہیں چٹائی مسجدمیں ڈالیں یانہ ڈالیں دوسروں کو ڈالنے کا اختیار ومجاز نہیں ہے،اس پر کیا حکم ہےـ؟

(۷)جو حافظ امام مسجد ہو اور اس طرح کا عمل مذکورہ بالاکرے جس سے نمازیوں کو تکلیف ہو اور جماعت میں خلل پڑے اور ان کی وجہ سے مسجد میں آنا  چھوڑدیں اور وہ شخص مسجد کو اپنا مقبوضہ خیال کرے وہ شخص امام رہنے کے قابل ہے یانہیں؟اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟اور اس کو خطاب کرنا چاہئے؟اور اس پر حد شرع کیا ہے؟فقط۔

الجواب:

(۱)اس صورت میں وہ گنہگار و مستحق عذاب ہے کج خلقی وغیرہ تو بڑی بات ہے سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی مسجد میں ایك بار نماز عشاء کی قرأت طویل کی وہ ایك مقتدی کوناگوار ہوئی،اس کا حال حضور میں عرض کیا گیا اس پر ایسا غضب فرمایا کہ ایسی شان جلال کم دیکھی گئی تھی ا ور معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا:

افتان انت یامعاذ،افتان انت یا معاذ،افتان انت یا معاذ[1]۔

اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو،کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو،کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو۔

(۲)اذان سنت مؤکدہ اور شعار اسلام ہے اور بغیر اس کے جماعت مکروہ،یہاں تك کہ اگر امام مسجد آہستہ اذان کہلوا کرجماعت پڑھ جائے وہ جماعت اولٰی نہ ہوگی،بعد کو جو لوگ آئیں انہیں حکم کہ اعلان کے ساتھ اذان کہیں اور پھر ازسرنوجماعت کریں،اس کا تارك اور لوگوں کو اس سے منع کرنے والا صریح گمراہ وفاسق ہے،یونہی مسجد کی تنظیف کابھی شرع میں حکم ہے۔سنن ابوداؤد میں ہے:

امر النبی صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم ببناء المسجد فی الدور وان تنظف وتطیب[2]۔

نبی اقدس صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے گھروں میں مساجد بنانے اور انہیں پاك وصاف رکھنے کا حکم دیا ہے(ت)

جو نہ خود کرے اور نہ اوروں کو کرنے دے مسجد کا بدخواہ ہے۔

(۳)مسجد میں پیڑ بونا ممنوع ہے اور ان کا اکھاڑ ناجائز مگر اس کے لگائے ہوئے نہیں تو اپنے گھر لے جانے کا کوئی معنی نہیں۔قبضہ اگر مسجد کی اشیاء پر متولیانہ ظاہر کرے تو حرج نہیں جبکہ متولی ہو اور مالکانہ ہو تو حرام۔

(۴)مسجد ہی کے دو معنے ہیں ایك یہ کہ فنائے مسجد یعنی اس کے متعلق زمین اس کا بلاوجہ شرعی زائل کرنا اور نمازیوں کو تکلیف پہنچانا شرعًا ممنوع ہے،دوسرے یہ کہ عین مسجد میں اگر قبل تمام مسجدیت واقف نے لگایا تو باقی رکھا جائے گا اور اس کا ازالہ بھی ممنوع ہے اور اگر بعدتمام مسجدیت بانی نے خواہ اور کسی نے لگایا تو وہ لگانا حرام اور اکھاڑدینا واجب۔

(۵)یہ حرام ہے اور اس کا ازالہ فرض،اور کرنے والا مسجد کا بدخواہ،اور دربارہ الٰہی کے ساتھ گستاخ۔

(۶)اس پر استحقاق لعنت ہے اور وہ خود ہی مسجد پر قبضہ مالکانہ کرنا چاہتا ہے دوسروں پر جھوٹا الزام رکھتا ہے۔

(۷)شنائع مذکورہ کے مرتکب فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی منع،اور پڑھ لی تو پھیرنا واجب،اور مسجد پر سے اس قبضہ ظالمانہ کا اٹھا دینا لازم،اور شرعًا وہ ہر اس تعزیر کا مستحق ہے جو سلطان اسلام تجویز فرماتا ہو، واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۲۴۲:                             مسئولہ سیٹھ آدم جی بردردولت اعلٰیحضرت                  یکم شعبان ۱۳۳۴ھ

(۱)مسجد میں چراغ تمام شب جلانا چاہئے یا یا جہاں تك نمازیوں کی آمد ورفت ہو وہاں تک؟

(۲)محراب مسجد کو یادیوار قبلہ نقش ونگار اور سونے کا پانی چڑھانا اور رنگ دینا مکروہ ہے یانہیں؟فقط۔

الجواب:

(۱)وہاں کے عرف معہود پر عمل کیا جائے جہاں شب بھر روشن رہتا ہے جیسے مساجد طیبہ،مدینہ و مکہ معظمہ وبیت المقدس وہاں شب بھر روشن رکھنا چاہئے ورنہ نصف شب کے قریب تک۔

(۲)مکروہ ہے کہ باعث شغل قلب نمازیان ہے مگر واقف نے کیا ہو تو ویسا ہی کیا جائے گا اور اس میں نیت تعظیم مسجد ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۲۴۴:            از وزیر آباد ضلع گوجرانوالا مسجد شیخ لعل نور عالم امام مسجد                              یکشنبہ ۱۶شعبان ۱۳۳۴ھ

بخدمت حامی سنت،قامع بدعت،عالم اہلسنت وجماعت،مرجع علمائے وفضلاء جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب سلمہ اللہ تعالٰی  ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالٰی  وبرکاتہ۔

ہماری مسجد بسبب کہنہ ہونے کے شہید کراکر ازسر نو تعمیر کرائی جارہی ہے،بعض اصحاب کا خیال ہے کہ نیچے دکانیں اور اوپر مسجد تعمیر ہو،تاکہ دکانوں کا کرایہ مسجد کے مصالح ومصارف پر وقتًا فوقتًا خر چ ہوتا رہے،اور بعض اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسجد کا احاطہ تحت الثرٰی سے عرش معلی تك قابل احترام ہے دکانیں بنانے میں احترام نہیں رہتا کیونکہ مسجد کا گرداگردا بھی قابل احترام ہے۔ہاں اگر ابتداء بناء میں دکانیں بنائی جاتیں تو جائز



     [1] صحیح البخاری کتاب الادب  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۹۰۲،صحیح مسلم  کتاب الصلوٰۃ،باب القراۃ  فی العشاء  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،سنن نسائی  کتاب الامامۃ  نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۳۳،سنن ابو داؤد  کتاب الصلوٰۃ باب تخفیف الصلوٰۃ  آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۱۵

     [2] سنن ابو داؤد  کتاب الصلوٰۃ باب اتخاذ المساجد فی الدور آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن