30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یجب الاداء بلا طلب لوالشھادۃ فی حقوق اﷲ تعالٰی ومتی اخر شاہد الحسبۃ شہادتہ بلا عذر فسق فترد[1]۔
بغیر طلب اداء شہادت واجب ہے اگر وہ شہادت
حقوق اللہ سے متعلق ہو اور شاہد حسبہ نے بلاعذر شہادت میں تاخیر کی تو وہ فاسق ہوگا اور اس کی گواہی مردود ہوگی (حسبہ وہ ہے جس سے ثواب آخرت کی توقع ہو)۔(ت)
غرض ان کے کہنے پر کچھ نظر نہ کی جائے،مسجد بنائی جائے اوراگر قبریں نکلیں تو وہ ضرور مسجد ہے اور اس میں نماز جائز اور اس کی حفاظت واجب۔قبر جو نکلی ہے اوراس پر نمازنہ پڑھیں،نہ اس کی طرف پڑھیں،اس کے برابر آگے داہنے بائیں پڑھنے میں حرج نہیں بلکہ اگرقبر کسی مقبول بندے کی ہے تو اس کی قربت سے نماز میں اور برکت آئے گی،
کما فی اللمعات ومجمع البحاروکثیر من الاسفار وقد بیناہ فی فتاوٰنا۔
جیسا کہ لمعات،مجمع البحار اور متعدد کتب جلیلہ میں ہے اور تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کو تفصیلًا بیان کردیا ہے۔ (ت)
قبر کے شرقی جانب آدھ گز بلند ایك اینٹ کا سترہ قائم رکھیں پھر اس طرف بھی نماز جائز ہوجائیگی،اور اگر ان لوگوں کا اس مسجد کی نسبت بیان صحیح نکلے کہ جابجا قبور برآمد ہون تو وہ بیشك مسجد نہیں۔
فان الوقف لایوقف اخری ولایحل اتخاذ القبور مساجد ولاتباح الصلٰوۃ علیھا۔
وقف کو دوبارہ وقف نہیں کیا جاسکتا اورقبور کو مسجدیں بنانا حلال نہیں اور نہ ہی قبور پر نماز پڑھنا مباح ہے(ت)
اس صورت میں دوسری جگہ مسجد بنانی لازم،اور راجہ اگر مالگزاری نہ چھوڑے تو اس سے مسجد میں کچھ خلل نہ آئے گا فان غایتہ الظلم والظلم لایبطل الحق(کیونکہ نتیجۃً یہ ظلم ہے اور ظلم حق کو باطل نہیں کرتا۔ت)اورپچھلی صورت میں پہلی عمارت کہ حقیقۃ مسجد نہیں ضرور منہدم کردی جائے کہ بوجہ قبور اس میں نماز جائز نہیں اور صورت مسجد باقی رہے گی تو نا واقف کو دھوکا دے گی وہ اس میں نماز پڑھے گا نماز بھی خراب ہوگی اور قبور پر چڑھنے سے ان کی بھی بے حرمتی ہوگی۔یہ دو سوالوں کا جواب ہوا۔تیسرے کی بنا اس پر ہے کہ وہ کل موضع قبرستان پر آباد مان لیا جائے اور ہم اوپر ثابت کرچکے کہ یہ خبر مدفوع ونامسموع ہے۔اگرتسلیم کی جائے تو نہ صرف نماز وہاں چلنا پھرنا،رہنا،بسنا،پاخانہ،پیشاب سب حرام ہوجائے گاکما بیناہ فی الامر باحترام المقابر(جیسا کہ ہم رسالہ"الامر باحترام المقابر"میں بیان کرچکے ہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۶: ازڈھاکہ محلہ مولوی بازار کوٹھی نمبر۱۱مسئولہ برکات احمد سوداگر ۱/ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندر اس مسئلہ کے،مسجد پختہ چندہ جمع کرکے بنانا کیسا ہے اور چندہ دینے والوں کو اس کا اجر کیا ملے گا؟والسلام سنت اسلام۔
الجواب:
صحیح حدیث میں نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:
من بنی ﷲمسجدا زاد فی روایۃ ولو کمفحص قطاۃ بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ [2] زادفی روایۃ من در ویاقوت[3]۔
جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے مسجد بنائے اگرچہ ایك چھوٹی سی چڑیا کے گھونسلے کے برابر،اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنت میں موتی اور یا قوت کا محل تیار فرمائے گا۔
اور اس میں ہر وہ شخص جو کسی قدر چندہ سے شریك ہوا،داخل ہے۔ساری مسجد بنانے پر یہ ثواب موقوف نہیں۔مدینہ طیبہ میں خود حضوراقدس صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بنائی،پھر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس میں زیادت فرمائی،پھر امیر المومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب اس کی تعمیر میں افزائش فرمائی،ا س پر یہی حدیث روایت کی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۷: روز شنبہ ۱۰ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان خس پوش پیش مسجد وملکیت مسجد واقع ہے اس کو توڑ کر اراضی مسجد میں شامل کرلیا جائے اور امورات نیك مثل نماز جنازہ وغیرہ کے واسطے محدود کردیا جائے،دوسرے ہر شخص کو وقت آمدورفت مسجد کواڑ دروازہ مسجد بھیڑ کر آنا جانا چاہئے یا نہیں؟پس صورت مسئولہ میں حکم شرع شریف کا کیا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
جائز ہے اگر خلاف شرط واقف نہ ہو،مسجد کے کواڑ کبھی نہ بھیڑے جائیں گے بعد فراغت نمازعشاء جبکہ کسی کے آنے کی امید نہ رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۸: مسئولہ عبدالرب مرامجہلیا احاطہ امریا ضلع پیلی بھیت ۶ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
گرد مسجد کس قدر زمین جنت ہے پیمائش مہرے گرتین فٹ والے کی لکھی جائے،فقط۔
الجواب:
مسجد کی نسبت ایك حدیث روایت کی جاتی ہے روز قیامت تمام مساجد کی زمین جمع کرکے داخل جنت کی جائے گی،
تذھب الارضون کلھا یوم القٰیمۃ الاالمساجد فانھا ینضم بعضھا الی بعض[4] قال الشراح ای فتصیر بقعۃ فی الجنۃ[5]۔
قیامت کے دن تمام زمینیں ختم ہوجائینگی سوائے مساجد کی زمینوں کے کہ ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملادیا جائے گا یعنی اکٹھا کردیاجائے گا۔شارحین حدیث نے فرمایا کہ وہ جنت کا حصہ بنادی جائیں گی۔(ت)
اور یہ تو صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ:
اذامررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قیل وما ریاض الجنۃ یارسول اﷲقال المساجد قیل وما الرتع قال سبحٰن اﷲ والحمد ﷲ ولاالٰہ الااﷲ واﷲ اکبر[6]۔رواہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲعنہ۔
[2] مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند عبداﷲبن عباس رضی اﷲ عنہما دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۱،سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب من بنی ﷲ مسجدا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۴
[3] المعجم الاوسط حدیث ۵۰۵۵ مکتبۃ المعارف الریاض ۶/ ۲۷
[4] المعجم الاوسط حدیث ۴۰۲۱ مکتبۃ المعارف الریاض ۵/ ۱۸
[5] التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت مذکورہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱/ ۴۴۶
[6] جامع الترمذی ابواب الدعوات$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع