30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵)اس کا کیا ثبوت ہے کہ ٹونڈے شاہ نے وہ مسجد خاص اپنے لئے بنائی اور کسی کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی؟
ان باتوں کا مفصل جواب اسی ورق کی پشت پر مع نقشہ لکھ کر یہ ورق واپس کیجئے تو جواب دیا جائے ان شاء اﷲ تعالٰی ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰:مسئولہ یعقو ب علی نقشبندی قادری مقام کٹہری ضلع گوڑگاؤں ڈاکخانہ دھنیہ اسٹیشن مالوسانہ ۴ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں یعنی مسجدمیں تیل خرچ سے زائد قریب تیس آثار کے جو عرصہ سے جمع ہے اس تیل کو فروخت کرکے قیمت اس کی اخراجات مسجدمیں لائی جائے یا یہ کہ اس کو محتاجوں میں تقسیم کیا جائے؟
الجواب:اگر مسجد کے لئے روزانہ تیل دوسری جگہ سے آتا ہے مسجد کو خریدنا نہیں ہوتا جس کے باعث یہ تیل مسجد میں کام آنے کی امید نہیں یا اس کی حفاظت میں وقت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو اسے متولی واکثر متدین اہل محلہ امانت یا دیانت واعلان کے ساتھ بیچ کر اخراجات مسجد میں صر ف کردیں،محتاجوں میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۱۱تا۲۱۲: بروز سہ شنبہ ۸محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ:
اولا: ایك مسجد کے ایك پہلو میں فرش صحن کے نیچے دکانات کے آثار تھے،مگر ان کی چھت کی بلندی صحن مسجد کی عام سطح سے کہیں ممتاز نہیں تھی یعنی دکانات کی چھت اور مسجد کا بقیہ صحن سب ایك سطح مستوی تھی اور یہ کل رقبہ ایك فصیل سے محاط تھا،اس فصیل کے اندر اندر کل اراضی مسجد اور مصلی تھی اب وہ دکانات دوبارہ تعمیر ہوئیں،فصل گرادی گئی،صحن مسجد کا وہ جز جو دکانات کی چھت بنا ہوا تھا دکانات میں ڈال دیا گیا،اور وہ اتنی اونچی پائی گئیں کہ بقیہ صحن سے ایك قد آدم سے زیادہ بلند ہیں۔اس چھت کے پرنالے مکانات کے پچھیت پر یعنی صحن مسجد میں اتارے گئے اورصحن مسجد کے کنارے پر پچھیت کی جڑ میں ایك عرض محدود کردیا گیا جس پر وہ پرنالے گرتے ہیں اور اس نالے میں بھی لوگ وضو کرنے لگے،اس چھت سے ملحق ایك بالاخانہ اور چھت کل کو ایك مکان کی حیثیت سے کرایہ پر اٹھادیا گیا تاکہ مسجد کی آمدنی میں اضافہ ہو،سوال یہ ہے کہ اب یہ چھت مسجد کے حکم میں ہے یا خارج از مسجد؟ اور اس پر ایسے تصرفات جائز ہیں یانہیں جو مسجد پر ناجائز ہوتے ہیں،مثلًا بود وباش رکھنا نجاست ڈالنا وغیرہ اور مذکورہ بالا پر نالے اور نالی قابل قائم رکھنے کے ہیں یانہیں؟
ثانیًا: ایك مسجد کےصحن کا ایك جز مصلی کاٹ کر موڑ پر سے محدود کردیا گیا بدیں غرض کہ نمازی اس جگہ جو تا اتاراکریں،یہ تصرف اور اس جگہ جوتے اتارنا جائز ہیں یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
وہ چھت مسجد ہے اسے مسجد سے توڑ کر دکان میں ڈال دینا ایك حرام اور اسے بالاخانہ حجرہ کا صحن وگزر گاہ کردینا دوسرا حرام،اور اسے کرایہ پر اٹھا دینا تیسرا حرام،اور اس کی آبچك کے لئے مسجد کا ایك اور حصہ توڑلیا محدود کردینا اور اس میں وضو ہونا چوتھا حرام۔غرض یہ افعال حرام در حرام حرام درحرام ہیں۔فرض ہے کہ ان تمام تصرفات باطلہ کو رد کرکے مسجد مثل سابق کردیں۔
درمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتاللامام لایضر لانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادہ البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف لغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ولایجوز اخذالاجرۃ منہ ولاان یجعل شیئامنہ مستغلا ولاسکنی بزازیۃ [1]۔
اگر واقف نے مسجد کی چھت پرا مام کاحجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے مگر تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو اسے منع کیا جائیگا اگرچہ وہ کہے کہ میں نے شروع سے اس کی نیت کی تھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی،تاتارخانیہ،تو جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو غیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے چنانچہ اس عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ وہ دیوار مسجد پر بنائی گئی ہو اور اس کی اجرت لینا یا اس میں سے کسی حصہ کو ذریعہ آمدن یا رہائش گاہ بناناجائز نہیں،بزازیہ(ت)
اسی طرح دوسرے سوال میں جو تصرف کیا گیا اور مسجد کے ایك حصہ کو مسجد سے خارج کردیا گیا اور اسے جوتا اتارنے کی جگہ بنایایہ بھی تصرف باطل ومردود وحرام ہے،اوقاف میں تبدیل وتغیر کی اجازت نہیں لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ[2] (وقت کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ت)مسجد کے بجمیع جہات حقوق العباد سے منقطع ہے قال اﷲ تعالٰی " وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ "[3] (اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ بیشك مسجدیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہیں۔ت)یہاں بھی وہی حکم ہے کہ فورًا فورًا اس ظلم کی منڈیر کو دور کرکے زمین مسجد شامل مسجد کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: مرسلہ سعید الرحمٰن ناظم اتحاد ومنتظم کمیٹی جامع مسجد پیلی بھیت ۸محرم الحرام ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ
کیاحکم ہے شریعت غراکامسائل مندرجہ ذیل میں،جواب شافی سے مطمئن ومعز ز فرمایا جائے:
(۱)مسجد میں اپنے لئے سوال کرنا،کسی معذور،بیوہ یا کسی مسجد یا خاص اسی مسجد کی ضروریات کےلئے کسی قومی یا مذہبی ضرورت کےلئے چندہ وخیرات مسجد میں مانگنا جائز ہے یانہیں؟
(۲) جو مکان و زمین وغیرہ کہ وقف ہے یعنی کسی مسجد ومدرسہ کی ضروریات کےلئے وقف کی گئی ہے مرور ایام یا کسی اور وجہ سے ا س میں ایساتغیر واقع ہوگیا ہے کہ اس کو رکھنے میں فی الجملہ نقصان ہے اس کو اس نیت سے کہ آئندہ اور نقصان ہوگا فروخت کرکے اس کی قیمت اس مسجد ومدرسہ میں داخل کرنا یا بجائے اس کے اس سے زیادہ نفع کی کوئی چیز اس مسجد و مدرسہ کےلئے خریدنا درست ہے یا نہیں؟نیز مستعمل وبیکار چیزیں نیلام کرنا یا فروخت کرنا کیسا ہے؟
(۳)مقامی حالت کا اندازہ کرکے کسی مسجد وغیرہ کے انتظام ونگہداشت کےلئے چند مسلمانوں کو منتخب کرکے دوسرے لوگوں کو جو اس انتظام کےلئے مخصوص نہیں کئے گئے ہیں روکنا کہ وہ بطور خود مسجد میں دست اندازی نہ کریں جس سے مقررہ انتظام میں ابتری وبرہمی پیدا ہونے کا خیال ہے یابغیر امتیاز کے ہر شخص کو وعظ کہنے کی اجازت دینا درست ہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے یہاں تك کہ امام اسمٰعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایك پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالٰی کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں،اور کسی دوسرے کےلئے مانگایا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع