دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

چوری ہونے کاخوف ہے کہ مبادا مسجد کے روپے ضائع ہوجائیں تو ان روپوں کا مکان خرید کرکے اس کے کرایہ سے نفع اٹھایا جائے اور وقت ضرورت روپیہ وہ مکان فروخت کیا جائے،مگر ان میں جماعت والوں کا اختلاف ہے،بعض کہتے ہیں کہ یہ صورت نہ کرنی چاہئے اوربعض کہتے ہیں کہ اس طور کیاجائے تو ان کا حکم کیا ہے،وہ برائے مہربانی مفصل طور سے ارقام فرماکر عنداللہ  ماجور وعندالناس مشکور ہوں۔

الجواب:

چندہ کے روپے چندہ دینے والوں کی ملك پر رہتے ہیں ان سے اجازت لی جائے،جو جائز بات وہ بتائیں اس پر عمل کیا جائے، وبیان المسئلۃ وتحقیقھا فی کتاب الوقف من فتاوٰنا(اس مسئلے کا بیان اور تحقیق ہمارے فتاوٰی کی کتاب الوقف میں ہے۔ت)ایسی کمپنی میں کہ سود کا لین دین کرتی ہو شامل کرکے بڑھانا حرام ہے اگرچہ چندہ دہندہ اجازت دیں،فلیس لاحد ان یحل ماحرم اﷲ(کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس چیز کو حلال قرار دے جسے اﷲ تعالٰی  نے حرام فرمایا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۲۰۵ تا۲۰۶:              مرسلہ محمد صابر مدرس مدرسہ دارالعلوم قصبہ مئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ۱۸صفر ۱۳۳۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ کئی سو برس سے آباد ہے وہاں کے مسلمانوں کی مردم شماری فی الحال تقریبًا آٹھ ہزار ہے اور وہاں مسجدیں تخمینًا اسی کے قریب آباد ہیں،ان کے علاوہ اور بھی مساجد ہیں،وہاں کے کل مسلمان بجز چند شیعہ کے ابتدا سے حنفی المذہب متفق الخیال متحد العقائد والمسائل باہم شیر وشکر کی طرح ملے جلے رہتے تھے ان میں کسی قسم کا مذہبی جنگ وجدال وتخالف نہ تھا مگر تقریبًا تیس بتیس برس سے چند لوگ(غالبًا فی الحال ان کی تعداد دوڈھائی سو ہوگی)منکر مذہب،غیر مقلد ہوگئے اور باہم سخت منافرت ومخالفت پیدا ہوگئی حتی کہ بارہا فوجداری اور عدالت کی نوبت پہنچ گئی،غیر مقلدین نے اپنی عید گاہ اور جامع مسجد نئی بنوالی تھیں مگر بعض بعض ایسی ہی مسجدیں ہیں جن میں دونوں فریق نماز پڑھتے ہیں ایسی مسجدوں پر اکثر مذہبی جھگڑے ہوجایا کرتے ہیں چنانچہ ان دنوں موجودہ ۱۳۳۳ھ ۱۳ محرم کو ایك مسجد میں دونوں فریق جمع ہوگئے اور اسی میں مارپیٹ لٹھم لٹھا گھوسم گھوسا کر بیٹھے بلکہ ان کے ذریعہ سے دو فوجداریاں اور بھی ہوگئیں جس سے قصبہ میں ہلچل مچ گئی،پولیس اگر روك تھام نہ کرتی تو نہیں معلوم کیا ہوجاتا آئے دن کی مذہبی فوجداری سے دونوں فریق تنگ آگئے، اب فریقین اس امر پرراضی ہیں کہ باہم صلح کرکے جھگڑے کومٹادیں،چنانچہ برضامندی فریقین چند اشخاص حکم مقرر کئے گئے ہیں اور باتفاق فریقین اقرار نامہ ثالثی میں مضمون لکھا گیا ہے کہ ثالثان حسب شریعت وقانون ودیانتداری جو فیصلہ کردیں گے ہم فریقین کو منظو رہے،اب علمائے حقانی سے یہ استفسار ہے:

(۱)چونکہ تیسوں برس کے تجربہ ومشاہدہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس قصبہ میں جب دونوں فریق ایك نزاعی مسجدمیں جمع ہوجاتے ہیں تو اکثر مذہبی شرو فساد کر بیٹھتے ہیں اگر اس شرو فساد وفتنہ و پرخاش کے مٹانے کے لئے ثالثین دونوں کو الگ کردیں اور فریقین کے لئے خاص خاص مسجدیں نامزد کریں تو کیا یہ فیصلہ خلاف شریعت ہوگا؟

(۲)اگر کسی نمازی کے ذریعہ سے حفظ امن میں خلل واقع ہوتا ہو اور شروفساد کااندیشہ ہو یا عام نمازیوں کو کسی قسم کی تکلیف اوراذیت پہنچتی ہوتو ایسے شخص کو بغرض حفظ امن وانسداد شر وفساد جماعت سے روك دینا کیا شرع کے خلاف ہے؟بینوا توجروا۔

الجواب:

(۱)جو مساجد غیر مقلدوں کی بنائی ہوئی ہیں ان کے نامزد کردی جائیں مگر جو مساجد اہل سنت کی بنائی ہوئی ہیں ان میں سے کوئی مسجد غیر مقلدوں کے لئے خاص کردینا اور اہلسنت کوان سے ممنوع کرنا شرعًا محض ظلم و حرام ہے۔

قال اﷲ تعالٰی " وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ "[1]۔

اﷲ تعالٰی  نے فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالٰی  کی مساجد میں اس کا نام لینے سے روکے۔(ت)

جبکہ وہ مسجدیں اہلسنت کی ہیں اور ان کی بنائی ہوئی ہیں تو ان پر قبضہ چاہنا اور اس کے لئے فتنہ اٹھانا غیر مقلدوں کا فساد ہوگا اور کوئی مجبور نہیں ہوسکتا کہ دوسرے کے شورش بے جا کے سبب اپنے حق سے دست بردار ہو فتنہ غیر مقلدوں کا انسداد اگر یوں نہ ہوسکتا ہو تو کچہریاں کھلی ہوئی ہیں اور وہ اسی واسطے رکھی گئی ہیں کہ فتنہ والوں کا دست تعدی کوتاہ کریں اور دوسروں کے حقوق پر  دست درازی نہ کرنے دیں جوشخص یہ رائے یا فتوٰی دے کہ دفع فتنہ کے لئے اپنی مسجد چھوڑ دو۔کل اگر غیر مقلدین اور مفسدین ان کی جائداد اموال متاع مکانوں  پر قبضہ چاہیں،اور نہ دیجئے توفساد اٹھائیں کیا دفع فتنہ کو وہ لوگ اپنے گھر بار مال متاع اسباب جائداد سے دستبردار  ہوجائیں گے ہر گز نہیں،تو وجہ کیا ہے کہ یہ آنکھوں میں دنیا کی قد رہے دل میں دنیاکی محبت ہے جگر میں دنیا کا درد ہے وہاں دفع فتنہ کو یہ تدبیر نہ سوجھے گی نہ آیات دفع فساد کے یہ معنی ذہن میں آئیں گے اور نہ دین کی قدر نہ محبت نہ درر،لہذا گھاس کی طرح کتردیں گے کہ میاں ہاں اپنی مسجدیں چھوڑدو اپنے دینی حقوق سے دست بردار ہوجاؤ کسی طرح جھگڑا تو مٹے حالانکہ اوروں کے فتنہ فساد پر اگر اپنی جائداد مکانات،مال،اسباب چھوڑدو تو صرف دنیوی نقصان ہے اور یہاں علاوہ اپنی دینی حق تلفی کے اس آیہ  کریمہ کی وعیدشدید میں داخل ہونا اور حرام کا ارتکاب اور بحکم قرآن عظیم استحقاق رسوائی وخواری وعذاب ہے۔

قال اﷲ تعالٰی "لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴) "[2]والعیاذ باﷲ۔

ا ﷲتعالٰی  نے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑاعذاب ہے۔اﷲ تعالٰی  کی پناہ۔(ت)

(۲)ہاں شرعًا حکم ہے کہ ایسے لوگ مسجد سے باز رکھے جائیں،

قال اﷲ تعالٰی " اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ     "[3]۔

اﷲ تعالٰی  نے فرمایا کہ انہیں مساجد میں داخل نہیں ہونا چاہئے مگر ڈرتے ہوئے۔(ت)

درمختار میں ہے:

یمنع منہ کل مؤذولو بلسانہ[4]۔

 



[1]      القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[2]     القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[3]     القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[4]     درمختار  کتاب الصلوٰۃ  باب مایفسد الصلوٰۃ  مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۹۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن