30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المرتد اذاقتل او مات او لحق بدار الحرب فما اکتسبہ فی حال اسلامہ ھو میراث لورثۃ المسلمین اما ما اکتسبہ فی حالۃ الردۃ یکون
مرتد جب قتل ہوجائے یا مرجائے یا دارالحرب سے ملحق ہوجائے تو جو کچھ اس نے حالت اسلام میں کمایا تھا وہ اس کے مسلمان وارثوں کو بطور میراث ملے گا اور جو کچھ بحالت ارتداد کما یا وہ مال غنیمت ہے
فیئایوضع فی بیت المال[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ جو بیت المال میں رکھا جائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۴تا۱۹۵: از علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد سودا گر پارچہ بنارسی ۴ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
(۱)ایك مسجد ہے جو زمین سے ۳ گز اونچی ہے اور اونچائی ٹھوس ہے اور صحن مسجد کا کل چوڑائی میں ۱۳ فٹ ہے جس میں ۵فٹ چوڑائی میں زینہ اور جوتیوں کی جگہ سقاوا اور غسل خانہ ہے اور ۸ فٹ جگہ میں نماز ہوتی ہے،اس مسجد میں کنواں نہیں ہے،سقہ سقا وے میں پانی باجرت ڈالتا ہے،اور نہ کوئی آمدنی مسجد کی ہے جو تیل وغیرہ میں صرف ہو،اس مسجد سے ۷۴ قدم کے فاصلہ پر ایك اور مسجد ہے اس کے دس قدم پر ایك کنواں ہے گویا اس مسجد سے ۸۴ قدم پر ہوا۔زیدکہتا ہے کہ صحن مسجد جوٹھوس ہے اس کو شہید کافی کرکے اس میں دو دکانیں نکالی جائیں اس کی چھت صحن مسجد ہوجائے گا،اور وہ تیل بتی کو اس کی آمدنی کافی ہوگی۔عمرو کہتا ہے کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ صحن مسجد تحت الثرٰی تك حکم مسجد رکھتا ہے،اگر دکانیں سابق سے بنائی جاتیں تو درست تھیں،عمرو کی رائے ہے کہ ۵فٹ جگہ جس میں زینہ وغیرہ ہے اس میں کنواں وزینہ وغیرہ بن سکتا ہے اور ایك چھوٹی دکان بھی نکل آئے گی اور صحن بھی برقرار رہے گا اس میں مردہ کو زیادہ ثواب ہوگا کیونکہ نمازیوں کو پانی کی تکلیف جاتی رہے گی۔کیا حکم شریعت ہے اور کیا کرنا چاہئے؟
(۲)کنوا ں بننے کی حالت میں زمین سے ۴گز اونچا ہوکر مسجد میں ملے گا،زید کہتا ہے کہ زمین پر بھی ایك کھڑکی رکھی جائے جس سے عوام پانی بھریں اور مسجد کو اوپر سے پانی ملے۔عمرو کہتا ہے کہ اوپر ہی رکھنا چاہئے کیونکہ نیچے کھڑکی رکھنے سے ہندو بھی پانی بھریں گے شاید ہندو کا پانی بھرناناجائز ہو۔شریعت کا کیاحکم ہے اور کس میں زیادہ ثواب ہے؟
الجواب:
دکانیں بنانے کی اجازت نہیں ہے،اگر پہلے سے ہوتیں حرج نہ تھا اب نہیں بن سکتیں،
کما نص علیہ فی النوازل والتجنیس والخانیۃ و المحیط السرخسی وتھذیب الواقعات والاسعاف و البحر والنھر والھندیۃ وغیرھا۔
جیسا کہ اس پر نوازل،تجنیس،خانیہ،محیط سرخسی تہذیب الواقعات،اسعاف،بحر،نہر اورہندیہ وغیرمیں نص فرمائی گئی(ت)
۸۴قدم کا فاصلہ کچھ ایسا دور نہیں،اگر بغیر کنویں کے کارروائی چل سکے یونہی چلنے دیں اوراگر نہ چل سکے اور اس کی وجہ سے ویرانی مسجد کا احتمال قوی ہوتو اس پانچ فٹ میں ایك کنارہ کو کنواں بنالیں۔
(۲)نیچے کھڑکی نہ رکھیں کہ مسجد کے کنویں میں ہندو کی شرکت سخت معیوب ہے ان کی نجاست سے کنویں کی طہارت ہمیشہ معرض خطر شدید میں رہے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۹۶: ازشیر پورڈاکخانہ خاص تحصیل پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ ظہیرالدین ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك چھوٹے موضع میں ایك مسجد قدامت سے تھی اور عرصہ دس بارہ سال سے ایك دوسری مسجد اورتیار ہوگئی اور اب دونوں مسجدیں چھپرپوش اور بوسیدہ حالت میں ہیں اب مسلمانوں کی یہ رائے ہے کہ بجائے دومسجدوں کے ایك مسجد پختہ چندہ سے تعمیر کرائی جائے اور ایك مدرسہ کے واسطے دے دی جائے۔اس کی بابت شرع کیا حکم دیتی ہے؟ اور سرمایہ بہت قلیل ہے جس سے دونوں مسجدیں تیار نہیں ہوسکتی ہیں،لہذا آپ بموجب شرع احکام صادر فرمائے۔
الجواب:
مسجدوں کا پختہ کرنا فرض نہیں،اور ان کا آباد رکھنا فرض ہے،مسجد نہ مدرسہ کو دی جاسکتی ہے نہ دوسرے کام میں صرف ہوسکتی ہے،یہ سب ناجائز وحرام ہے۔ عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۷: ۲۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ:
علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسجد کافرش اور لکڑیاں جو خراب ہوجاتی ہیں سوامسجد کے اور کسی کام میں تصرف کرنا شرعًا جائز ہے یانہیں؟ آخر کیا کرنا چاہئے؟ تحریر فرما کر مشرف فرمائیں۔فقط
الجواب:
فرش جو خراب ہوجائے کہ مسجد کے کام کا نہ رہے جس نے وہ فرش مسجد کو دیا تھا وہ اس کا مالك ہوجائے گا جو چاہے کرے اور اگر مسجد ہی کے مال سے تھا تو متولی بیچ کر مسجد کے جس کام میں چاہے لگادے اور مسجد کی لکڑیاں یعنی چوکھٹ،کواڑ،کڑی،تختہ،یہ بیچ کر خاص عمارت مسجد کے کام میں صرف ہو۔لوٹے،رسی چراغ، بتی،فرش چٹائی کے کام میں نہیں لگاسکتے،پھر ان چیزوں کی بیع کافر کے ہاتھ نہ ہو بلکہ مسلمان کے ہاتھ۔اور مسلمان ان کو بے ادبی کی جگہ استعمال نہ کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۹۸ تا ۲۰۱: مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب از بانٹوہ کاٹھیاوار ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ:
(۱)ایك شخص مرگیا اور اپنی عورت اور ایك لڑکی اور باقی وارث چھوڑے اور اس متوفی کی عورت نے وارثوں کے حق کو تلف کرکے ایك مسجد تعمیر کرائی اور جس زمین پر اس نے مسجد تعمیر کرائی ہے وہ زمین نیز وراثت میں داخل ہے تو اس میں نماز پڑھنا اور اس کو مسجد کہنا شرعًادرست ہے یانہ؟
(۲)اور اگر اب بعضے وارث انہیں میں سے اپنے حق کو معاف کردیں اور بعضے نہ کریں تو نماز پڑھنا اس مسجد میں درست ہوجائے گا یانہ؟
(۳)اور اگر وہ وارث جانتے ہیں کہ اب جو پیسہ تھا وہ مسجد میں خرچ ہوگیا اب ہمیں ملنے والا نہیں ہے اور لوگوں کی شرم سے معاف کردیں تو درست ہے؟
(۴)اور اگر شرع حکم دے کہ نماز اس میں درست نہیں ہے تو اس میں رہنا گھر بناکر یا کرایہ وغیرہ پر دینا درست ہوگا ؟ بحوالہ کتب معتبرہ جواب سے سرفراز کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع