30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جو منہ پھیرے تو اﷲ تعالٰی ہی بے نیاز اور ستو دہ صفات ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۷تا۱۸۹: مسئولہ قاضی سید احمد علی مدنی مہتمم مدرسہ اسلامیہ از بمبئی بھنڈی بازار ۲ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسی صورت میں کہ ایك درگا ہ شریف کے قریب ایك مسجد واقع ہے،مسجد کے متولی صاحب نے درگاہ شریف کی زمین جبرًادبالی،اس کو شامل مسجد کرنا چاہتے ہیں،متولی درگاہ نے روکا کہ شرع شریف میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے،مگر نہیں مانتے،سوایسا کرنا جائز ہے؟
(۲)کیاایسی جبرًا مغصوبہ زمین پر مسجد بنانا درست ہے اور کیا اس میں نماز درست ہوگی حالانکہ متولی صاحب درگاہ برابر معترض ہوا کئے ہیں۔
(۳)کیا ایسے متولی مسجد جو خلاف شرع زمین غصب کرکے اس پر مسجد بنادے تو وہ عندالشرع قابل تدارك و گنہگار ہیں یانہیں؟جواب صحیح ازروئے کتب فقہ صاف بخشا جائے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
سوال بہت مجمل ہے کچھ نہ لکھا کہ متولی اس زمین کو مسجدمیں کس وجہ سے شامل کرنا چاہتے ہیں،آیا مسجد نمازیوں پر تنگ ہوئی ہے یہ ضرورت لاحق ہوئی ہے یا کچھ اور۔نہ یہ لکھا کہ وہ زمین درگاہ پر وقف ہے یانہیں،اورہے تو کس طرح وقف ہے جسے وقف صحیح شرعی کہا جاسکے گا یانہیں،نہ یہ لکھا کہ اس زمین کے شامل مسجد کرلینے سے درگاہ میں کیا نقصان ہوگا،اگر مسجد نے تنگی نہ کی تو متولیوں کو اس زمین کے لینے کا کوئی اختیار نہیں وہ غاصب ہوں گے اور اتنے پارہ زمین پر نمازناجائز ہوگی،اور اگر مسجد تنگ ہوگئی ہے اور اس کے اپنے متعلقات کی زمینوں سے بڑھانے کی گنجائش نہیں،تو اگر وہ زمین درگاہ وقف صحیح شرعی نہیں یا اسکے لینے سے درگاہ کو ضرر نہیں پہنچتا تو بقیمت لے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۹۰تا۱۹۳: مسئولہ مولوی صابر علی صاحب از مدرسہ رفاہ المسلمین فرنگی محل لکھنؤ ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں،ایك مسجد قدیم کسی شیعہ کی تھی مگر کچھ عرصے سے ویران پڑی تھی،اسی حالت ویرانی میں چند قدم کے فاصلے پر ایك سنی نے دوسری مسجد بنوائی اور اس نئی سنی کی مسجد میں مسلمان سنی نماز پنج وقتہ پڑھنے لگے اس کے پانچ چھ برس کے بعد پرانی شیعہ کی مسجد کو ایك شخص نے ایك سنی کے ہاتھ فروخت کر ڈالا تو اس سنی نے اس کی مرمت وغیرہ کراکے پنج وقتہ اذان وجماعت کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردئے۔اس کو بھی پانچ چھ برس کا عرصہ گزرگیا اب اس سنی مشتری مذکور نے اپنا ایك مکان مسجد کے مدرسہ اسلامیہ کے لئے وقف کردیا ہے اور مسجد مذکور میں بیٹھ کر لوگوں کو قرآن پڑھنے کی اجازت دیتا ہے،اور مسجد مذکور میں بہت سی زمین ایسی پڑی ہے جس پر جوتا پہن کے چلتے ہیں تو اس زمین پر مدرسہ کیلئے کمروں کے بنانے کی بھی اجازت دیتا ہے تو ایسی صورت میں حسب ذیل سوالات کے جوابات مرحمت ہوں:
اول:یہ دونوں مسجدیں حکم مسجد میں ہیں یانہ؟اور مسلمانوں کو دونوں مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ثواب مسجد حاصل ہوگا یانہ؟ اور اگر نہ حاصل ہوگا تو پھر اس مسجد کو کس کام میں لاسکتے ہیں؟
دوم:طلبہ مدرسہ اسلامیہ کا اس مسجد کے اندر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے یانہ؟
سوم: احاطہ مسجدکے اندر جو زمین صحن مسجد کے علاوہ جہاں جوتا پہن کے چلتے ہیں اس پر مدرسہ کے روپیہ سے کوئی کمرہ وغیرہ طلبہ کی تعلیم کےلئے یا دفتر مدرسہ کےلئے یا طلبہ کے رہنے کےلئے بنانا جائز اور اس میں ان کاموں میں سے کوئی کام کرنا جائز ہے یانہ؟
چہارم: مشتری مسجد کی یہ بھی تجویز ہے کہ مسجد کے اندر سے جہاں جوتا پہن کے چلتے ہیں ایك راستہ مدرسہ کےاندر جانے کا نکالا جائے کہ طلبہ وملازمین مدرسہ کو مدرسہ میں جاناآسان ہوجائے ورنہ چکر کھا کے گلیوں میں سے جانا ہوگا تو آیا یہ جائز ہے یانہیں؟جواب جلد اور مدلل فرمایا جائے۔بینواتوجروا
الجواب:
وہ مسجد کہ سنی نے بنوائی تھی بلاشبہ مسجد ہے اور اس کا رکھنا فرض ہے اور اس میں نماز کا ثواب وہی ہے جو مسجد میں نماز کا ثواب ہے،روافض زمانہ مرتد ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالرفضہ میں بیان کی ہے۔ت)تو وہ مسجد بنانے کے اہل نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی" مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِؕ- " (الٰی قولہ تعالٰی )
" اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ"[1]۔الاٰیۃ
اﷲ تعالٰی نے فرمایا مشرکوں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اﷲ تعالٰی کی مساجد تعمیر کریں اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں(اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد تك کہ)بیشك اﷲ تعالٰی کی مسجدیں تو وہی لوگ تعمیرکرتے ہیں جو اﷲ تعالٰی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
خصوصًا بعد موت کے مرتد کے سب اوقاف باطل ہوجاتے ہیں کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)تو وہ مسجد کہ سنی نے خریدی اسےمرمت وغیرہ کراکے اگر اس خیال سے نماز کے لئے دیا کہ یہ پہلے سے مسجد ہے تو وہ خیال باطل تھا اور وہ مسجد بدستور ایك مکان ہے جس میں ان تمام تصرفات مذکورہ فی السوال کا اختیار ہے،اور اگر سنی نے خرید کر از سر نو اپنی طرف سے اسے مسجد کردیا یعنی یہ سمجھ کر کہ یہ مسجد نہیں میں اسے مسجد کرتا ہوں،نہ یہ سمجھ کر کہ یہ مسجد تھی اسے کار مسجد کے لئے چھوڑتا ہوں،اس صورت میں اگر شرائے صحیح سے سنی کے لئےا س کی ملك ثابت ہوگئی تھی تو یہ بھی مسجد ہوگئی مگر یہ بہت بعید ہے اس کے لئے صرف ایك صورت ہے کہ غالبًا وہ واقع نہ ہوئی ہوگی،وہ صورت یہ کہ زمین جسے رافضی نے مسجد کیا اس کے زمانہ اسلام کی ملك تھی،اس کے بعد اس نے رفض اختیار کیا،یہ مسجد بنائی اور مرگیا اور اس کے قریب و بعید وارثوں میں کوئی شخص سنی مسلمان ہے کہ وہی اس کے کسب اسلام کا وارث ہوکر اس مکان کا مالك ہے اور اس نے اس سنی کے ہاتھ بیچ ڈالا تو یہ شراء صحیح ہوا اور یہ سنی اس مکان کا مالك ہوگیا اور اب جو اس نے اسے اپنی طرف سے مسجد کیا مسجد ہوگئی،اس صورت بعیدہ پر وہ تصرفات مذکورہ سب ناجائز ہوں گے فانہ لایجوز تغییر الوقف عما ھولہ(کہ وقف اپنی اصلی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ت) مگر طلبہ کا پڑھنا جائز جبکہ اطفال نہ ہوں اور نماز کے وقت نمازکی جگہ نہ گھیریں نہ ان کے پڑھنے سے نمازیوں کو تشویش ہو اور اگر یہ صورت نہیں بلکہ وہ مکان اس کے زمانہ رفض ہی کی ملك تھا تو یہ بیع جس شخص نے کی ہر گز مثبت ملك مشتری نہیں کہ بائع خود ہی مالك نہ تھا مرتد کے زمانہ ارتداد کی ملك اسکی موت کے بعد فیئ للمسلمین ہوجاتی ہے اس کے کسی وارث کو نہیں پہنچ سکتی اگرچہ اس کا بیٹا ہو مسلم ہو خواہ اسی کی طرح مرتد یا اور قسم کا کافر،تو جب شراء صحیح نہ ہوا تواس سنی کا اسے مسجد کرنا صحیح نہ ہوا بلکہ وہ بدستور ایك زمین عام مسلمانوں کی ہے،مسلمانوں کی مرضی سے اس میں مسلمین کی منفعت کے تصرفات کرسکتے ہیں۔فتاوٰی عالمگیری میں مبسوط سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع