30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیا جاتا اس کا کوئی خفیہ ارادہ ظاہر کیا جا تا دربارہ مسئلہ علما ء سے استشارہ کہ فلاں صورت کا کیا حکم ہے کون سا افشائے راز تھا شرعی مسئلہ اورخاص حرمت اسلام سے متعلق اور عام مسلمانوں سے اس کا تعلق اور راز کی کوٹھری میں بند۔بحمداﷲ یہ توصاف ہوگیا کہ ایك شخص کی شخصی کارروائی ہے جس میں نہ عام مسلمان شریك نہ علماء کو خبر،ایسی کارروائی جس قابل ہے ظاہر ہے۔
(۴۹)آگے ممبر کا قول لکھا ہم بالکل گفتگو منقطع کرتے ہیں اور صرف ایك گھنٹے کی مہلت ہے یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جلدی کی اور مہلت نہ دی اور گھبرالیا اس لئے ہم نے مسجد نہ ایك مسجد بلکہ ہندوستان کی سب مسجدیں نذرکردیں،اس عذر کی خوبی ظاہرہے نزاع میں فریق ثانی سب کچھ کرتا ہے گھبرالینے پر گھبراجانا کیوں ہوامہلت کے جواب میں کیوں نہ انہیں سے مشورہ لینے کے لئے کافی مہلت ملنا ضرور ہے ورنہ گورنمنٹ کواختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا،یہ کہہ کر دیکھا تو ہوتا کہ آشتی خواہ گورنمنٹ کیا کہتی،حرمت اسلام کیسی برقرار رہتی،حفظ حقوق مذہب میں گورنمنٹ کی نامبدل پالیسی کیا کچھ نفع پہنچاتی،وہ امن جس کا پیام ہی لے کر گورنمنٹ کا آنا ہوا تھا کیسا کچھ مبارك رنگ دکھاتی،اسی لئے تو حدیث میں ارشاد ہوا:
التأنی من الرحمٰن والعجلۃ من الشیطان[1]۔ والعیاذ باﷲ العزیز المستعان۔
تاخیر رحمان کی طرف سے ہوتی ہے اورعجلت شیطان کی طرف سے،اللہ تعالٰی غالب مدد گار کی پناہ۔(ت)
اس کے بعد جو کچھ کہا گیاا س کے فقرے فقرے کا رد اوپر آگیا وباﷲ التوفیق۔
(۵۰)غرض الزامات شرعیہ قطعیہ یقینا قائم ہیں اور بشدت قائم،کبائر شدیدہ عدیدہ کے ارتکاب قطعًا لازم ہیں اور بقوت لازم۔ اس سب پر ظلم بر ظلم برأت کی فکر وکاوش اور اس کارروائی ہتك حرمت اسلام کو صحیح وصواب بنانے کی کوشش ہے حاشا حق طلبی کی یہ راہ نہیں ؎
دانم نرسی بکعبہ اے پشت براہ کیں راہ کہ تو میروی بہ انگلستان ست
(اے مسافرمجھے معلوم ہے کہ توکعبہ نہیں پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر توچل رہا ہے وہ انگلستان کا ہے)
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
بَلکہ سبیل نجات اس میں منحصر کہ
اولًا: عالم اور جو جو مسلم اس کارروائی میں شریك تھے سب اس شنیع وسخت فظیع کبیرہ خمیر صدہا حرام وہتك حرمت اسلام سے بصدق دل توبہ کریں رب المساجد جل جلالہ کے حضور خاك مذلت پرناك رگڑیں،اپنے سروں پر خال اڑائیں،سربرہنہ بادل گریاں وچشم بریاں اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا دامن پکڑ کر دست ضراعت پھیلائیں اور ہر ایك کہے:اللّٰھم انی اتوب الیك منھا لاارجع الیھا ابدا الٰہی ! میں ان تمام حرکات شنیعہ سے تیری طرف توبہ کرتا ہوں اب ایسا نہ کروں گا۔
ثانیًا: بکثرت اخباروں اشتہاروں میں صاف صاف بلا تاویل اپنے جرائم کا اعتراف اور اپنی توبہ اور اس کارروائی کی شناعت کی خوب اشاعت کریں کہ جس طرح عالم کے اعتماد پر عوام میں اسکی خوبی کا دند(شور)ہند کے گوشہ گوشہ میں مچا یوں ہی بچہ بچہ کے کان تك عالم کی توبہ اور اس کی شناعت کا اعلان پہنچے،حدیث میں ارشاد ہوا:
اذاعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ[2]۔ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب بسند حسن جید عن معاذ بن جبل رضی اﷲتعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲعلیہ وسلم۔
جب تو برائی کرے تو اسی وقت توبہ کر،مخفی کی مخفی اور علانیہ کی علانیہ۔اس کوامام احمد نے کتاب الزہد میں اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن جید سند کے ساتھ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بیان کیا۔(ت)
ثالثًا: گورنمنٹ کو جو ایساعظیم مسئلہ غلط باور کرایا ہے جس سے ہمیشہ کےلئے مسجدوں کو سخت خطرہ کا سامنا ہے اپنی تمام ہستی ساری حیثیت پوری کوشش ہمگین طاقت اس کے رفع میں صرف کریں اور شرعی دلائل،فقہی مسائل،ائمہ کے ارشاد،علماء کے فتاوٰی بیش از بیش جمع کرکے یقین دلاویں کہ وہ کارروائی جو پہلے ہم نے بتائی محض باطل وحرام وہتك حرمت اسلام تھی کسی مسجد کی کوئی زمین ہرگز ہرگز راستہ،سڑک،ریل نہر غرض کسی دوسرے کام کے لئے نہیں کی جاسکتی،مسجد حقیقۃً زمین کانام ہے۔ چھت اس کا بدل نہیں ہوسکتی نہ ہر گز کسی دوسری زمین یا دس۱۰لاکھ روپے گز قیمت خواہ کسی شے سے اس کا بدلنا روا ہوسکے،اگر ایسا نہ کیا تو یہ مسجد اوراس کے سوا جب کبھی کسی مسجد کو عالم اور اس کے ساتھی مسلمانوں کی اس کارروائی سے صدمہ پہنچے گاہمیشہ ہمیشہ تا بقائے دنیا اس کی ایك ایك بیحرمتی کاروزانہ گناہ عظیم ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوا کرے گا اللہ کی پناہ اس حالت سے کہ قبرمیں ہڈیاں بھی نہ رہیں اور ہر ہر لمحہ پر،
" وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-"[3]
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔ (ت)
کا وبال عظیم دنیا سے قبر اور قبر سے حشرتك پیچھا نہ چھوڑے،اور یہ عذرمسموع نہ ہوگا کہ ہمیں اس کام کے لئے آدمی نہیں ملتے جیسا کہ یہاں خط میں لکھ کر بھیجا کام آپ کا بگاڑا ہوا ہے آپ پر اس کی تلافی فرض ہے اگرچہ کوئی ساتھ نہ دے،بگاڑنے کوآپ تھے بنانے کو کوئی اور آئے،اس وقت کا استبداد کہ نہ علماء سے پوچھنا نہ مسلمانوں سے کہنا اب بھی کام لائیے اور اپنی عاقبت بنائیے اور خدمت کعبہ کی الٹی بانگی مٹاکر سیدھی دکھائیے،راہ یہ ہے اور توفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے، ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔اس میں اپنی ذلت نہ سمجھئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیك عزت کہ اس کی طرف رجوع لائے اس کے گھر کی بیحرمتی کرانے سے باز آئے، وہ فرماتا ہے:" وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) "[4] (اور اپنے کئے پر جان بوجھ کراڑ نہ جائیں۔ ت)مسلمانوں کے نزدیك عزت کہ ان کے دین پر تعدی چھوڑی حفظ حقوق مذہب کی طرف باگ موڑی،گورنمنٹ کے نزدیك عزت کہ ایسی عظیم حرمت اسلام کی پامالی جو اس کی نامبدل پالیسی کے بالکل خلاف اس کے مستمر وعدوں کے بالکل مناقض،سات کروڑ رعایا کا دل دکھانے والی روش برطانیہ کو مذہبی دست اندازی کا عیب لگانے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع