30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خزانۃ المفتین وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ[1]۔
اگر پہلے محدود رقبہ کا دعوٰی اپنے لئے کیا پھر وقف ہونے کا دعوٰی کیا توصحیح جواب یہ ہے کہ اگر وقف کادعوٰی تولیت کی بناء پر کیا تو پھر اس کے دونوں دعووں میں موافقت پیدا کی جاسکتی ہے کیونکہ عادتًا وقف متولی کی طرف تصرف اور منازعت میں منسوب ہوتاہے(ت)
یہ دونوں معنی خود اسی جواب استفسار میں موجود،اول کہا:ملك وقف میں کسی کے لئے نہیں ہوتی۔اس کے متصل ہی اپنے مشیر قانونی کا قول نقل کیا کہ ہماری ملك غصب سے نہیں چلی گئی۔ظاہر ہے کہ گورنمنٹ ہر گز کسی وقت اس حصہ مسجد میں اپنی ملك بمعنی اول کی مدعی نہ ہوئی اس پر یہ کبھی نہ کہا گیا کہ یہ گورنمنٹی زمین ہے تم نے اسے مسجد کرلیا تھا اب گورنمنٹ اسے واپس لیتی ہے بلکہ دعوی اگر تھا تو اختیار تصرف کا اس کی نفی امر طے شدہ میں نہ ہرگز عالم نے کی نہ ممبر سے کہلوالی نہ صاف ناصاف بلکہ صاف صاف اس کے اثبات پر فیصلہ ہواکہ یہ امر ضروری ہے کہ عام پبلك الخ۔
(۴۳)ہر قوم اپنی اصطلاح پر کلام کرتی اورسمجھتی ہے قانون اور اہل قانون کی اصطلاح میں زمین مسجد یا وقف مسجد کو ملك مسجد کہتے ہیں بلکہ اس اصطلاح کا پتا شرع مطہر میں بھی ہے۔واقعات حسامیہ و خزانۃ المفتین وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
لایمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فاثبات الملك للمسجد علی ھذا الوجہ صحیح [2]۔
مسجد کو ہبہ کرنے سے تملیك کی تصحیح ممکن نہیں جبکہ اس طریقہ سے مسجد کے لئے ملکیت کا اثبات صحیح ہے(ت)
تویہ طے کرنا ملك اس زمین پر کسی کی نہ ثابت کی جائے یہ طے کرنا ہے اسے مسجد کی شے نہ مانا جائے اور اب یہ کہنا ضرورصحیح ہے کہ چنانچہ گورنمنٹ نے ایسا ہی کیا۔
(۴۴)یہاں"سردست"کے معنی جس حکمت کے لئے دریافت کئے تھے وہ کار گر ہوئی بتانا پڑا کہ سردست کے معنی ممبر متعینہ سے صاف کہہ دئے گئے کہ ہم تخلیص شرکت مرور کے لئے ہمیشہ چارہ جوئی کرتے رہیں گے،یعنی اس وقت ہماری یا مسجد کی ملك ثابت ہوجائے گی فی الحال کسی کی نہ رکھو تو صاف کھل گیا کہ ملك سے وہی معنی مراد لئے جو اصطلاح قانون ہے یا معنی دوم بہر حال مطلب یہ ہواکہ فی الحال زمین مسجد کو وقف نہ ٹھہرایا جائے آئندہ ہم کوشش کرینگے کہ وقف قرار پائے ایك اسلامی عالم کہ الٰہی گھر کی حمایت کی حمایت کو چلا ہو اس کے لئے اس سے زیادہ شنیع بات اور کیا ہوگی کہ اپنے منہ سے مسجد درکنار سرے سے فی الحال اسے وقف ہی نہ ٹھہرانے کی تجویز پیش کرے۔رہی آئندہ کی کوشش اس کا مفصل حال اوپر گزرا کہ یہ محض نہا ں خانہ خیال میں رہا یا کہا اور منظور نہ ہو اا س کا قرارداد ہر گز نہ ہوا اور جوکچھ برائے گفتن تھا تصفیہ ہوتے ہی اسے خود ہی منسوخ و ممسوح کردیا اور اس کا خیال تك مسلمانوں کے دلوں سے چھیل ڈالنے کا پور اذمہ لیا فاعتبروایٰاولی الابصارممبر متعینہ نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جب قانون بن جائے گا تو خواہ نخواہ یہ مسئلہ بھی طے ہوجائے گا۔جی مسئلہ تو ابھی طے ہوگیا اور وہی قانون کےلئے مادہ ہوگیا دیکھو نمبر۲۶تا۳۰ہم اس وقت اس خواہش کوپورا نہیں کرسکتے یعنی مسجد کو مسجد بالائے طاق وقف بھی نہیں مان سکتے۔یہ ہے جو عالم نے طے کیا ہے۔فاناﷲ وانا الیہ رٰجعون۔
(۴۵)[یہ مصالحت ایك شخصی کارروائی ہے اور اس کے روشن ثبوت ] یہا ں تك بعض استفسار وں کے منشا کو سائل فاضل نے سمجھ لیا اور جواب سے اعراض یاابہام کی طرف عدول کیا جیسے استفسار دوم وسوم اور باقی میں جواب صحیح کی راہ ہی نہ تھی ان میں طریق اعتذار لیا اور بن نہ پڑا۔اس ہفتم میں بظاہر منشاء سوال خیال میں نہ آیا،منشایہ تھا کہ عالم نے جس بات پر فیصلہ کیا قطعًا اسی کے اقرار سے خلاف احکام وہتك حرمت اسلام ہے۔اب الزام کے لئے تین صورتیں ہیں:ایك معافی وہ صورت جبر واکراہ شرعی ہے،یہ استفسار کی شق اول تھی کہ عالم کو گورنمنٹ نے حکمًا مجبو ر کیا۔دوم اشترك کہ الزام تام ہے مگر نہ صرف عالم بلکہ عام مسلمانان ذی تعلق پر جبکہ انہوں نے اس کارروائی کے لئے عالم کو وکیل بناکر بھیجا ہو یہ دوسری شق تھی کہ یا مسلمانوں نے اپنی طرف سے مامور کیا اور اس میں عالم کا نفع یہ تھا کہ اگرچہ کبیرہ شدیدہ واقع ہوا مگر اوروں کو عالم پر سخت شنیع ملامتیں کرنے کا(جن کی شکایت اس سوال کے ساتھ خط میں آئی)موقع نہ ہوگا کہ وہ خود بھی اسی بلا میں مبتلاہیں۔سوم عالم ومن معہ کا انفراد اور اضرار اسلام میں استبداد،یہ تیسری شق تھی کہ یا وہ بطور خود گیا،اس کے جواب میں دو شق اخیر کی صراحۃً اور اول کی ضمنًا نفی کی کہ عالم کو عام مسلمانوں نے طلب نہ کیا نہ وہ از خود گیا بلکہ مقدمہ کانپور کے کارکنوں نے باصرار بلایا،یہاں سے ظاہر کہ وہ کارکن عام مسلمانوں کے صحیح نائب مناب نہ تھے ورنہ ان کا بلانا عام مسلمانوں کا طلب کرنا کیوں نہ ہوتا اور جب ایسے نہ تھے اور معاملہ عام مسلمانوں کا تھا نہ کہ تنہا ان خاص کا،تو خاص کے بلائے پر جانا عام کا قائم مقام کیونکر کردے گا،تو مآل وہی ہوا کہ خود گیا۔
(۴۶)بالفرض وہ کارکن عام مسلمین کے صحیح قائم مقام تھے یا خود عام مسلمانوں نے عالم کو بھیجا تو کیا انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اصل معاملہ پر پانی پھیر دینا فیصلہ پر ایك نظر میں مسلمانوں سے گفتگو اور عالموں سے مشورہ تك توصرف تدبیر اول تھی بھیجنے والوں نے اسی کے لئے بھیجا تھاجب ممبر نے اسے نامنظور کیا عالم کی وکالت ختم ہوچکی،اسے اپنی رائے سے ایسی تدبیر حرام وخلاف احکام وہتك اسلام نکالنے اور اسے مسلمانوں کے سر ڈالنے کا کیا اختیار تھا،لاجرم اشتراك ہرگز نہیں بلکہ اضرار اسلام میں استبداد ہے پھر ملامت مسلمانان کی شکایت کیوں ؎
تنکی المحب وتشکو وھی ظالمۃ کالقوس تصمی الرمایاوھی مرنان
(محب کو ہلاك کرتی ہے اور شکایت کرتی ہے حالانکہ خود ظالم ہے کمان کی طرح کہ تیر ہلاك کریں اور یہ جنبش دے)
(۴۷)عالم نے خود ممبر سے یہ کہہ کر کہ میرا کام مسئلہ بتادینے کاہے خداکے گھر کا معاملہ ہے میرا گھر نہیں الخ اور تقریر عالم میں ہے احکام مذہبی میں کچھ نہیں دخل دے سکتا اگر رضامندی نہیں ہوتی حکام کو اختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا،اپنی وکالت کو ختم کردیا تھا،پھر خودرائی کا اسے کیا اختیار تھا اس کا عذر یہ بتایا ہے کہ مگر ممبر متعینہ نے کہا ہم کو تمہاری رائے پر اعتماد ہے ہم علماء کی مجلس جمع نہ کریں گے تم اپنی رائے کہہ دو۔الحمد ﷲ ظاہر ہوگیا کہ اب یہاں سے عام مسلمانوں کا وکیل نہ تھا بلکہ فریق ثانی کا جس نے اس پر اعتماد کیا،تو اس کی یہ کارروائی ہر گز مسلمانوں کی نہیں ٹھہرسکتی بلکہ ایك وکیل گورنمنٹ بلکہ ایك وکیل ممبر کی کارروائی ہے جس کا اثر صرف ممبر کی ذات تك محدود ہے۔
(۴۸)علماء سے مشورہ نہ لینے کو ممبر کے سر رکھا جاتا ہے مگر فیصلہ پر ایك نظر کی تقریر تو صاف کہہ رہی ہے کہ عالم خود ہی اس سے بازرہا اور بالقصد اس سے انحراف اور اپنی رائے پر توکل کیا تقریر مذکور میں ہے میں نے چاہاکہ عام طور پر علماسے مشورہ لوں مگر مجھے اخفائے راز کی ذمہ داری اس سے مانع ہوئی اپنا ذاتی خانگی معاملہ ہوتا تو ایك بات تھی عام مسلمانوں کا معاملہ اور انہیں سے اخفاء گورنمنٹ کا اگر کوئی راز تھا تو کیا ضرورتھا کہ گورنمنٹ کا نام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع