دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۳۹)استفسار یہ نہ تھا کہ ملزم شرط پر چھوٹے یا بلا شرط،جس کا یہ جواب دیا گیا،بلکہ سوال یہ تھا کہ ان کی آزادی کے بعد اور کیا منازعت رہ گئی تھی جسے عالم نے قطع کیا اور کیونکر قطع کی،یہاں بھی بعض اصحاب نے استفسارات کو دیکھ کر کہا تھا کہ ان کی حکمت سمجھ میں نہ آئی کس کس غرض سے یہ امور دریافت کئےہیں ہمارے استفسار دوم کی حکمت اوپر معلوم ہوچکی،اس سوم کا فائدہ یہ تھا کہ یہاں دو ہی نزاعیں تھیں،گورنمنٹ کا ملزموں پر دعوٰی،مسلمانوں کو زمین پر دعوٰی۔گورنمنٹ نے عالم سے مصالحت کی،مصالحت یك طرفہ تو تھی نہیں اور رہائی ملزمان کوئی فعل مشترك نہ تھاکہ فریقین نے کیا،اور طرفین سے قطع نزاع متحقق ہوا،وہ تو تنہا فعل گورنمنٹ تھا کہ خود ہی وہ اسے بجالائی اور اپنی طرف سے قطع نزاع کی،اس کے بعد دوسری نزاع کیا تھی کہ ادھر سے قطع کی گئی،لاجرم اس کا جواب یہی تھا کہ گورنمنٹ نے قیدی چھوڑے مسلمانوں نے مسجد چھوڑی،ولہذا سائل فاضل نے استفسار دوم کی طرح سوم کے جواب سے بھی پہلو تہی کی اور وہ زائد بات لکھ کر اس گول مبہم پر قناعت فرمائی کہ گورنمنٹ اور مسلمانوں سے مقدمات اور اس کے ضمن میں باہم کشیدگی ومنازعت تھی جس کو عالم نے قطع کردیا۔سوال تھا منازعت کیا تھی کیونکر قطع کی؟جواب ہوا کہ تھی اور قطع کی غرض یہاں کے بعض اصحاب فائدہ استفسارات نہ سمجھیں مگر سائل فاضل نے خوب سمجھا اور اپنی احتیاط کا حق ادا کیا۔

متعلق جواب استفسار چہارم

قبضہ کی کافی بحث اوپر گزری کہ زمین پر قبضہ دینا نہ ٹھہرا بلکہ ہواپر۔

(۴۰)[زعم حصول قبضہ کا رد]رہا ممبروں کا کہنا ہم عمارت کی اجازت دیں گے جو قانونًا وعرفًا قبضہ ہے اگرچہ گورنر جنرل لفط قبضہ کو اپنی زبان سے نہ کہیں،شرعًا راستہ پر چھجا نکالنے چھتا پاٹنے کاہر شخص کواختیار ہے اگر کوچہ غیر نافذہ ہو تو سب اہل کوچہ کی اجازت سے،اور شارع عام ہوتو سلطان کی اجازت سے بلکہ بلااجازت سلطان بھی نکالنے سے گنہگار نہ ہوگا اگرچہ مزاحمت کے بعد تار دینا واجب ہوگا۔عالمگیری میں ہے:

ان اراد احداث الظلۃ فی سکۃ غیر نافذۃ یعتبر فیہ الاذن من اھل السکۃ وھل یباح احداث الظلۃ علی طریق العامۃ ذکر الطحاوی انہ یباح ولایاثم قبل ان یخاصمہ احدوبعد المخاصمۃ لایباح الاحداث والانتفاع ویاثم بترك الظلۃ کذافی الفصول العمادیۃ،ولیس لاحد من اھل الدرب الذی ھو غیر نا فذ ان یشرع کنیفا ولامیزابا باذن جمیع اھل الدرب اضر ذلك بھم اولم یضرھکذا فی الخلاصۃ[1]۔

اگر کوئی بندگلی میں چھتہ بنانا چاہے تو گلی والوں کی اجازت معتبر ہوگی،اور کیا شارع عام پر کوئی چھتہ بناسکتا ہے،تو امام طحاوی نے مباح کہا ہے اور اس وقت تك گنہگار نہ ہوگا جب تك کوئی مخاصمت نہ کرے اور مخاصمت کے بعد نہ بنانا مباح ہوگااور نہ ہی اس سے انتفاع جائز ہوگا اور اس کو باقی رکھنے سے گنہگارہو گا،جیساکہ فصول عمادیہ میں ہے،اور کسی کوتنگ بندگلی میں کوڑا ڈالنا اور پر نالہ لگانا گلی والوں کی اجازت کے بغیر جائز نہیں خواہ گلی والوں کو ضرر ہو یا نہ ہو،خلاصہ میں یونہی ہے۔(ت)

اور غالبًا انگریزی قانون میں بھی چونگی اجازت سے ایسا ہوسکتا ہے اسے کوئی عاقل راہ یا سڑك کی زمین پر قبضہ نہ کہے گا اور دور کیوں جائیے لکھنو میں بام نشینان بازار کی کثرت سنی جاتی ہے شرعًا عرفًا قانونًا کسی طرح وہ دکانوں پرقابض نہیں۔

(۴۱)جواب ایڈریس کا وہ جملہ کہ میں اس کو کچھ وقیع والم نہیں خیال کرتا کہ زمین کس کے قبضہ میں رہے گی،اس کے سمجھنے میں بہت غلطی کی گئی بحث قبضہ وقیع نہیں یعنی فضول ہے اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ قبضہ کسی خاص کا ہو، اس سے ہمیں غرض نہیں۔دوسرے یہ کہ ہم کسی خاص قبضہ کو ہر گز روا نہ رکھیں گے،لہذا اس کی بحث فضول ہے،وہ بات کہ اگرچہ گورنر جنرل لفط قبضہ کو اپنی زبان سے نہ کہیں معنی اول بتاتی ہے حالانکہ مراد قطعًا معنی ثانی میں ہے کہ اس کے متصل ہی،جواب ایڈریس میں ہے مگر یہ ضرور ی ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك کے استعمال کرنے کے مجا ز ہوں یعنی قبضہ عام ہونا ضروری ہے خصوصیت کی بحث لایعنی ہے،تو ذکر نفی قبضہ کو نفی ذکر قبضہ پر حمل کرناصریح مغالطہ یا کھلی غلطی ہے۔ممبر متعینہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہی قبضہ ہے یعنی ا ور میں نے مان لیا کہ سالبہ مراد ف موجبہ ہے ایسا قبضہ عالم صاحب یا کوئی مسلمان ممبر صاحب اپنے گھر کے لئے بھی گواراکریں گے یا یہ خاص اللہ  عزجلالہ کے گھر کے لئے ہے غرضکہ قبضہ خود ممبر متعینہ کی زبان سے طے کرالیا۔جی نہیں بلکہ خود اپنی زبان سے قبضہ کا قضیہ طے کردیا کہ چھت ہماری اور مسجد کی زمین پر سڑك جاری،لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔

متعلق جواب استفسار پنجم

(۴۲)[مصالحت اس پر کی کہ مسجد مسجد کیا بلکہ وقف بھی نہ ٹھہرے] عالم کی پیش کردہ دوسری تجویز جس پر فیصلہ ہوا تقریر مذکورعالم میں صرف ان لفظو ں سے ہے:اس وقت میں نے یہ صورت پیش کی کہ سردست ہم کو دالان کی چھت پرقبضہ دے دیں الخ،اس میں کہیں کسی کی ملك نہ ہونے کا تذکرہ نہیں مگر سائل نے اسے ان لفظوں سے بیان کیا تھا کہ بعد رد وقدح عالم کی رائے سے طے پایا ہے کہ سردست ملك اس زمین پر کسی کی ثابت نہ کی جائے کیوں کہ مسلمانوں کے نزدیك یہ وقف ہے قبضہ زمین پر مسلمانوں کا دلایا جائے،اس پر یہ استفسار پنجم تھا کہ یہ کسی کی ملك ثابت نہ ہونے کی قرار داد صرف عالم کے متخیلہ میں رہا یا باتفاق فریقین طے ہوا اس کا یہ جواب ہے کہ زمین کی ملکیت گورنمنٹ اپنی ہی سمجھتی تھی ممبر سے عالم نے صاف کہہ دیا اور کہلوالیا کہ ملك وقف میں کسی کےلئے نہیں ہوتی اور اسی واسطے ہم اپنے لئے بھی ثابت کرنے کے درپے نہیں۔اس جواب میں بہت خلط مبحث ہے۔ملك کا اطلاق دو۲ معنی پر آتا ہے اول اختصاص مانع کہ ابتداءً اس کے لئے قدرت تصرف شرعی ثابت کرے اور اس کے غیر کو بے اس کی اجازت کے تصرف سے مانع ہو جیسے زید کا مکان زید کی ملك ہے،فتح القدیر میں ہے:

الملك ھو قدرۃ یثبتھا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل[2]۔

ملکیت وہ قدرت ہے جسے شارع نے تصرف کے لئے ابتداءً ثابت کیا ہو تووکیل جیسے تصرف خارج ہوگئے(ت)

اشباہ میں ہے:

وعرفہ فی الحاوی القدسی بانہ الاختصاص الحاجز[3]۔

اورحاوی قدسی نے اس کی تعریف یوں کی ہے وہ اختصاص جو دوسرے کی مداخلت سے مانع ہو۔(ت)

باینمعنی تمام اوقاف علی الصحیح المفتی بہ اور خصوصا مساجد باجماع امت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کسی کی ملك نہیں،قال اﷲ تعالٰی " وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہ"[4] (اﷲ تعالٰی  نے فرمایا:اور یہ کہ مسجدیں اللہ  ہی کی ہیں۔ت)۲دوم بمعنی قدرت تصرف شرعی، عنایہ میں ہے:الملك ھو القدرۃ علی التصرف فی المحل شرعا[5]  (ملکیت،یہ محل تصرف شرعی کی قدرت ہے۔ت)بایں معنی متولی کو مالك اوقاف کہہ سکتے ہیں۔

 



[1]      فتاوٰی ہندیۃ کتاب الجنایات الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۰

[2]      فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۶

[3]      الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۲

[4]      القرآن الکریم۷۲/ ۱۸

[5]      العنایۃ علی ٰ ہامش فتح القدیر کتاب البیوع مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن