30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لایلدغ المؤمن من جحرواحد مرتین[1]۔ مومن ایك سوراخ سے دوبار نہیں ڈساجاتا(ت)
خاص گورنمنٹ،کون گورنمنٹ،وہ وہ جس نے کہا میں تمہارے لئے پیام امن لایا ہوں وہ وہ جس نے کہامذہبی باتوں کے متعلق وہی پالیسی ہے اس میں کوئی تغیر نہیں،وہ وہ جس نے کہا حقوق مساجد کا ہمیشہ لحاظ رکھا جائیگا اور سب مسلمانوں کے اطمینان کے قابل فیصلہ کیا جائےگا اسے چھوڑ کر میونسپلٹی کی رحمت پر بھروسا کرنا وہاں اپنے منہ حرمت اسلامیہ کو پامالی کے لئے خود پیش کرنا اور اس کے ازالہ کی امید چونگی سے رکھنا کس درجہ بدقسمتی ہے۔
(۳۲)میونسپلٹی اگر موافق بھی ہوتی تو فیصلہ خاص گورنمنٹ کے بعد اس سے نقض کی امید کتنی غلط امید ہے۔
(۳۳)بفرض غلط اگرمیونسپلٹی آپ کو لکھ بھی دے کہ ہاں یہ زمین خاص مسجد کی ہے چونگی کا اس پر کچھ دعوٰی نہیں تو کیا وہ اس حکم حتمی گورنمنٹ کو بھی منسوخ کردے گی کہ یہ ضرور ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك کے استعمال کرنے کے مجاز ہوں اور جب یہ برقرار رہا تو وہ کیا ہے جسے آپ میونسپلٹی سے خاص کرلیں گے جس کے سبب اس اپنے اقرار اشد حرام وہتك اسلام کو زائل کرلیں گے۔
(۳۴)بفرض باطل یہ بھی ممکن سہی تو ایك امید موہوم کےلئے،جس کا نہ وقوع معلوم نہ سال دس سال مدت معلوم،اس وقت ایسا حرام وہتك اسلام کو ہتك کے لئے خود پیش کرنا کس شریعت نے جائز کیاہے۔
(۳۵)موہوم ہونے کی یہ حالت ہے کہ خود بھی اس کے حصول پر اطمینان نہیں تقریر میں عبارت مذکورہ کے متصل ہے اگر نہ ملا تو ہم مجبور ہیں ویسا ہی تصور کرینگے جیسا کہ اس وقت دہلی کی جامع مسجد میں انگریزوں کو جوتا پہنے آنے سے روك نہیں سکتے مجبور کس نے کیا،آپ تجویز نکالو،آپ پیش کرو،آپ منظور کراؤ،آپ خوشیاں مناؤ،اور پھر مجبور کے مجبور۔انگریزوں کا جوتا پہنے پھر نا اگر وہاں کے مسلمانوں کی خوشی سے ہے تو ان پر بھی الزام ہے اگرچہ آپ پر اشد ہے کہ کہاں نادرًا گاہے ماہے کسی انگریز کا آنا اور کہاں یہ شبانہ روز کی پامالی،گوبر لید متالی،اور اگر مسلمانوں نے اس کی اجازت نہ دی تو یہ آپ کی تو خود کردہ ہے اس کا اس پر قیاس کیسا!
(۳۶)سب جانے دیجئے امید و موہوم ومظنون سب سے گزر کر بفرض محال میونسپلٹی سے اس کا استحصال اور مرور واستعمال کا بالکلیہ زوال سب قطعی ویقینی ٹھہرالیجئے پھر الزام کیا دفع ہوا،کیا کوئی گناہ حلال ہوسکتا ہے جبکہ ایك زمانہ کے بعد اس کا زوال یقینی ہو،یوں تو شراب وزنا بھی حلال ہوجائیں گے کہ ہمیشہ کے لئے نہ وہ مستقر نہ یہ مستمر،ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔یہ ہے وہ تقریر"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"جس پر عوام کو وہ کچھ وثوق وہ کچھ ناز ہے واستغفر اﷲالعظیم۔
الحمدﷲدواستفسار پیشین کے جواب میں یہی چھتیس نظریں کافی ووافی ہیں جن میں اس فیصلہ پر ایك نظر پر بھی پندرہ نظریں ہوگئیں،اور نہ صرف اسی قدر بلکہ مسئلہ وفیصلہ کے پہلوؤں پر کافی روشنی پڑگئی جس کے بعدعاقل کو امتیاز حق وباطل کے لئے ان شاء اﷲ العظیم زیادہ کی حاجت نہ رہی جواب باقی استفسارات کا حال بھی یہیں سے کھل گیا لہذا ان پر بالاجمال دوچار لفظ لکھ کر کلام تمام کر یں وباﷲ التوفیق۔
اس کے فقرے فقرے کا رد اوپر گزر چکا،گورنمنٹ نے خود خواہش تصفیہ کی،بہت اچھا کیا،مگر تصفیہ میں یہ تجویز جوخود عالم کے اقرار سے حرام اور بلاشبہہ ہتك حرمت اسلام ہے،عالم نے آپ ہی پیش کی بہت برا کیا،پھر اسے نہایت مسرت خیز و زریں روز وغیرہ وغیرہ کہا او ر سخت بر اکیا۔
(۳۷)[اس تجویز نے کیا دیا اور کیا لیا اس کا موازنہ]نہ کہ قیدیوں کو بلا مقابلہ کسی امر کے چھوڑدینا چاہا،جواب ایڈریس میں کسی مقابلہ کا اشارہ تك نہیں،لکھنو کے ایك انگریزی اخبار میں ہے کہ بلا شرط چھوڑاگیا،ممکن ہے کہ باہم خفیہ گفتگو میں ذکر شرط آیا ہو،اب سوال یہ ہے وہ شرط کیا تھی اور جزا کے ساتھ ہم قیمت تھی یابہت گراں،ہمارے سائل فاضل کا بیان ہے کہ بلکہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیں،یعنی زمین مسجد سے دست بردار ہوجائیں(دیکھو ہمارے بیانات میں نمبر ۱۷تا۲۰)اور مسجد کی زمین پر بعینہ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریں یعنی جس سے وہ مسجد کےلئے محفوظ رہے اور سڑك کے کام میں نہ آسکے ورنہ عمارت کی کسی ہیأت معینہ سے بحث کے کوئی معنی نہیں تو حاصل شرط مسجد کی مسجدیت کا ابطال اور اس کی زمین کا سڑك میں استعمال اور اس کی حرمت کا اسقاط وابتذال تھا،اسی کی پابندی سے عالم نے یہ اخیر ناشدنی تجویز نکالی جو منظور ہو کر نظیر ہوگئی اور جس نے ہمیشہ کے لئے تمام مساجد ہند کی حرمت بیچ ڈالی۔اب اس کا اور جزایعنی رہائی ملزمان کا موازنہ کرلیجئے خاص اشخاص کی قید ضرر خاص تھا اور وہ بھی جسمانی اور وہ بھی منقطع اور مساجد کی بیحرمتی وابطال مسجدیت اور اس کے خود پیش کرنے پھر منظور کرانے،پھر اس پر اظہار رضاومسرت سے ہمیشہ کےلئے اس کا نظیر بننا کتنا سخت ضرر عام تھا اور وہ بھی دینی اور وہ بھی مستمر،اسی کو عالم نے خود کہا تھا کہ شعار اسلام کے ہتك ہونے میں کسی کو شبہہ نہ رہا،ایك مسجد کا ضرر ضرر عام ہے کہ مسجد عام مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے،نہ کسی خاص کی،اور ضرر عام ضرر خاص سے اقوی،اسی پر مبنی ہے فتح القدیر وبحرالرائق ودرر وغرر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہا معتمدات اسفار کا مسئلہ کہ مسجد ضاق وبجنبہ ارض لرجل [2] الخ(جب مسجد تنگ ہوجائے اور اس کے پہلو میں ایك شخص کی زمین ہو۔ت)جب صرف نمازیوں پر جگہ کی تنگی ایسا ضرر مہم سمجھی گئی تو مسجد کی مسجدیت کا ابطال شعار اسلام کا وہ ہتك وابتذال اور پھر نہ ایك مسجد کے بلکہ قاعدہ مستمرہ مساجد کیلئے کس درجہ اشد واشنع ضررعام مسلمین وضررنفس اسلام ودین ہے عقل ونقل وعرف وشرع کا قاعدہ تو وہ تھا کہ ضرر عام سے بچنے کو ضرر خاص کا تحمل کرتے ہیں،اشباہ والنظائر میں ہے:
یتحمل الضرر الخاص لاجل دفع الضرر العام[3]۔ عام ضررسے بچنے کے لئے خاص ضرر کو اپنایا جاسکتاہے۔ت)
یہاں چند روزہ خفیف ضرر خاص چند اشخاص سے بچنے کو اتنا عظیم ضرر عام واضراراسلام مستمر ومدام گوارا کیا،اب سوا اس کے کیا کہئے کہ" یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ(۲۶) "[4] (کسی طرح میری قوم جانتی۔ت)
(۳۸)عموم وخصوص ضرر سے قطع نظرآخر اتنا تو عالم کو بھی اقرار ہے کہ اس میں ہتك حرمت اسلام ہے پھر کون سی شریعت ہے کہ بعض اشخاص کو قید سے چھڑانے کے لئے مسجدیں بھینٹ چڑھانا اور ان کی حرمتیں پامال کرانا اور اس پامالی کو نظیر مستمر بنانا حلال ہے،زید کا باپ بیمار تھا اور بھائی کو زکام،ایك بڑاڈاکٹر جس کے ہاتھ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان بیماریوں کا یقینی علاج رکھا تھا دور سے اسے سن کرآیا،اور آیا بھی کیسا،یہ کہتا آیا میں تمہارے لئے پیام شفا لایا ہوں اور خاص تصریحًا برادر وپدر دونوں کا نام لے کر کہا کہ اسے بھی دوادوں گا اور اس کا بھی خاص توجہ سے پورا اطمینان بخش معالجہ کروں گا،بااینہمہ زید نے اپنے وہم خواہ کسی کمپوڈر کے کہنے سے یہ خیال دل میں پکا لیا کہ باپ جب تك زندہ ہے بھائی کو دوانہ دی جائیگی،لہذا بھائی کازکام جانے کےلئے باپ کو قتل کردیا،ایسی صورت کو کیا کہیں گے،یا نہ سہی یہی فرض کرلیجئے کہ ڈاکٹر نے وہ کچھ کہہ کر خود بھائی کے علاج کو باپ کی موت پر مشروط کردیا،کیا اس صورت میں بھائی کا زکام کھونے کو باپ کا قتل رواہے۔
[1] صحیح البخاری کتاب الادب باب لایلد غ المؤمن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۵،سنن الدارمی باب لایلدغ المومن من جحر مرتین نشر السنۃ ملتان ۲/ ۲۲۷
[2] فتح القدیر کتاب الوقف فصل اختص المسجد باحکام مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۵،بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۵،الدررالحکام شرع غرر الاحکام کتاب الوقف مطبعۃاحمد کامل ۲/ ۱۳۶
[3] الاشباہ والنظائر الفن الاول تنبیہ یحتمل ضرر الخاص لاجل دفع ضرر العام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۲۱
[4] القرآن الکریم ۳۶/ ۲۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع