30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پوچھتے ہیں مجرموں سے تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے(ت)
اور بالفرض وہ مکلف بالفروع نہ سہی ہم تو مکلف ہیں بحال جنابت وحیض مسجد میں جانا ضرور بیت اللہ کی بیحرمتی اور دربار ملك الملوك عَزَّ وَجَلَّ الہ کی بے ادبی ہے تو ہمیں کیونکر رواہوا کہ ایسی شنیع تجویز خود پیش کریں اور بیت اللہ کی حرمت پامال کرائیں،جانور تو بالاجماع مکلف نہیں،کیامسلمان کوروا ہے کہ کتے یا سوئر بلکہ ناسمجھ بچے یا مجنون کو مسجد میں چلتا دیکھے اور چپکا بیٹھارہے کہ وہ تو مکلف ہی نہیں حاشا حفظ مسجد پر یہ تو مکلف ہے اور ترك منع اس کا گناہ ہے کہ بے ادبی مسجد پر راضی ہوا یا کم از کم ساکت رہا، حدیث میں ارشاد ہوا:
جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم[1] رواہ ابن ماجۃ وعبدالرزاق عن واثلۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچاؤ۔(اسے ابن ماجہ اور عبدالرزاق نے واثلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا۔ ت)
جب احتمال بے ادبی پر غیر مکلفوں کو نہ روکنا خلاف حکم حدیث ہے تو مساجد کو بیحرمتی یقینی کے لئے خود پیش کرنا کس درجہ جرم شنیع وخبیث ہے۔
ثالثًا:اس میں جانوروں کا نہ جانا بھی ہر گز نہ ہوتا اگرچہ کہہ دیا جاتا کہ یہ پیدل کے لئے ہے،معہود معروف یہ ہے کہ پختہ سڑك جسے گولا کہتے ہیں اصالۃً صرف بگھیوں ٹمٹموں کے لئے بنتی ہے اور اس کے پہلوؤں پر جو راہ پیادوں کے لئے چھوڑ ی جاتی ہے بیل گاڑیوں،چھکڑوں،گائے بیلوں،گدھوں
کےلئے وہی ہوتی ہے،ولہذا ان میں سے جو چیز سڑك پر چل رہی ہے او رکوئی بگھی آجائے تو ان سب کو اسی پیادہ کی راہ میں ہٹنا ہوتا ہے ان کا استحقاق اسی میں سمجھا جاتا ہے اور معروف مثل مشروط ہے تو پیدل کے لئے کہنے کے یہ معنی ہیں کہ گھوڑا گاڑی کے سوا سب کےلئے ہے،آخر نہ دیکھا کہ جب آپ نے اس زمین کو سڑك سے کچھ مرتفع رکھنا چاہا یہ منظور نہ ہوا کہ اس میں گاڑیوں کی ممانعت تھی اور چھت آٹھ فٹ بلند ٹھہری کہ پیادہ کی حاجت سے بہت زائد ہے،لطف یہ کہ آپ اب بھی اسے زیر مسئلہ مذکورہ لانا چاہتے ہیں فاعتبرواٰیٰاولی الابصار۔
رابعًا: بفرض غلط اگر ممانعت ہوتی تو سواریوں کے لئے مگر گائے،بکری،بھیڑ کے گلے کوڑے اینٹوں کے گدھے نہ سوار ہیں نہ سواری،یہ قطعًا پیادہ ہی میں شامل رہتے۔
خامسًا: یہ بھی نہ سہی پیادہ گوروں اور جنٹلمینوں کے کتوں کا استثناء کیونکر ممکن تھا وہ تو ضرور پیادہ ہیں اور یہ ان کے دم کے ساتھ۔
سادسًا: جانے دو بھنگنیں کہ ٹوکرے لئے نکلتی ہیں وہ تو ہر طرح پیادہ آدمی ہیں ان کی ممانعت کس گھر سے آتی،تو آفتاب سے زیادہ روشن کہ یہ مسئلہ صرف اسلامی سلطنت کے ساتھ خاص ہے جہاں کفار تابع مسلمین ہوتے ہیں اور جہاں ہر طرح ہم احترام مساجد قائم رکھنے پر قادر ہیں غیر اسلامی عملداری میں اس کااجرا خود اصل مسئلہ کا ابطال اور مسجدوں کی صریح بیحرمتی وابتذال ہے۔
سابعًا: یہاں ایك نکتہ جلیلہ دقیقہ اور ہے جس پر مطلع نہیں ہوتے مگر اہل توفیق"وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳) "[2] (اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ت) وہ یہ کہ مسجد میں کسی امر کا جواز اور بات ہے اور اس کا استحقاق اور۔صورت مذکورہ علماء میں حکم جواز ہے نہ حکم استحقاق کہ مساجد توجمیع حقوق عباد سے ہمیشہ کے لئے منزہ ہیں، قال اﷲ تعالٰی "وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ "[3] (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور یہ کہ مسجد یں اللہ ہی کی ہیں۔ت)تو حکم صرف سلطنت اسلامیہ میں چل سکتا ہے غیر اسلامی سلطنت میں جو ممر بنایا جائیگا ضرور اس میں کفار خصوصًاحکام کا مرور بطور دعوی واستحقاق ہوگا اور یہ قطعی ابطال مسجدیت وہتك حرمت اسلام وخلاف کلام ذی الجلال والاکرام ہے اگرچہ بفرض محال ہر طرح کا احترام قائم ہی رہے تو سلطنت غیر اسلامیہ کے لئے یہ مسئلہ قرار دینا صریح جہل وظلم عظیم ہے،انہیں سات وجوہ پر نظرفرمانے سے واضح ہوسکتا ہے کہ"مِن،الٰی،فی،علٰی،"کاترجمہ جان لینا فقاہت نہیں فقاہت چیزے دیگر ست۔
ایں سعادت بزور بازونیست تانہ بخشدخدائے بخشندہ
(یہ سعادت زور بازو سے حاصل نہیں ہوتی جب تك عطا فرمانے والا مالك عطانہ فرما ئے)
ثامنًا: [ف:ضرورت کی بحث]رہی ضرورت تنگی،اس کا حال ظاہر ہے کہ پیدل تو پیدل گاڑیوں کے لئے وسیع سڑك موجود ہے، علماء نے یہاں یہی ضرورت تحریر فرمائی ہے اور یہی حکم جواز فی نفسہ کا کفیل ہے،ضرورت اکراہ شرعی نہ یہاں متحقق نہ اس میں یہ صورت صادق،اس سے جواز شے فی نفسہ نہیں ہوتا رفع اثم ہوتا ہے،وہ بھی صرف مکرہ سے،وہ بھی صرف وقت اکراہ،وہ بھی صرف اتنی بات پر جس پر اکراہ ہوا،اگر بعض اوہام الٹے چلے تو ان شاء اللہ الکریم اس وقت ان مباحث جلیلہ کی تفصیل کردی جائے گی جس سے روشن ہوگا کہ یہاں ادعائے ضرورت اکراہ کیسا جہل شدید تھا،بالجملہ یہ تدبیر بھی محض باطل و ناصواب تھی اور اتنا خود عالم کو اسی تقریر میں اقرار ہے کہ نہایت تنزل اور بقول ضعیف اور مخلص کے طور پر صورت مجوزہ ہے بہر حال وہ بھی ممبروں نے منظورنہ کی اس وقت عالم نے یہ دوسری تجویز نکالی جس پر تصفیہ ہوا کہ چھتا مسجد اور زمین سڑک۔تقریر مذکور میں ہے:اس گفتگو میں تمام وقت صرف ہوگیا مصالحت کی امید منقطع ہوگئی اسوقت میں نے یہ صورت پیش کی کہ سردست ہم کو دالان کی چھت پر قبضہ دے دیں کہ ہم بنائیں۔اس کے بعد ایك فقرہ دھوکا دینے والا ہے کہ اور زمین بھی دے دیں اس کو بھی ہم ہی بنائیں حسب قواعد میونسپلٹی جو تمام عمارات کے واسطے عام ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ زمین ہم کو واپس مل جائے ہم اس پر پہلی سی عمارت بنالیں،اس سے آسان ترکہ تدبیر اول میں تھا وہ تو ممبر نے مانا نہیں اس کے بعد اس کے کہنے کی کیا گنجائش ہوتی ہے اور کہا جاتا تو مانا کیوں جاتا اور یہ وہ کہا گیا جو مانا گیا کہ اس کی نسبت تقریر مذکور میں ہے:غرضیکہ تینوں دفعات حسب دلخواہ طے ہوگئے۔پھر باریابی گورنمنٹ اور ہار پہنانے کا ذکر کرکے کہا:اس کے بعد موافق تجویز دی روزہ تینوں مقاصدہمارے حاصل ہوئے۔یعنی جواب ایڈریس ان کے مطابق ملا تو زمین دے دیں اس کو بھی ہم ہی بنائیں،کے وہ معنی ہیں جوجواب ایڈریس میں ہے کہ متولیوں کو ایك چھتا دار محراب بنالینی چاہئے اور ان عمارات کے نیچے بھی ایك گزرگاہ تعمیر کرلینی چاہئے جو میونسپل بورڈ کی مجوزہ تجاویز کے عین مطابق ہے۔غرض تجویز پیش کردہ عالم کا یہ حاصل تھا کہ ہم کو ایك چھتا بنالینے دیا جائے جو مسجد ٹھہرکر ہمارے قبضہ میں رہے اور اس کے نیچے سڑك چلے اور یہ سعادت بھی ہمیں کوبخشی جائے کہ زمین مسجد پر یہ سڑك ہم ہی تعمیر کریں جو بعینہ تجویز چونگی ہے۔
[ف:تجویز دوم کی شناعتیں] اس تجویز کا حال مجوز کا قال بتارہا ہے،تدبیر اول کہ نامنظو رہوئی اسے نہایت تنزل بتایا تھا اور نہایت کے بعدکوئی درجہ باقی نہیں رہتا تو یہ تجویز کہ اس سے بدرجہا گری ہوئی ہے کسی تنزل پر بھی دائرہ حکم شرعی میں نہیں آسکتی بلکہ حکم کی صریح تبدیل ناقابل تاویل ہے، تدبیر اول کو بقول ضعیف کہا تھا تو اس کے لئے کوئی ضعیف روایت بھی نہیں محض باطل وایجاد بندہ ہے تدبیر اول کو مخلص کے طور پر کہا تھا تو یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع