دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

مکر رہے:میں کانپور اسی لئے آیا ہوں تاکہ پیغام امن لاؤں۔اور مسئلہ احترام مذہبی کےلئے وہ قیمتی الفاظ پڑھئے:میرے لئے یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ جو یقین میں نے کونسل کے اجلاس میں اس بارے میں دلائے ہیں کہ رعایا کے مذہبی عقائدکے متعلق گورنمنٹ کی پالیسی میں کوئی تغیر نہ ہو ااس کو دہراؤں اس لئے کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ ایك واقعی بات ہے۔ یہ لفظ تو عام آزادی مذہبی کے متعلق تھے اور خاص مسئلہ مساجد کے متعلق سنئے:ممکن ہے کہ سڑکوں ریل نہروں کی تعمیر مذہبی عمارتوں کے ساتھ ٹکرائے لیکن آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ گورنمنٹ کافی توجہ سے تمام مطالبات پر غور کرے گی اور ہمیشہ کوشش کرے گی کہ مسئلہ متنازعہ اس طور حل کرے جو تمام اشخاص متعلقہ کے لئے قابل اطمینان ہو۔ایسی صورت میں صرف امر اول سے فائدہ لینا اور امر دوم کہ وہی اصل مرام وخاص مسئلہ احترام اسلام تھا،یوں چھوڑ دینا کیونکر صواب ہوسکتاہے،نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔

جواب استفسار دوم پر نظر

(۲۱)استفسار تو یہ تھا کہ جس امر پر صلح ہوئی وہ کس کی تجویز تھا،اس کا یہ جواب کیا ہو اکہ گورنمنٹ نے خود مصالحت کی خواہش کی اس امر پر کہ مقدمات اور دعاوی کے بارے میں کوئی سمجھوتا ہوجائے،کس نے پوچھا تھا کہ خواہش صلح کدھر سے ہوئی اس سمجھوتے ہی کوپوچھا تھا کہ کس کی رائے کا ایجاد تھا اس کا کچھ جواب نہ ہوا۔

(۲۲)[ف:فیصلہ کانپور پر ایك نظر کارد بلیغ]سائل فاضل نے اگرچہ جواب استفسار نہ دیا مگر خود عالم کی تقریر کہ بعنوان"فیصلہ کانپور پر ایك نظر"ہمدرد وغیرہ میں چھپی وہ اس کے جواب کی کفیل ہے اس میں صاف اعتراف ہے کہ چھتا بناکر اس پر قبضہ ملنے اور زمین پر سڑك چلنے کی تجویز خود عالم نے اپنی طرف سے پیش کی وہی منظور ہوئی اس تجویز کا حال اوپر معلوم ہوچکا،اوریہ بھی کہ خود عالم کو اس کا خلاف احکام اسلامیہ ہونا مسلم ہے مگر عالم کی تقریر مذکور اس تجویز کی حالت اور بھی واضح کرتی ہے۔

[ف:عالم کی پہلی تدبیر نامنظور شدہ اور اس کا صریح باطل و خلاف شرع ہونا] تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم نے پہلے تو یہ تدبیر نکالی کہ اس زمین کو مسجد کا ممربنادیں اور اس کےلئے مسجد کا دروازہ اس طرف نکالیں کہ اصل ممر مسلمانوں کےلئے ہو پھر ضمنًا کوئی دوسرا بھی اس طرف سے اس طرف گزر جائے تو ہم اس کو مانع نہیں ضرورت کے وقت اجازت ہوسکتی ہے بشرطیکہ احترام اس جز کا مثل احترام دیگر اجزائے مسجد کے قائم رہے،ا ور غالبًا اسی تحفظ و احترام کے لئے یہ چاہاتھا کہ اس حصہ زمین کو سڑك سے مرتفع بنایا جائے یعنی تاکہ پیدل کے سوااوروں کا گزرنہ ہو۔اس تدبیر میں عالم کی نظر اس مسئلہ پر تھی کہ راستہ جب پیدل پر تنگی کرے تو بضرورت مسجد میں ہوکر لوگ ادھر گزرسکتے ہیں یوں کہ مسجد بحال خود برقرار رہے اس میں کوئی فرق اصلًانہ آئے ولہذا شرط ہے کہ یہ مسجد میں ہوکر نکل جانے والے جنب وحائص ونفسانہ ہوں نہ اس میں جانور لیجائیں کہ مسجد میں ان کا جانا اور ان کا لے جانا حرام ہے۔

[ف:مسئلہ ممر فی المسجد کی جلیل تحقیق اور یہ کہ وہ سلطنت اسلامیہ کے ساتھ خاص ہے ]

اقول:یہ گزر اصالۃً مسلمانوں کےلئے ہے کہ مسجدوں سے کافروں کو کیا علاقہ،

الاتری الی تعلیلہم بانھما للمسلمین[1]  کما فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔

ان کایہ علت بیان کرنا آپ نے نہ دیکھا کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہے،جیسا کہ درمختار وغیرہ معتبر کتب میں ہے(ت)

مگر جبکہ راستہ پیدل تنگ ہے اور گزر کی حاجت کافر کو بھی ہے اور کافر ذمی بلکہ مستامن بھی تابع مسلم ہے تو بالتبع ضمنًااسے بھی منع نہ کریں گے۔

وکم من شیئ یثبت ضمنا ولا یثبت قصدًاوھذا معنی قول العلماء حتی الکافر[2] فظھر الجواب عما اعتراض بہ العلامۃ الطحطاوی علی جعلہ غایۃ [3]وﷲ الحمد ولا حاجۃ الی مااجاب بہ العلامۃ الشامی وﷲ الحمد وظھر الجواب عما ظن العلامۃ شیخی زادہ فی مجمع الانھر من التعارض بین تعلیلیھم بان کلیہما للمسلمین و بین قولھم حتی الکافر[4] وﷲالحمد۔

کئی چیزیں ضمنًا ثابت ہوتی اور قصدًا ثابت نہیں ہوتیں اور علماء کے قول(حتی الکافر)حتی کہ کافر،کایہی معنی ہے تو علامہ طحطاوی نے اس کو غایت قرار دے کر جو اعتراض کیا ہے،اس سے اس کا جواب ظاہر ہوگیا،ﷲ الحمد،اور علامہ شامی نے جو جواب دیا اس کی بھی حاجت نہ رہی،وﷲ الحمد،نیز اس سے علامہ شیخی زادہ نے مجمع الانہر میں اپنے خیال سے فقہاء کرام کی تعلیل کہ دونوں مسلمانوں کے لئے،اور فقہاء کرام کے قول"حتی الکافر"میں جو تعارض سمجھا اس کا جواب بھی ظاہر ہوگیا،وﷲ الحمد(ت)

مسئلہ تو یہاں تك بجا و صحیح یا کم از کم ایك قول پر ٹھیك تھا مگر موقع سے اسے متعلق سمجھنے میں ایك دو نہیں بکثرت خطائیں ہوئیں جن میں تین خود عالم کے تین لفظوں سے ظاہر ومبین(۱)ضمنًا(۲)احترام(۳)ضرورت ظاہر ہے کہ اگر یہ صورت ہو تی تو  اولًا:کفار کا گزر ہر گز ضمنًا نہ ہوتا بلکہ اصالۃً جس کا انکار صریح مکابرہ ہے اور وہ نہ صرف اس عالم کے اقرار بلکہ یقینا مراد علماء کے خلا ف ہے،زمانہ ائمہ میں مساجد تو مساجد دارالاسلام کی سڑك یا افتادہ زمین ہی پر چلنے والا کافر نہ ہوتا مگر ذمی کہ مطیع اسلام ہے یا مستامن کہ سلطان اسلام سے پناہ لے کر داخل ہوا،اور یہ دونوں تابع اسلام ہیں آخر نہ دیکھا کہ انہیں عبارات میں علماء نے مساجد کی طرح مطلق راستوں کو بھی مسلمانوں کے لئے بتایا کہ اور ہیں تو ضمنی وتابع ہیں۔

ثانیًا: یہاں احترام ناممکن تھا جنب وحائض کی ممانعت پر اصلًا اختیار نہ ہوتا خصوصًا کفار کو اجازت ہوکر،اور اس ممانعت کو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کرنا محض ظلم ہے،صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلف بالفروع ہیں۔قال اﷲ تعالٰی:

" یَتَسَآءَلُوْنَۙ(۴۰) عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ(۴۱) مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴) وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ(۴۵) وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ(۴۶) "[5]

 



[1]     درمختار،کتاب الوقف ۱/ ۳۸۲ 

[2]     درمختار کتاب الوقف ۱/ ۳۸۲ 

[3]     طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوقف دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۵۴۳

[4]     مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الوقف فصل اذبنی مسجداً داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۷۴۸

[5]      القرآن الکریم۷۴/ ۴۰تا۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن