دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

مذہب بھی نظر توفیق میں یہاں مختلف نہیں ہر ایك اپنے محمل پر صحیح وبجا ہے اور بالفرض اختلاف ہے تو نہایت خفیف جو قطعی تحفظ کلی ہر حصہ مسجد پر اجماع کے بعد صرف ایك زائد بات میں ہوا ہے جس سے حفظ جملہ اراضی مساجد پر معاذاللہ  کوئی اثر نہیں پڑسکتا ہم بتوفیق اﷲ تعالٰی  ان مباحث جلیلہ کو ایك مستقل فتوے میں رنگ ایضاح دیں گے۔

[ف:فقاہت کے کیا معنی ہیں]فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے یوں تو ہراعرابی ہر بدوی فقیہ ہوتا کہ ان کی مادری زبان عربی ہے بلکہ فقہ بعد ملاحظہ اصول مقررہ و ضوابط محررہ ووجوہ تکلم وطرق تفاہم وتنیقح مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط وتجنب تفریط وافراط وفرق روایات ظاہرہ ونادرہ وتمیز درآیات غامضہ وظاہر ومنطوق ومفہوم وصریح ومحتمل وقول بعض وجمہور ومرسل ومعلل ووزن الفاظ مفتین وسیر مراتب ناقلین وعرف عام وخاص وعادات بلاد واشخاص وحال زمان ومکان واحوال رعایا و سلطان وحفظ مصالح دین ودفع مفاسد ین وعلم وجوہ تجریح واسباب ترجیح ومناہج توفیق ومدارك تطبیق ومسالك تخصیص ومناسك تقیید ومشارع قیود وشوارع مقصود وجمع کلام ونقد مرام فہم مراد کانام ہے کہ تطلع تام واطلاع عام ونظر دقیق وفکر عمیق وطول خدمت علم و ممارست فن وتیقظ وافی وذہن صافی معتاد تحقیق مؤید بتوفیق کاکام ہے،اور حقیقۃً وہ نہیں مگر ایك نور کہ رب عَزَّ وَجَلَّ  بمحض کرم اپنے بندہ کے قلب میں القا فرماتا ہے:

"وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)"[1]۔

اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو،اور اسے نہیں پاتامگر بڑے نصیب والا۔(ت)

صدہا مسائل میں اضطراب شدید نظر آتا ہے کہ ناواقف دیکھ کر گھبراجاتا ہے مگر صاحب توفیق جب ان میں نظر کو جولان دیتا اور دامن ائمہ کرام مضبوط تھام کر راہ تنقیح لیتا ہے توفیق ربانی ایك سررشتہ اس کے ہاتھ رکھتی ہے جو ایك سچا سا نچا ہوجاتا ہے کہ ہر فرع خود بخود اپنے محمل پر ڈھلتی ہے اور تمام تخالف کی بدلیاں چھنٹ کر اصل مراد کی صاف شفاف چاندنی نکلتی ہے اس وقت کھل جاتا ہے کہ اقوال سخت مختلف نظرآتے تھے حقیقۃً سب ایك ہی بات فرماتے تھے،الحمد ﷲ فتاوائے فقیر میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی وﷲ الحمد تحدیثا بنعمۃ اﷲ وما توفیقی الا باﷲ،وصلی اﷲ تعالٰی  علی من امدنا بعلمہ وایدنا بنعمہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وبارك وسلم اٰمین والحمدﷲ رب العٰلمین۔

(۱۳)[ف:اس مصالحت کی تین نظیریں] کیا کوئی ہند وروارکھے گا کہ اس کا شوالہ توڑ کر سڑك کردیا جائے جس پر عام مسلمانوں اور گوشت کے ٹکڑے لے کر قصاب گزرا کریں اوراس پر ایك چھجا یا چھتا بنے وہ ہندووں کے قبضے میں رہے کیا وہ اسے زمین شوالہ پر اپنا قبضہ سمجھے گاکیا وہ اس کارروائی کو حسب دلخواہ موجب اطمینان اور اس دن کو نہایت مسرت خیز اور ہندو دھرم کی تاریخ کا زریں دن اور ہر طرح اس کا احترام قائم رکھنا کہے گا،لیکن ایك اسلامی عالم نے مسجد کے ساتھ یہ کارروائی کی اور اس کی نسبت ان تمام الفاظ سے مدح سرائی کی فاعتبروایٰاولی الابصار۔

(۱۴)کیا اگر شوالہ کے ساتھ مسلمان ایسا کرتے تو گورنمنٹ ان پر مداخلت مذہبی اور توہین مذہب کاجرم قائم نہ کرتی ضرور کرتی،کیا گورنمنٹ اپنے لئے مذہبی دست اندازی وتوہین مذہب جائزرکھتی ہے ہر گز نہیں،مگر جب اسلامی عالم ہی اسے نہایت مسرت خیز اور زریں دن اور احترام اسلام کا پورا قیام کہے تو گورنمنٹ کی کیا خطا ہے۔

(۵)کیا اگر عالم کے مکان سکونت کے ساتھ یہ طریقہ برتا جائے کہ مکان کھود کر مسلمان یاہندو سڑك یا دنگل بنالیں اور اس پر چھت پاٹ کر ہوا دار جھرو کے عالم کے بسنے کو دیں تو عالم ان ہندو یا مسلمانوں پر نالشی نہ ہوگا کیا وہ اسے زمین مکان پر اپنا قبضہ قائم رہنا سمجھے گا کیا وہ اسے اپنے حق میں دست اندازی وتعدی نہ کہے گا۔فاعتبروا یٰاولی الابصار۔

(۱۶)امور مصالحت میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہو یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھے۔لیکن ا س مصالحت کے بعد جو ایڈریس پیش ہوا اس کے لفظ یہ ہیں:ہم ان لوگوں کی کارروائی کو ملامت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔اگر قانون کی خلاف ورزی کرنے والا قانونی مجرم نہیں تو اور کون ہے۔پھر گورنمنٹ کا جواب روزانہ ہمدرد ۱۶/اکتوبر میں یہ ہے:اب میں ان لوگوں کی نسبت کچھ کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے۳اگست کو بلوہ کا ارتکاب کیا۔اسی میں ہے:گورنمنٹ کا فرض تھا کہ قیدیوں پر مقدمہ چلائے اور انہیں سزادے مگر وہ کافی سزا بھگت چکے ہیں۔اسی میں ہے:میں ان لوگوں پر بھی رحم کرتا ہوں جنہوں نے بلوے کی اشتعالك دی اور اس طرح سے اس نقصان رسانی کے مرتکب ہوئے جواب تك ہوچکا ہے اور اس لئے کسی خاص سلوك کے مستحق نہیں رہے۔تو ضرورمجرم وسزا وار سزا ٹھہرکر کافی سزا بھگت کر رحم کئے گئے نہ یہ کہ ان کو مجرم قرار ہی نہ دیاجائے۔

(۱۷)[ف:مصالحت مسجد سے دست برداری پر کی] امور مصالحت میں تیسری بات یہ ہے:گورنمنٹ مقدمات اٹھالے مسلمان مرور کے لئے کوشاں رہیں گے البتہ مقدمات دیگر امور کے متعلق کچھ نہ کریں گے۔اس کا حاصل طرفین سے ترك مقدمات ہے مگر مسلمانوں کے لئے دعوی مسجد کا استثنا۔یہاں دو قسم کے دعوے تھے:دعوی دیوانی دربارہ زمین مسجدکہ مسلمان کرتے دعوی فوجداری دربارہ بلوٰی کہ گورنمنٹ کی طرف سے دائرتھا۔مسلمانوں کو دعوی دوم میں اپنی ہی جان چھڑانی پڑی تھی نہ کہ وہ الٹے اس میں مدعی بنتے،تو ادھر سے نہ تھا مگر دعوی مسجد،اور مصالحت میں ضرور طرفین سے ترك مقدمات قرار پایا توحاصل مصالحت صرف اتنا نکلا کہ گورنمنٹ قیدیوں کو چھوڑدے مسلمان مسجد چھوڑتے ہیں،ا س سے زیادہ محض الفاظ ہیں کہ یا تو مخیلہ سے باہر ہی نہ آئے یا زبان تك آکر نا مقبول رہے،بہر حال ان کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پر مصالحت کی،ولہذا بعد کی عملی کارروائیاں اطمینان کے جوش اور خود عالم کی تقریریں جن کابیان اوپر گزرا سب استثنائے مذکور کی غلطی پر دلیل ہیں اس پر صلح ہوئی ہوتی تو اپنی مجلس مؤید الاسلام کا جلسہ خالص مسرت اور نہایت مسرت کا جلسہ نہ ہوتا بلکہ مسرت ماتم آمیز کا ایك آنکھ ہنستی تو ایك روتی یہ نہ کہا جاتا کہ مسلمانان ہند کو اطمینان اور دلجمعی نصیب ہوئی۔بلکہ یوں کہا جاتا کہ مسلمانو!فرع میں تمہاری فتح ہوئی اور اصل ہنوز باقی ہے اٹھو اور اس کے لئے انتہائی جائز کوششیں کرو۔

(۱۸)نیز اس کے غلط ہونے کی ایك کافی دلیل وہ ہے جو ہمارے سائل فاضل نے جواب استفتاء سوم میں لکھا کہ گورنمنٹ نے قیدیوں کو بلا مقابلہ کسی امر کے چھوڑنا نہ چاہا بلکہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیں۔دیکھئے اس میں استثناء نہیں۔

(۱۹)آگے گورنمنٹ کی دوسری شرط بتائی کہ مسلمان مسجد کی زمین پر بعینہٖ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریں۔یہاں نفی استثنا ہوگئی اگر مسلمانوں کو دعوی زمین کی اجازت رہتی اور ضرور ممکن کہ وہ ڈگری پاتے تو بعینہ اسی طریقے کی عمارت بنانے سے کیوں ممنوع ہوتے اس کے صاف یہی معنی ہیں کہ ایسی عمارت بنالو جس کی چھت سے کام لو اور زمین پر دعوٰی نہ کرو۔

(۲۰)[ف:گورنمنٹ نے اسلام کو فائدہ دینا چاہا مگر مصالحت والوں نے روك دیا] جواب ایڈریس میں ہے مجھے پورے طور پر بھروسا ہکہ مسئلہ مسجد کا جو حل میں نے کیا ہے اس سے ہندوستان کی تمام مسلمان آبادی مطمئن ہوجائے گی۔گورنمنٹ کے یہ الفاظ اور صلح میں اس قرار داد کا بیان کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا۔دونوں ملاکر دیکھئے صاف کھل جائے گا کہ وہ استثناء نہاں خانہ خیال ہی میں تھا،یاکہا اور منظور نہ ہوا،لا جرم تمام زوائد چھنٹ کر اصل بات نکل آئی جتنے پر عالم نے مصالحت ٹھہرائی کہ گورنمنٹ ہمارے آدمی چھوڑ دے ہم نے مسجد چھوڑدی یہ وہی دلی کمزوری اور دہلی کے بم کا تجربہ دیکھ کر بھی گورنمنٹ پر ضد اور جبر کی بدگمانی سے ناشئی ہوا حالانکہ یہ بالکل وسوسہ گورنمنٹ دونوں باتوں میں مسلمانوں کے صاف موافق تھی قیدیوں کی رہائی کےلئے جواب ایڈریس کے وہ لفظ دیکھئے:میں خاص شملہ سے اس غرض سے آیا ہوں تاکہ آپ کے واسطے پیغام امن لاؤں۔آخر میں



[1]      القرآن الکریم ۴۱/ ۳۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن