دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

مسلمانوں کے ہو ااور ان سب باتوں کی تصدیق وہ عالم کراسکتا ہے اس نے کسی حکم مخالف شرع کو بلا جبر واکراہ خود امر طے شدہ قرار دے کر جائز چارہ جوئی کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ جس کو جمہور علما ناجائز کہتے تھے اس کو اس نے بھی ناجائز قرار دیا اور صاف ظاہر کردیا کہ برابر اس کی چار ہ جوئی جائز طور پر کی جائے گی کسی قسم کی دشواری نہیں پیدا کی کیونکہ بے قاعدہ حرکات کو کوئی نہیں روك سکتا اور باقاعدہ احکام اسلامیہ کی چارہ جائی ہر وقت ہوسکتی ہے دیوانی کے مقدمات ہر طرح کے دائر کئے جاسکتے ہیں اور آئندہ کے لئے نظیرتو درکنار ایك مختتم قانون تحفظ معابد کا بنایا جانا قرار دلوادیا گیا ہے جس سے خود حسب تصریح ممبر متعینہ اس متنازعہ فیہ حصہ کا بھی مسلمانوں کے موافق ہونا متوقع ہے اس عالم کی رائے ہے کہ یہ قبضہ وحق مشترك مرور قابل اطمینان نہیں بلکہ حدود و سلامت روی کے اندر رہ کر گورنمنٹ پر اس امر کا خلاف قوانین اسلامیہ ہونا ظاہر کریں اور گورنمنٹ کا مستمر قانون کہ مذہبی دست اندازی نہ کرے گی یاد دلاکر بلاضرر واضرار فائدہ پائیں اس صورت میں عالم مصیب ہے یانہیں،امید ہے برتقدیر صدق مستفتی جواب صاف عطا فرمایا جائے۔

جواب از  دار الافتاء

وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جواب استفسارات باعث مشکوری ہے طرح و جرح منظور نہیں بلکہ انکشاف حق جس کے لئے ہر مسلمان کو مستعد رہنا چاہئے،لاسیما اہل علم،جوابات نہ تو کافی ہیں نہ مفید براءت اگرچہ مجھ سے صرف برتقدیر صدق مستفتی جواب چاہا گیا اور منصب افتا کی اتنی ہی ذمہ داری تھی کہ صورت مستفسرہ پر جواب دے دیا جاتا مگر میں نے ایك مدت تك تعویق کی،اخبارات منگا کردیکھے کہ نظر بواقعات اس کارروائی کی کوئی صحیح تاویل پیدا ہوسکے مگر افسوس کہ جتنا خوض و تفتیش سے کام لیا اس کی شناعت ہی بڑھتی گئی،ناچار جواب خلاف احباب دینا پڑا کہ اظہار حق لازم تھا،عالم مذکور سے مراسم قدیم حفظ حرمت اسلام ورفع غلط فہمی عوام پر بحمداللہ تعالٰی  غالب نہ آسکتے تھے کہ ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ  نے فرمایا:

" یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ"[1]

اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ  کےلئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو۔(ت)

بلکہ حقیقۃً حق دوستی یہی ہے کہ غلطی پر متنبہ کیا جائے۔حدیث میں ارشاد ہوا:

اُنصُر اخاك ظالما او مظلوما قالوایارسول اﷲ وکیف ذٰلك قال صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان یك ظالما فارددہ عن ظلمہ وان یك مظلوما فانصرہ[2]،رواہ الدارمی وابن عساکر عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی  عنہما۔

اپنے بھائی کی مدد کر و چاہے وہ ظالم ہو یامظلوم،صحابہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ کیسے۔حضور نے فرمایا:ظالم ہونے کی صورت میں اسے ظلم سے روك دو اور مظلوم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کرو۔اسے دارمی اور ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا۔(ت)

لہذا امید واثق ہے کہ جواب سوال میں اظہار حق سنگ راہ مراسم قدیمہ نہ ہوگا اور زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہمارے قدیمی دوست عالم نے اسی معاملہ پر ایك تقریر کی ابتداء میں(جو روزانہ زمیندار ۲۱ذی الحجہ میں چھپی)یوں داد حق جوئی دی کہ"میں ان لوگوں کا دل سے اور خدا کی قسم دل سے مشکور ہوتا ہوں جو میرے عیوب مجھ سے خواہ لوگوں سے کہہ کر میرے اوپر مربیانہ شفقت کا احسان رکھتے ہیں،یہ لوگ میرے محسن ہیں"جب بیان عیوب اور وہ بھی ابتداءً اس درجہ موجب شکر گزاری ہے تو بیان مسئلہ شرعیہ میں اظہار حق اور وہ بھی بعد سوال مراسم قدیمہ میں کیاخلل انداز ہوسکتا ہے۔وباﷲالتوفیق۔

جواب استفسار اول پر نظر

(۱)[ف:قبضہ زمین کی بحث ]اس سوال کے جواب میں کہ عالم نے مصالحت کیا کی،تین باتوں پر صلح ہونی بتائی گئی ازانجملہ اصل معاملہ کی نسبت یہ ہے کہ مسجد کی زمین پر گورنمنٹ مسلمانوں کو قبضہ دلادے کسی بات پر مصالحت ہونا فریقین میں اس کا طے ہوکر قرار پانا ہے،اگر یہ امر قرار پاتا تو اسی کے مطابق وقوع میں آتا مگر ایسا نہ ہوا جو اب ایڈریس میں گورنمنٹ کے لفظ جو روزانہ ہمدرد ۱۶/اکتوبر میں چھپے صاف یہ ہیں:میں اس امر کو کچھ بھی وقیع اور اہم خیال نہیں کرتا کہ وہ زمین جس پر وہ دالان تعمیر ہوگا کس کے قبضہ میں رہے گی   ع

ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا

(یہ تفاوت دیکھ کہ راستہ کہاں ہے اور تو کہاں)

(۲)ہاں اس پر چھتا بناکر چھت پر قبضہ اور زمین کو سڑك کردینا ٹھہرا ہے کیا چھت اور زمین دو مترادف لفظ ہیں یا چھت کا قبضہ زمین پر بھی قبضہ ہوتا ہے،علو وسفل کے مسائل جو عام کتب فقہیہ میں مذکور ہیں ملحوظ نظر رہیں جواب ایڈریس مذکور میں ہے کامل غور کے بعد میں اس فیصلہ پر پہنچا ہوں کہ آٹھ فٹ بلند ایك چھتا اور اس پر دالان تعمیر کردیا جائے نیچے ایك سڑك نکل آئے جس سے عمارت میں مداخلت نہ ہو۔

(۳)عالم نے اس مصالحت میں زمین پر قبضہ مسلمانان سے صرف مسلمانوں کا خالص قبضہ مراد لیا یا قبضہ عام خلائق کے ضمن میں عامہ کے ساتھ انہیں بھی ایك حق دیا جانا،برتقدیر دوم یہ درخواست کتنی بیمعنے تھیزمین سڑك میں ڈال لینے پر بھی عام کے ساتھ مسلمانوں کو حق مرور رہتا گورنمنٹ نے کس دن کہا تھا کہ یہ سڑك خاص کفار کے لئے بنے گی کوئی مسلمان اس پر نہ چل سکے گا۔برتقدیر اول کون سا خاص قبضہ مسلمانوں کو ملنا ٹھہرا کہ جبکہ جواب ایڈریس مذکور کے صاف لفظ یہ ہیں:یہ ضروری ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك استعمال کرنے کے مجاز ہوں۔

(۴)قبضہ زمین کا حال جواب استفسار میں خود ہی کھول دیا کہ قبضہ دلادے کے بعد متصلًا کہا اگر جبرًا گورنمنٹ اس کے مرور کو مشترك کرتی ہے تو خلاف احکام اسلامیہ ہے اس سے مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے۔صاف کھل گیا کہ قبضہ ہوا پر ٹھہرا ہے زمین مرور مشترك کےلئے چھوڑی ہے جسے دوسرے لفظوں میں شارع عام یا سڑك کہئے اس کا مطالبہ دور آئندہ پر اٹھا رکھنا بتایا ہے حالانکہ یہی یہاں اہم مسئلہ بلکہ تمام اصل معاملہ تھا اسی کو نظر انداز کرنا اور عالم کی مصالحت سمجھنا کس قدر عجیب ہے مصالحت رفع نزاع ہے نہ کہ اصل مبناء و منشاء نزاع مہمل و معطل اور دور آیندہ کی امید موہوم پر محول نہ ایقائے نزاع ہے نہ قطع ورفع۔ہاں اگر اس کے معنی یہ تھے کہ عالم نے مسجد سے دست برداری دی جیساکہ مولوی عبداللہ  صاحب ٹونکی وغیرہ نے اس کارروائی سے سمجھا اور پسند کیا تو ضرور قطع نزاع ہوئی اگرچہ باز دعوٰی دینا شرعًا مفہوم صلح میں آنا دشوار ہو خیر ایں ہم بر علم۔مگر بعد کے الفاظ کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے اس تاویل کو بھی نہیں چلنے دیتے تو اسے مصالحت مشہور کرنا مسلمانوں اور گورنمنٹ دونوں کو غلط بات باور کرانا ہوا۔

 



[1]                     القرآن الکریم ۴/ ۱۳۵

[2]                      صحیح البخاری کتاب الاکراہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۷،صحیح مسلم،سنن الدارمی باب ۴۰انصراخاک الخ نشر السنۃ ملتان ۲/ ۲۲۰،مختصر تاریخ دمشق ترجمہ ۲۹ حسن بن فرج دارالفکر بیروت ۷/ ۵۹،تہذیب تاریخ دمشق ترجمہ ۲۹ حسن بن فرج داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۴۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن