30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)جب ان پر حکم کفر نہیں تو ان کے ہاتھ کاذبیحہ کیوں نادرست ہوگا؟
(۳)جو لوگ اس تقدیر پر فساق ومرتکب کبائر ہیں ان سے ابتدابہ سلام ناجائز ہے اور بغرض زجر وتنبیہ ترك راہ ورسم بہتر ہے اور جب راہ ورسم نہ ہوگی تو اپنی شادیوں میں بلانا اور نکاح پڑھوانا بھی نہ ہوگا لیکن اگر وہ نکاح پڑھائیں تو اس نکاح میں کوئی جرم لازم نہ آئے گا۔
(۴)ضرور ہے مگر جبکہ ضرار ہونا یقینا ثابت ہو۔دو جماعتوں میں رنجش ہوئی اور ایك جماعت دوسری کی مسجد میں بخوف فتنہ آنا نہ چاہے اور مسجد میں نماز پڑھنا ضرور،لہذا وہ اپنی مسجد بنائے تو اسے مسجد ضرار نہیں کہہ سکتے،مسجد ضرار اسی صورت میں ہوگی کہ اس سے مقصود مسجد کو ضرر دینا اور جماعت مسلمین میں تفرقہ ڈالنا ہو،نیت امر باطن ہے محض قیاسات وقرائن کا لحاظ کرکے ایسی سخت بات کا حکم نہیں دے سکتے خصوصًا اس حالت میں جبکہ وہ جدامسجد بنانا نہیں چاہتے بلکہ جو مسجد پہلے موجودتھی اس کا احیاء چاہتے ہیں۔
(۵)ایسے شخص کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی،جبکہ صورت واقعہ یہ ہوجو سائل نے ذکر کی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
(۶)اگر امر مذکور ثابت ہو تو اس میں کسی طرح مدد دینا جائز نہیں۔
(۷)یہ مسئلہ لوگوں میں غلط مشہور ہے ذبح بقر کوئی جرم نہیں،نہ اس پر اجرت لینا ممنوع،تو اس وجہ سے امامت میں کیاحرج ہوسکتا ہے۔
(۸)نماز جمعہ کے شرائط سے ایك شرط یہ ہے کہ خود سلطان اسلام پڑھائے یا اس کا نائب یا اس کا ماذون اور جہاں یہ نہ ہوں وہاں بضرورت مسلمانوں کا کسی کو امام مقرر کرلینا معتبر رکھا ہے ایسی بستی میں جبکہ جمعہ قائم ہے اور ایك امام مقرر کر دہ مسلمین موجود ہے تو بلاوجہ شرعی چند شخصوں کا دوسرے کو امام جمعہ مقرر کرنا صحیح نہ ہوگا اور وہاں نماز جمعہ ادا نہ ہوسکے گی۔
(۹)شر پیدا کرنا کسی کو کسی کے مقابل جائز نہیں اور دینی معظم کی بلاوجہ شرعی مخالفت اور پر شر ہے ہاں جو فقط دنیوی وجاہت رکھتا ہو اسے معزز اور اس کے مقابل اور مسلمانوں کو معمولی مسلمان کہنا یہ بھی جائز نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۱۸۲: مسئولہ سید کمال الدین احمد صاحب جعفری وکیل ہائیکورٹ الہ آباد ۲۹محرم ۱۳۳۲ھ
عید گاہ یا مسجد میں وعظ یا چندہ اسلامی مذہبی کاموں کے لئے کرنا عام مسلمانوں کو جائز ہے اور متولی کو اس کے روکنے کا حق ہے یانہیں؟
الجواب:
مسجد میں کارخیر کےلئے چندہ کرناجائز ہے جبکہ شور وچپقلش نہ ہو خود احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے،مسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہو اور نماز کا وقت نہ ہو،ان دونوں باتوں کو کہ منکرات سے خالی ہوں متولی یاکوئی منع نہیں کرسکتا ہے،ہاں اگر چندہ امر شر کے لئے ہو اگرچہ اسے کیسے ہی امر خیر کہا جائے جیسے نیچریوں کے کالج یا وہابیوں کے مدرسہ کے لئے یااس میں شور وغل ہو یاواعظ بدمذہب یا بے علم یا روایات موضوع کا بیان کرنے والا ہو یا لوگ نماز پڑھ رہے ہوں اور اس نے وعظ شروع کردیاکہ ان کی نماز میں خلل آتا ہو تو ایسی صورت میں متولی اور ہر مسلمان کو روك دینے کا اختیار ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۳:ازموضع منصور پور متصل ڈاکخانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیٹری ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خاں ۳۰محرم ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك دیوار شمال وجنوب کی ہے اس کی بنیاد سے ملا کر کسی قدر اونچائی مثل چبوترہ قائم کیا گیا اور اس دیوار پر چھپر رکھواکر وہ جگہ نماز کے واسطے مخصوص کردی گئی چنانچہ جگہ مذکور پر بلانا غہ اذان ونماز ایك مدت سے ہورہی ہے یہاں تك کہ نماز جمعہ بھی ہوتی ہے منبر لکڑی کا برائے خطبہ جگہ معینہ پر موجود ہے،بایں صورت فرمائے کہ اس کو مسجد کیا جائے یا کیا؟
الجواب:
مالك زمین نے اگر کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا اور اس میں نماز پڑھ لی گئی تو وہ مسجد ہوگئی اگرچہ اس میں عمارت اصلا نہ ہو خالی ہو،یونہی اگر اس کے کلام سے مسجد کردینے پر دلالت پائی گئی مثلًا کہا میں نے یہ زمین مسلمانوں کی نماز کےلئے کردی کہ ہمیشہ اس میں نماز ہواکرے جب بھی مسجد ہوجائیگی اور اگر ایك مدت خاص کی تحدید کی مثلًا سال دو سال نماز پڑھنے کے لئے دیتا ہوں تو مسجد نہ ہوگی،اور اگر زبان سے لفظ نہ ہمیشہ کا کہا نہ کسی وقت محدود کا تو دل میں اگر نیت ہمیشہ کی ہے مسجد ہوگئی ورنہ نہیں،عالمگیری میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ،فھذاعلی ثلثۃ اوجہ احدھا اما ان امرھم بالصلٰوۃ فیہا ابدانصا بان قال صلوافیہا ابدا، اوامر ھم بالصلٰوۃ مطلقًا ونوی الابد،ففی ھٰذین الوجھین صارت الساحۃ مسجدالومات لایورث عنہ، واما ان وقت الامر بالیوم اوالشھر او السنۃ ففی ھذا الوجہ لایصیر الساحۃ مسجد الومات یورث عنہ[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایك شخص کی خالی زمین پڑی ہوئی تھی جس میں کوئی عمارت نہیں اس نے لوگوں کو اس زمین میں باجماعت نماز پڑھنے کو کہا تو اس کی تین صورتیں ہیں(پہلی یہ کہ)اس نے امر نماز کی تابید کی تصریح کی ہو بایں طور کہ یوں کہا ہو کہ تم اس میں ہمیشہ نماز پڑھا کرو،یا(دوسری صورت یہ کہ)اس نے انہیں مطلقًا نماز پڑھنے کو کہا اور نیت ہمیشگی کی کرلی ان دونوں صورتوں میں وہ زمین مسجد ہوگئی اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری نہ ہوگی اور(تیسری صورت یہ ہے کہ)اگر اس نے امر نماز کو دن،مہینے یا سال سے مقیدکیا تو اس صورت میں وہ زمین مسجد نہ ہوگی اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۴: مسئولہ عبدالرحیم وکریم احمد صاحبان متولیان مسجد مچھلی بازار کان پور ۲۱صفر ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ مسجد مچھلی بازار کان پورفنڈ میں تین عنوانوں سے آیا ہے:
(۱)کچھ تو امدا د مجروحین ومقتولین کےلئے۔
(۲)کچھ مقدمہ مسجد کےلئے۔
(۳)کچھ حفاظت اور تعمیر حصہ منہدمہ مسجد کی غرض سے۔
اب بعد ختم ہوجانے مقدمہ کے اس کا صحیح مصرف از روئے شرع شریف کیاہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع