30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدرسہ دیوبند سے اشاعت ہورہا ہے اور جس کے آخر میں آپ کے دیوبند مولوی کا اعلان لکھا ہے کہ بندہ کی معرفت رسالہ"سیف النقی علٰی راس الشقی"بھی مل سکتاہے قیمت ۰۲ آنہ۔اورمولٰنا محمد اشرف علی صاحب وغیرہ بزرگان دین کی جملہ تصانیف بھی مل سکتی ہیں۔راقم بندہ سید اصغر حسین عفی عنہ مدرس مدرسہ اسلامیہ دیوبند ضلع سہانپور۔
اس اشاعت کی آپ کو اطلاع تو ظاہر مگر اس میں اس میں آپ کا شورٰی نہیں۔آپ کی شرکت ہے یا نہیں ؟ نہیں تو آپ کی رضا ورغٖبت ہے یا نہیں ؟ نہیں توآپ کو سکوت اور سکوت کا محصل اجازت ہے یا نہیں ؟ نہیں تو آپ نے کیا انسداد کیا؟ اور اس میں اپنی پوری قدرت صر ف کی یا بے پروائی برتی؟ برتقدیر اول اثرکیوں نہیں ہوتا؟ برتقدیر ثانی یہ بھی نیم اجازت ہے یا نہیں ؟
(۱۰)اسی عزیز،مقتدر،منتقم،متکبر عزجلالہ کی شہادت سے یہ بھی حسبۃاﷲ فرمادیجئے کہ حالات ومقالات جو ظفرالدین الجید تا اشتہار ہشتم ازنامہ حاضرہ مسمّٰی بہ ابحاث اخیرہ میں مذکور ہوئی سب حق وصواب ہیں یا ان میں سے کون سا خلاف واقع ہے؟ اور جب سب حق ہیں تومناظرہ کا طالب کون رہا اور برابر فرار برفرار،گریز برگریز پر کس نے قرار کیا؟ بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا(بیان کیجئے اجر پائے۔ت)
|
" رَبِّ احْکُمۡ بِالْحَقِّ ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪" [1]۔ |
اے میرے رب! حق فیصلہ فرمادے۔اور ہمارے رب رحمان ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بناتے ہو(ت) |
جناب مولوی تھانوی صاحب! یہ دس سوال ہیں صرف واقعات یاآپ کے ارادہ وہمت سے استفسار یاصاف واضحات جن کا جواب ہر ذی عقل پر اشکار،بایں ہمہ جواب میں جناب کوتین دن کی مہلت دی گئی اگر جناب کے نزدیك یہ بھی کم ہے تو بے تکلف فرمادیجئے آپ جس قدر چاہیں فقیر توسیع کرنے کو حاضر ہے مگر جواب خود دیجئے،اب وکالت کا زمانہ گیا،وکلاء کا حال کھل گیا۔مدتوں جناب کو اختیار توکیل دیا کہ آپ گھبراتے ہیں تو جسے چاہیں اپنے مہر ودستخط سے اپنا وکیل بنائے،بار بار سائل واشتہارات میں اس کی تکرار کی مگر آپ نے خاموشی ہی اختیار کی،اور بالآخر چاندپوری صاحب محض بروز زبان خود بخود آپ کے وکیل بنے جس کا انجام وہ ہوا،کیاآپ عالم نہیں۔کیاآپ وضوح حق نہیں چاہتے؟ کیا آپ ان کلمات کے قائل نہیں ؟ کیا آپ پر خود اپنا تبریہ لازم نہیں ؟ آپ دوسروں کا سہارا چھوڑ ئے اور اﷲ کو مان کر تحقیق حق سے منہ نہ موڑئے،حیرانی و پریشانی میں عوام متقدین کادم نہ توڑئے،ہاں ہاں آپ سے مطالبہ ہے۔آپ پر مواخذہ ہے۔اورآپ جواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع