30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیر مجنون کے نزدیك قابل قبول ہوئی یا کوئی عاقل ایسے حضرات سے خطا روا رکھے گا۔
(۶)جلسہ دیوبند کے بعد جناب مولوی گنگوہی صاحب کے ایك شاگر رشید مولوی علی رضا مودی نے آپ حضرات سے مناظرہ کرلینے کی تحریك کی،انھیں فورًا لکھا گیا،یہاں تو برسوں سے یہی درخواست ہے،جناب گنگوہی صاحب اپنی راہ گئے،جناب تھانوی صاحب بھی انھیں کی راہ پر مہر برلب ہیں۔آپ ہی ہمت کیجئے اور تھانوی صاحب سے جواب لادیجئے،اس کے پہنچنے پر ان صاحب نے بھی ہمت ہاردی۔
(۷)اذناب جناب کے افتراء اعظم پر مسلمانوں نے پانچ سو روپے نقد کا اشتہار دیا اور آپ کو رجسٹری بھیجا،آپ نے نہ جواب دے سکے نہ ثبوت،
(۸)دوسرے اشدا فتراء نامہ پر تین ہزار روپے کا اشتہار آپ کو دیا اور رجسٹری بھیجا،اگر تمام جماعت سے کچھ بن پڑتی تو اپنے مدرسہ دیوبند کے لئے اتنی بڑی رقم نہ چھوڑی جاتی مگر نہ جواب ہی ممکن ہوا نہ ثبوت ناچار چارہ کار وہی سکوت۔
(۹)یہ ماناکہ جب جواب بن ہی نہ پڑے تو کیا کیجئے،کہا ں سے لائیے،کس گھر سے دیجئے،مگر جناب والا! ایسی صورتوں میں انصاف یہ تھا کہ اپنے اتباع کا منہ بند کرتے،معاملہ دین میں ایسی ناگفتنی حرکات پر انھیں لجاتے شرماتے،اگر جناب کی طرف سے ترغیب نہ تھی تو کم از کم آپ کے سکوت نے انھیں شہہ دی یہاں تك کہ انھوں نے"سیف النقٰی"جیسی تحریر شائع کی جس کی نظیر آج تك کسی آریہ یا پادری سے بن نہ پڑی یعنی میرے رسائل قاہرہ کے قرض اتارنے کایہ ذریعہ شنیعہ ایجا د کیا کہ میرے والد ماجد و جد امجد وپیر ومرشد قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ وخود حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اسمائے طیبہ سے کتابیں گھڑلیں،ان کے نام نہاد مطبع تراش لئے،فرضی صفحوں کے نشان سے عبارتیں تصنیف کرلیں جس کی مختصر جدول یہ ہے:

کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع