30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا ان تزل اللسان طول النھار وھذا غیر مقبول ومعقول،قال فی جامع الفصولین الفصل لثامن والثلثین"ابتلی بمصیبات متنوعۃ فقال اخذت مالی وولدی واخذت کذا وکذا فماذا تفعل ایضا وماذا بقی لم تفعلہ وما اشبھہ من الالفاظ کفر کذا حکی عن عبدالکریم فقیل لہ ارأیت لوان المریض قالہ وجری علی لسانہ بلا قصد شدۃ مرضہ،قال الحرف الواحد یجری ونحوہ قدیجری علی اللسان بلاقصد اشارہ الی انہ یحکم بکفرہ ولایصدق [1]"اھ فاذا لم یصدق فی نصف سطر کیف یصدق فیما کر رہ مناما ویقظۃ طول النھار بل ھو قطعا مسرف کذاب الم تران ا ﷲ تعالٰی جعل الجسد تحت ارادۃ القلب قال نبینا الحق المبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم"الا ان فی الجسد مضغۃ اذاصلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی
|
تو نہیں ہوگا کہ سارادن زبان کنٹرول میں نہ رہے،ایساہونا غیر مقبول وغیر معقول ہے،جامع الفصولین کی اڑتیسیویں فصل میں ہے ایك شخص مختلف مصائب میں مبتلا ہوا اور وہ کہتاہے(اے اللہ!)تو نے میرا مال،میری اولاد اور یہ یہ چھین لیا اس کے بعد اور کیا کرے گا،اور باقی رہ ہی کیا گیا جو تونے نہیں کیا،اور اس کی مثال دیگر الفاظ کہے تویہ کفر ہے۔اسی طرح شیخ عبدالکریم سے منقول ہے کہ ان سے سوال ہواکہ ایك مریض کی زبان سے شدت مرض کی وجہ سے بلاقصد ایسا کوئی کلمہ جاری ہوجائے وتو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ایسا اگر کوئی حرف بھی جاری ہوجائے خواہ بلاقصد ہو تو اس پر کفر کا حکم ہی جاری کیا جائے گا اور زبان بہکنے کا عذر سچا نہ سمجھا جائے گا اھ جب نصف سطر میں اس کی بات نہیں مانی جائے گی تو وہاں کیسے تصدیق جائز ہوگی جب جواب میں اور سارادن بیداری میں ایسا بکتا رہابلکہ یہ شخص تو یقینا ظالم،زیاتی کرنے والا اور کذاب وجھوٹا ہے،کیا تمھارے علم میں نہیں الله تعالٰی نے جسم کو ارادہ بدل کے تابع بنا رکھاہے حق واضح فرمانے والے ہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:سنو جسم میں ایك گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست رہے تو تمام جس درست رہتاہے اگروہ بگڑ جائے تو تمام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع