30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البیت النبوی والسرالعلوی لا یخرجہ عن ذٰلك عظیم جنایتہ ولا عدم دیانتہ وصیانتہ ومن ثم قال بعض المحققین ما مثال الشریف الزانی او الشارب او السارق مثلًا اذا اقمنا علیہ الحد الا کامیر اوسلطان تلطخت رجلاہ بقذر فغسلہ عنھما بعض خدمہ ولقدبر فی ھذا المثال وحقق ولیتأمل قول الناس فی امثالھم الولد العاق لا یحرم المیراث نعم الکفران فرض وقوعہ لاحد من اھل البیت والعیاذ باﷲ تعالٰی ھو الذی یقطع النسبۃ بین من وقع منہ وبین شرفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما قلت ان فرض لا ننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفر لا تقع ممن علم اتصال نسبہ الصحیح بتلك البضغۃ الکریمۃ حاشا ھم اﷲ من ذٰلك و قد احال بعضھم وقوع نحو الزنا واللواط ممن علم شرفہ فما ظنك بالکفر[1] |
علوی حضرات کی طرف معلوم ہے تو اس کی بڑی جنایت اور عدم دیانت وصیانت اس کو اس نسبت سے خارج نہ کرے گی، اس بات کی بناء پر بعض محققین نے فرمایا زانی یا شرابی یا چو رسید پر حد قائم کرنے کی مثال صرف یہی ہے جیسے امیر یا سلطان کا کوئی خادم اس کے پاؤں پر لگی نجاست کو صاف کرے،اس مثال کو غور سے سمجھا جائے اور لوگوں کی اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ نافرمان اولاد وراثت سے محروم نہیں ہوتی،ہاں اگر ان حضرات سے کفر کا وقوع فرض کیا جائے، والعیاذ باﷲ،تو اس سے وہ نسبت منقطع ہوجائے گی،میں نے صرف فرض کرنے کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ مجھے جزم کی حد تك یقین ہے کہ جو صحیح النسب سید ہو اس سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوسکتا اﷲ تعالٰی ان کو اس سے بلند رکھے،بعض نے ان سے زنا اور لواطت جیسے افعال کو بھی محال کہا ہے بشرطیکہ ان کی نسبی شرافت یقینی ہو تو پھر کفر کے متعلق تیرا کیا خیال ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع