30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
داؤد وسلیمٰن الاٰیۃ وبینھم وبینہ قرون کثیرۃ فلا یرید ذٰلك مثل علی الرضا مع فصاحتہ ومعرفتہ لغۃ العرب علی ان التقلید بالطائع یبطل خصوصیۃ ذریتھا ومحبیھا الا ان یقال ﷲ تعذیب الطائع فالخصوصیۃ ان لا یعذ بہ اکراما لھا واﷲ اعلم [1]،۱ھ مختصرا و رأیتنی کتبت علی ھا مش قولہ الا ان یقال ما نصہ۔ اقول: ولا یجدی فان الوقوع ممنوع باجماع اھل السنۃ واما الامکان فثابت عند من یقول بہ الی خلاف ائمتنا الماتریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم فانھم یحیلونہ وقد تکلمت فی مسئلۃ علی ھامش فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت لبحرا لعلوم بما یکفی ویشفی فانی اجدنی فیھا ارکن وامیل الی قول ساداتنا الاشعریۃ رحمھم اﷲ تعالٰی و رحمنا بھم جمیعا واﷲ اعلم بالصواب فی کل باب۔ |
زبان میں ایك پیٹ کی اولاد کے لئے خاص نہیں،جیسے آیہ کریمہ ومن ذریتہ داؤد سلیمٰن ہے،حالانکہ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور داؤد و سلیمٰن علیہما السلام کے درمیان کئی قرون کا فاصلہ ہے،لہٰذا علی رضا اپنی فصاحت اور عربی لغت کی معرفت کے باوجود یہ خاص مراد نہیں لے سکتے،علاوہ ازیں نافرمان کی تقلید حضرت زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی اولاد کی خصوصیت کو باطل کردیتی ہے،مگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالٰی کو نافرمان کی تعذیب کا اختیار ہے لیکن حضرت زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے اکرام کے لئے اُسے ۱؎ عذاب نہیں دیتا،واﷲ تعالٰی اعلم ۱ھ مختصرًا۔میں نے زرقانی کے قول"الا ان یقال" پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول:(میں کہتا ہوں)ان کا یہ بیان مفید نہیں ہے عذاب کا وقوع تو باجماع اہلسنّت ممنوع ہے،باقی رہا امکان تو یہ اس قائل کے ہاں ثابت ہے جو ہمارے ائمہ ماتریدیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے خلاف ہے کیونکہ یہ ائمہ محال سمجھتے ہیں،میں نے اس مسئلہ پر کتاب مسلم الثبوت کی شرح بحرالعلوم فواتح الرحموت پر حاشیہ میں کافی اور شافی بحث کی ہے میں نے وہاں اپنے کو سادات اشعریہ رحمہم اﷲ کے قول کی طرف مائل پایا،اﷲ تعالٰی ہم سب پر رحم فرمائے۔(واﷲ تعالٰی اعلم) |
فتاوٰی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:
|
اذا تقرر ذٰلك فمن علمت نسبتہ الٰی اٰل |
تو جب یہ ثابت ہوا تو جس کی نسبت اہلبیت نبی اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع