30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من ادعی النبوۃ فی زماننا او صدق مدعیا لھا او اعتقدنبیا فی زمانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوقبلہ من لم یکن نبیا کفر ۱ھ ملخصًا[1] |
جو ہمارے زمانے میں نبوت کا مدعی ہو یا دوسرے کسی مدعی کی تصدیق کرے یا حضور کے زمانے میں کسی کو نبی مانے یا حضور سے پہلے کسی غیر کو نبی جانے کافر ہوجائے ۱ھ ملخصًا۔ |
امام غزالی: امام حجۃ الاسلام محمد محمدمحمدغزالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں:
|
ان الامت فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص[2] |
یعنی تمام امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا الصلوٰۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجئے اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے برّانے بکنے کے قبیل سے ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ وہ آیت قرآن کی تکذیب کررہا ہے جس میں اصلًا تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امتِ مرحومہ کا اجماع ہوچکا ہے۔ |
بحمد اﷲ یہ عبارت بھی مثل عبارت شفاء و نسیم تمام طوائف جدیدہ قاسمیہ وامیریہ خذلہم اﷲ تعالٰی کے ہذیانات کا رد جلیل وجلی ہے آٹھ آٹھ سو برس بعد آنے والے کافروں کا رد فرما گئے،یہ ائمہ دین کی کرامت منجلی ہے۔
غنیۃ الطالبین: غنیۃ الطالبین شریف میں عقائد ملعونہ غلاۃ روافض کے بیان میں فرمایا:
|
ادعت ایضاان علیا نبی(الی قولہ رضی اﷲ |
یعنی غالی رافضیوں کا یہ دعوٰی بھی ہے کہ مولا علی نبی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع