30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مروان الحمار و تبعہ کثیر من الیہود وکان من مذھبہ تجویز حدوث النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(وکاکثر الرافضۃ القائلین بمشارکۃ علی فی الرسالۃ للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبعدہ کالبزیغیۃ والبیانیۃ منھم)وھم اکفر من النصاری و اشد ضررا منھم لا نھم بحسب الصورۃ مسلمون ویلتبس امرھم علی العوام (فٰھٰؤلاء) کلھم(کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاٰنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخبر انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علٰی ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد منہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شك فی کفر ھٰؤلاء الطوائف کلھا قطعًا اجماعًا وسمعًا)[1] ۱ ھ مختصرًا۔ |
اس کے تابع ہوگئے،اس کا مذہب تھا کہ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد نئی نبوت ممکن ہے اور جیسے بہت رافضی کہ مولا علی کو رسالت میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا شریك اور حضور کے بعد انہیں نبی کہتے ہیں اور جیسے رافضیوں کے دو فرقے بزیغیہ و بیانیہ،ان لوگوں کا کفر نصارٰی سے بڑھ کر ہے اور ان سے زائد ان کا ضرر کہ یہ صورت میں مسلمان ہیں ان سے عوام دھوکے میں پڑجاتے ہیں یہ سب کے سب کفار ہیں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تکذیب کر نے والے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور خبر دی کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں اور اپنے رب عزوجل سے خبر دی کہ وہ حضور کو خاتم النبیین اور تمام جہان کی طرف رسول بتاتا ہے اور امت نے اجماع کیا کہ یہ آیات و احادیث اپنے معنی ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے خدا اور رسول کی یہی مراد ہے نہ ان میں کچھ تاویل ہے نہ تخصیص،تو کچھ شك نہیں کہ یہ سب طائفے بحکم اجماع امت وبحکم حدیث وآیت بالیقین کا فر ہیں۔ |
منکران ختم نبوت کے طریقے:
الحمد ﷲ اس کلام رشید نے ولید پلید وروافض بلید و قاسمیہ جدید و امیر یہ عــــــہ طرید کسی مردود و عنید کا تسمہ نہ لگا وﷲ الحجۃ السامیہ،
عــــــہ: اسی طرح طائفہ مرزائیہ متبعان غلام احمد قادیانی کہ سب سے تازہ ہے یہ بھی مرزا کو مرسل من اﷲ کہتا ہے اور خود مرزا اپنے اوپر وحی اترنے کا مدعی ہے اپنے کلام کو کلام الٰہی ومنزل من اﷲ(باقی برصفحہ آئندہ)
[1] کتاب الشفاء للقاضی عیاض،فصل فی بیان ما ھو من المقالات،مطبعۃ شرکۃ صحافیہ،۲/ ۷۱۔۲۷۰،نسیم الریاض شرح شفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات دارالفکر بیروت،۴/ ۵۰۶ تا ۵۰۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع